Results 1 to 2 of 2

Thread: Jazbat Ki Ro

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Jazbat Ki Ro


    جذبات کی رو

    پر کس نے کہا کہ دنیا ایک ہی ہے؟جب Leevwenhoekنے پہلی مرتبہ تالاب کے گدلے پانی کو خوردبین کے نیچے دیکھا تو اسے پانی کا کوئی قطرہ نظر نہیں آیا(اور ہمارے معترضین یقیناًاس پر برا نگیختہ ہو جائیں گے کہ بھلا ایسی شئے بنا نے کا فائدہ جو پانی کا قطرہ جیسی معمولی چیز نہ دیکھ سکے)۔پر اسنے کچھ اور دیکھ لیا۔ایک بہت بڑی دنیا جس میں ہزاروں،لاکھوں microbes تھے۔۔۔ وجود جو زندگی کے ہر معانی میں زندہ تھے ۔ اس دنیا کے اپنے خواب تھے، اپنی عمر تھی،اپنے قوانین تھے۔۔۔تو ہم کہ سکتے ہیں کہ اسنے ایک دوسری دنیا دریافت کر لی تھی۔ اور یہ دریافت یقیناًکولمبس کے امریکہ سے اہم تھی۔

    تو ایک دنیا نہیں ہے بہت سی دنیائیں ہیں۔ اور میں صرف یہ کہتا ہوں کہ کسی ایک دنیا میں وہ سارے عکس،وہ سارے تصورات، وہ سارے خواب بہرحال رہتے ہیں۔ اور میں نہیں جانتا کہ ان کی زندگی کیسی ہے۔۔۔سارا دن ساحلِ سمندر پر اچھلتے بچوں کی طرح پرجوش یا پھر ہمہ وقت اپنے فلیٹ کے اندھیروں میں چھپے قنوطی فلسفیوں کی سی خاموش۔یا شاید وہ ہماری طرح ہی ہوں گے۔ ایک ہی وقت میں خوش،ناراض،پرامید،بیزار اور سب کچھ۔جیسے یہ حالتیں ہر وقت ہمارے اندر ہوتی ہیں بس ان کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔کوئی ایک جذبہ dominateتو کر سکتا ہے مگر ہم نہیں کہ سکتے کہ کبھی بھی باقی جذبات معدوم ہو جاتے ہیں۔

    آپ شدید سے شدید ترین صورتحال کو ذہن میں لے آیئے۔غالبا وہ لمحہ ایک اچھی مثال ہو سکتا ہے جب آپ غصے سے بے قابو ہوئے جا رہے تھے۔آپ کی آنکھیں خون کی طرح گہری سرخ ہو رہی تھیں۔ بار بار آپ چیزیں اٹھا کر پھینک رہے تھے۔ آپ کے بیوی بچے کہیں کونوں میں دبک چکے تھے۔۔۔ایسی حالت میں۔۔۔ایسی حالت میں بھی آپ کے ذہن میں دوسرے خیالات منڈلاتے ہیں۔جیسے یہ احساس کہ میں چیزیں اٹھا کر پھینک تو رہا ہوں مگر کوشش کروں گا کہ اس کی زد میں میراBig screen TVنہ آ جائے۔۔۔نہیں،ایک لاکھ روپے کا ٹیلی ویژن بہرحال میرے غصے کے اظہار سے زیادہ قیمتی ہے۔ یا پھر جیسے یہ احساس کہ مجھے تو درحقیقت غصہ آ ہی نہیں رہا ہے۔ پر اگر میں نے اس بات پر بھی غصہ نہ کیا تو اس گھر میں میری کیا حیثیت رہ جائے گی۔ لوگ تو مجھے روندتے ہوئے گذر جایا کریں گے۔ تو مجھے ہر حال میں اپنی گردن کی رگیں پھلانا ہوں گی اور حلق سے وحشیانہ آوازیں نکال کر (جن سے میں خود بھی ڈرا جاتا ہوں)دوسروں کو خوفزدہ کرنا ہو گا۔

