Results 1 to 3 of 3

Thread: Shaitan Se Ek Makalma

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Shaitan Se Ek Makalma


    شیطان سے ایک مکالمہ

    ’’تم کیا کہنا چاہتے ہو؟میں کیا کر سکتا ہوں۔ میں تو بالکل ہی بے حقیقت شخص ہوں‘‘

    ’’یہ تمہاری سوچ ہے۔۔۔۔۔۔بلکہ سچ کہوں تو یہ تمہاری سوچ نہیں ہے۔ اوپر سے تم جتنے مرضیhumbleبننے کی کوشش کرو مگر اندر سے تم خود کو بہت قیمتی سمجھتے ہو۔ اتنا قیمتی کہ جسے مارکیٹ میں لایا ہی نہ جا سکے۔تم نے اپنی arroganceکو کسرِ نفسی میں چھپا رکھا رکھا ہے مگر دل میں کہیں اپنی اصل قیمت سے پوری طرح آگا ہ ہو۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں کہ اس وقت تمہارے اندر بہت سے سر نفی میں ہل رہے ہیں مگر مجھے بتاؤ کہ اگر میں غلط ہوں تو کیا تم اپنیsoulکے بدلے میں دس لاکھ روپے لینا قبول کرو گے؟‘‘

    ’’تم مذاق کر رہے ہو۔یہ سب تو قصہ کہانیوں میں ہوتا ہے اصل میں یہ سودا اتنا سیدھا تھوڑا ہی ہوتا ہے؟‘‘

    ’’تم اس کی فکر نہ کرو۔۔۔۔ہمارے پاس اب کھیل تماشے کا وقت نہیں رہا۔میں تمہاری soulکو اچھی قیمت پر خریدنے کیلئے تیار ہوں اگر تم بیچنا چاہتے ہو تو؟‘‘

    ’’مجھے کرنا کیا ہو گا؟‘‘

    ’’جب ایک دفعہ تم اپنی soulہمیں بیچ دو گے تو پھر تو تم وہ سب کچھ کرو گے جو میں تمہیں کہوں گا۔پر ابھی تو تم نے کہا کہ تمہاری زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے تو پھر یہ سب کتنا برا ہو سکتا ہے؟‘‘

    ’’میں نہیں جانتا۔۔۔۔پر میں کسی ایسی چیز کیلئے کبھی ہاں نہیں کر پاؤں گا۔‘‘

    ’’تو میں صحیح تھا نہ۔۔۔۔۔تم سمجھتے ہو کہ تم اتنے بلند ہو کہ تمہیں مارکیٹ میں لایا ہی نہیں جا سکتا۔ لیکن میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ تم غلط ہو۔تم دنیا کی سب سے خوبصورت چیز کو بھی وقت کی الماری میں بند پڑے رہنے دو تو اسکی کوئی قیمت نہیں ہوتی نہ دنیا کی آنکھوں میں ، نہ شیطان کی آنکھوں میں اور نہ ہی خدا کی آنکھوں میں۔۔۔۔۔۔۔یہ مارکیٹ ہی ہے جہاں یہ سب بڑے لوگ خریداری کرتے ہیں۔اور اس مارکیٹ کی کرنسی خواہش ہے۔میں ان لوگوں کے خلاف نہیں ہوں جو اپنی روحوں کو صرف اسلئے مارکیٹ میں نہیں لاتے کیونکہ وہ انہیں استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔میں ان کی عزت کرتا ہوں اور سب عزت کرنے والے ان کی عزت کرتے ہیں لیکن تم کیا ہو۔۔۔۔۔اپنی طرف دیکھو تو سہی۔آخری مرتبہ کب تم نے اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کیا تھا؟تم تو بس وقت کے بہتے تختوں پر سفر کر رہے ہو۔تمہیں اپنی free willکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تمہیں روح کی ضرورت نہیں ہے۔یہ مارکیٹ تمہارے ہی جیسے لوگوں کیلئے سجائی گئی ہے اور ہم بہت اچھی قیمت بھی دیتے ہیں۔‘‘

    ’’نہیں ۔۔۔۔۔میں اپنی روح شیطان کو نہیں بیچوں گا۔‘‘

    ’’ٹھیک ہے۔میں تمہارے فیصلے کی عزت کرتا ہوں۔۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے کہ شیطان کی سب سے اچھی بات ہی یہی ہے کہ وہ انسانوں اور انہیں ودیعت کردہ free willکی عزت کرنا جانتا ہے۔اس کے مقابلے میں خدا کو لے لو۔۔۔۔۔وہ تمہاری کوئی پروا نہیں کرتا۔اسنے تمہیں بنایا بھی اسلئے کہ تمہیں پھر سے توڑ سکے۔اسنے تمہیں self respectدی تو صرف اسلئے کہ تم اس ذلت کی شدت کو محسوس کر سکو جو وہ اسکے بعد تم پر اتارے گا۔اسنے تمہیں خاندان کی محبت دی تاکہ جب وہ ان لوگوں کو تم سے چھینے تودرد کے نشتر تمہارا کلیجہ پھاڑ کر رکھ دیں۔۔۔۔۔۔وہ بہت ظالم ہے اور ایک شیطان ہے جس کے رواں رواں سے رحم پھوٹتا ہے۔۔۔۔۔اور لوگ ہیں کہ مجھ پر اعتبار نہیں کرتے۔صرف اسلئے کہ تمہارے مصوروں نے میری تصویر وں میں بیکار سے سینگ بنا رکھے ہیں اور ایک نارنجی سی دم بھی لگا دی ہے۔۔۔۔اب کوئی ایسی دم والے وجود پر کیسے اعتبار کر پائے گا؟

    تو میں نہیں کہتا کہ مجھ پر بھروسہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ اپنے دل کی سنو اور اپنے اندر کی منطق کو سنو۔۔۔۔۔بس اور کچھ نہیں۔اپنے آپ پر بھروسہ کرو۔مجھے کوئی گلہ نہیں تم میرے پاس نہ آؤ۔اگر تمہیں خدا سے اتنی ہی محبت ہے تو اسکے پاس چلے جاؤ۔۔۔۔۔بس اپنی زندگی کو ضائع نہ کرو۔۔۔۔۔میں ایک مہربان دل رکھتا ہوں اور نہیں دیکھ سکتا کہ کس طرح تم لوگ ایک کے بعد ایک اپنی زندگیاں ضایع کئے جاتے ہو۔میں تمہاری قیمت جانتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم اپنا بہترین استعمال کر سکو۔میں کہانی کی اس دوسری عورت کی طرح ہوں جو بادشاہ سے یہ کہتی ہے کہ بچے کے دو ٹکڑے نہ کرو اسے اس کی اصل ماں کو دے دو اور میں خوش ہو جاؤں گی۔۔۔۔۔۔بس ایک وعدہ کرو کہ تم خدا کے پاس ضرور جاؤ گے۔‘‘

    ’’میں نہیں جانتا۔۔۔۔‘‘

    ’’تم نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔۔تم اپنے دل میں سب جانتے ہو۔پر سچ بتاؤں ۔۔۔۔۔تم اپنے دل میں سوچتے ہو کہ تم اتنے قیمتی ہو کہ تمہیں خدا کو بھی کیوں دیا جائے۔۔۔۔۔تم اس پاکباز عورت کی طرح ہو جو اپنی پاکبازی کی ساری زندگی بڑے التزام سے حفاظت کرتی ہے اور آخر میں جب وہ اکیلی رہ جاتی ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکبازی تو کوئی ایسی چیز تھی ہی نہیں جس کی حفاظت کی جاتی۔خدا نے عورتوں کو یہ بھرپور جسم اسلئے تو نہیں دیے کہ وہ انہیں سات پردوں میں چھپا کر رکھیں۔۔۔۔۔پاکبازی توایک relativeچیز تھی اور اسے اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے تھا۔تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔اسنے تمہیں free willاسلئے نہیں دی کہ تم اسے خدا کے سامنے سرنڈر کر دو اور کوئی فیصلہ نہ کر کر اسے گلنے سڑنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں جناب۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے کہ اسنے یہ free willپہاڑوں کو دی تھی اور وہ یہ کہتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ ہم یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے اور ایک تم بیوقوف تھے جو اس بوجھ کو اٹھانے پر رضامند ہو گئے۔اب کچھ کرو اسکے ساتھ۔ اور اگر تم نہیں جانتے کہ تم کیا کر سکتے ہو تو مجھے دے دو اور میں تمہیں دکھا تا ہوں کہ کیا کیا جا سکتا ہے۔

    سید اسد علی کی کتاب جونک اور تتلیاں سے ایک اقتباس
    Last edited by Hidden words; 04-08-2012 at 11:56 PM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: Shaitan Se Ek Makalma


    eq2hdk - Shaitan Se Ek Makalma

  3. #3
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default re: Shaitan Se Ek Makalma

    good..........
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - Shaitan Se Ek Makalma

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •