کراچي… سندھ اسمبلي کي تاريخي عمارت کوثقافتي ورثہ قرارديا جاچکاہے.ليکن اسمبلي بلڈنگ ميں غيرقانوني تعميرات جاري ہيں اورمحکمہ ثقافت کے نوٹس بھيجنے کے باوجودسيکريٹري اسمبلي چپ سادھے ہوئے ہيں. سندھ اسمبلي جہاں غير قانوني تعميرات اور تجاوزات کے خلاف قانون سازي کي جاتي ہے، پاکستان بننے سے پہلے کي اس اسمبلي بلڈنگ کوطرز تعمير کي وجہ سے ثقافتي ورثہ قراردياجاچکا ہے، ليکن قانون سازي کے ايوان کي حدود ميں ہي غيرقانوني تعميرات کا سلسلہ جاري ہے. محکمہ قانون کے دفاترميں تاريخي فرش، زرد پتھروں سے بني نقش و نگار والي ديواروں اورقيمتي لکڑي کے دروازے اکھاڑديئے گئے ہيں. محکمہ ثقافت نے سندھ اسمبلي،محکمہ قانون اورورکس اينڈ سروسز کے سيکريٹريزکونوٹس بھيج ديئے ہيں ليکن تاريخي اور ثقافتي ورثے کو بچانے کيلئے نا تو متعلقہ حکام توجہ دے رہے ہيں اور نہ ہي سندھ اسمبلي کي چھت تلے اقتدار کے مزے لوٹنے والے ارکان اسمبلي سنجيدہ ہيں. سيکريٹري اسمبلي کي نگاہوں سے يہ غيرقانوني تعميرات اوجھل ہيں ياپھرانہوں جان بوجھ کر صرف نگاہ کيا ہوا ہے ليکن حقيقت يہ ہے کہ يہ تعميرات قابل سزا جرم ہيں.