    تو جذبات کی رو میں بہنا کوئی چیز نہیں ہوتی۔یہ تو ایک فکشن ہے جو نوجوان جوڑوں نے اپنی غیر اخلاقی حرکات کی توجیہ کے طور پر گھڑ رکھی ہے(ہم اس پر یقین کرتے ہیں تو اسلئے کہ کبھی ہم بھی تو جوان تھے)۔یقین کیجئے کہ انتہائے جذبات کی گھڑیوں مثلاLovemakingکے سے عمل کے دوران بھی ہم جذبات کی رو میں نہیں بہتے۔ہمیشہ ہمارے کان ادھر ادھر سے اٹھنے والی آوازوں پر لگے رہتے ہیں۔ہمار ا ذہن ایک دوسرے کوزیر کرنے کے نئے نئے طریقے سوچ رہا ہوتا ہے۔حتی کہ خاتون کے ہونٹ چومتے ہوئے آپ گھٹیا سی لپ اسٹک کا ذائقہ بھی اپنے حلق میں اترتا محسوس کرتے ہو۔۔۔تو جب آپ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں محسوس کر سکتے ہو تو پھر وہ جذبات کی رو کیا ہوئی؟جب آپ مقابل کی بدبودار سانس یا کرسی کے پہلو سے نکلنے والے کیل جیسی حقیر چیزوں کے وجود سے آگاہ ہوتے ہو تو پھر آپ کو اخلاقی قوانین سے آزاد کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟تو جذبات کی رو کی حقیقت ہے تو بس اتنی کہ ہم ان لمحات سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کی خاطر خود پر یہ کیفیت طاری کر لیتے ہیں۔

    اب بہت سے لوگوں کو Lovemakingوالی مثال کے ضمن میں تو میری وضاحت یقیناًسمجھ میں آ گئی ہو گی مگر غصے میں کیسا لطف،کہاں کا مزا؟ایسا نہیں ہے۔غصے سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔سب سے پہلے تو وہ سرخروئی کا احساس جو سینما میں اپنا پہلا شو دیکھتے کسی ہیروئن کو ہوتا ہوگا۔ لوگ اپنی سیٹوں پر اچھل اچھل کر ناچ رہے ہوتے ہیں اور کوئی جذباتی سین آ گیا تو عورتیں دوپٹے سے آنسو پونچھنے لگ جاتی ہیں۔۔۔اگر ان سب کو خبر ہو جاتی کہ ہیروئن تو بس ایک عام سی لڑکی ہے جو یہیں اپنی سیٹ میں دھنس کر بیٹھی ہے اور جسے سکول میں بھدی آواز کا طعنہ سننا پڑتا تھا تو سار ا فسوں ٹوٹ جاتا۔تو غصے کی حالت میں پہلا لطف اپنے سحر کے مکمل ہونے کا ہوتا ہے۔اب دوسرے صرف وہی دیکھ سکتے ہیں جو آپ دکھانا چاہتے ہو۔ اب کوئی آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر روح میں چھپے راز نہ جان پائے گا۔ اور پھر غصے میں خون تیزی سے گردش کرنے لگتا ہے،جسم میں توانائی سی بھرنے لگتی ہے۔آپ لوگوں کو جو چاہو کہ ڈالتے ہو۔اور ایسی حالت میں وہ سچ بھی سامنے آ جاتے ہیں جنہین چھپانے میں لوگ عمریں گذار دیتے ہیں(پر کوئی اس پر اچنبھے کا اظہار نہیں کرتا کیونکہ انہیں خود بھی تو غصے کے دوران اپنے من کا بوجھ ہلکا کرنا ہوتا ہے)۔تو دل سے بوجھ ہٹ جاتا ہے۔ ہم بے وزنی کی سی حالت میں ہوا پہ تیرتے پھرتے ہیں اور Levitationکب انسانیت کا خواب نہیں رہی۔a

    سید اسد علی کی کتاب " شہرِ حقیقت میں کہانی لکھنا " سے ایک اقتباس
    Last edited by Hidden words; 04-08-2012 at 11:27 PM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: Jazbat Ki Ro

    aur ??

    nice sharing

    eq2hdk - Jazbat Ki Ro

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •