Results 1 to 2 of 2

Thread: اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے


    اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
    مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

    محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا
    مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے

    ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ
    یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے

    بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں
    سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے

    ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا
    سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے

    حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا
    کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے

    بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
    کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے

    فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
    یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    May 2012
    Location
    Karachi
    Age
    33
    Posts
    607
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    6

    Default Re: اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

    lovely

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •