Results 1 to 2 of 2

Thread: Sur Bansuri Mai Nahi Hain

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Sur Bansuri Mai Nahi Hain


    سر بانسری میں نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عائیشہ کو پہلی بار موقع ملا کہ وہ اتنے بہت سے لوگوں کو محسوس کر سکے۔لیکن اسنے انہیں ایک اداس کردینے والی روشنی میں دیکھا۔جیسے آپ سرخ شیشوں کی عینک پہن کر گھر سے نکلوتو ساری کائنات سرخ دکھائی دینے لگتی ہے ویسے ہی اسنے ان سارے لوگوں کو اس طرح دیکھا کہ موت کے سائے ان پر منڈلا رہے تھے اور وہ لوگ موت سے بچنے کیلئے سمٹ سمٹ جاتے تھے۔ہر اس شئے کو تھامنے کی کوشش کرتے تھے جو ان کے راستے میں آتی تھی۔اسے لگتا تھا جیسے شہر میں کوئی Rhodeoآ گیا ہواور عام لوگ بھینسوں پر چڑھ کر دیکھ رہے ہوں کہ وہ کتنی دیر تک اس غصیلے اور طاقتوربھینسے سے چمٹے رہ سکتے ہیں۔یہ صرف وقت کی بات ہے وگرنہ ایک محدود عرصے میں سبھی کو پھینک دیا جائے گا۔۔۔۔۔منظر یہی رہے گا بس it's just a matter of time۔ہر ایک اپنی پوری کوشش کرے گا۔ہر ایک پرجوش ہو گا اور آخر میں ہر ایک کو زمین پر پٹخ دیا جائے گا۔

    تو اسکا کام انکی مدد کرنا تھا۔جیسے کسی کے پاس تھوڑی سی طاقت ہو کہ وہ بھینسےکو distractکر سکے۔۔۔۔اسکے غصے کو مدھم کر سکے۔اسے سب کچھ نہیں پتہ تھا بس کچھ چیزوں کا علم تھا۔لیکن عجیب بات یہ تھی کہ لوگ اس پر بہت اعتماد کرتے تھے۔اس سے بہت امید کرتے تھے۔اسنے میڈیکل سکول میں برسوں لگائے مگر اب بھی انسانی جسم اسکے لئے ایک معمہ ہی تھا۔لیکن لوگوں کو جیسے لگتا تھا کہ وہ معجزات کرنے پر بھی قادر ہے۔

    شروع شروع کا مہینہ خاصا excitingتھا۔وہ اس بچی کی طرح پرجوش تھی جو کھیل کے دوران ڈاکٹر کا بھیس بدلے ہوئے ہواور کوئی اسے پہچان نہ پا رہا ہو۔ایک چھوٹی سی لڑکی کو بس ایک سفید گاؤن مل گیا تھاجسے اسنے پہن لیا تھااور اب ہر ایک اسے ڈاکٹر سمجھ رہا تھا۔اس کے سوا ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ ڈاکٹر ہی ہے۔اور پھر عجیب بات ہونے لگی۔چھوٹی چھوٹی عام چیزیں جو اسنے میڈیکل سکول میں سیکھی تھیں انہوں نے معجزات کرنے شروع کر دیے۔لوگ سینکٹروں کی تعداد میں اسکے پاس لائے گئے کچھ اس طرح کہ وہ تکلیف سے کراہ رہے تھے۔لیکن اسکی ایک دوا سے وہ پرسکون ہو گئے۔اس شئے نے اسے وہ اعتماد دیا جو ہمیں ان ڈاکٹروں میں نظر آنے لگتا ہے جنہوں نے تھوڑا سا وقت اپنے مریضوں کے ساتھ گذار لیا ہوتا ہے۔وہ بھی بدل گئی تھی۔

    گو اسے اپنی لاعلمی، اپنی حدوں کا احساس اب بھی شدت سے تھامگر وہ آہستہ آہستہ ایک کامیاب ڈاکٹر بنتی جا رہی تھی۔ اور ایسا صرف اسلئے تھا کہ وہ ایک چیز جان گئی تھی۔۔۔۔۔۔وہ جان گئی تھی کہ وہ بانسری نواز نہیں محض لکڑی کی ایک بانسری ہے۔ لکڑی کی وہ بانسری جو بڑی اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کی سطح اتنی کھردری ہے کہ نرم سر اس کی کوکھ سے پوٹھنا ناممکن ہیں ۔لیکن پھر کسی بانسری نواز کے ہونٹ اسے چھوتے ہیں اور ایسے سُر تخلیق ہوتے ہیں کہ ایک دنیا وجد میں آ جاتی ہے۔ سر لکڑی میں نہیں ، سر بانسری میں نہیں اور سچ کہوں تو سر بانسری نواز میں بھی نہیں ہیں۔ سُر تو ہواؤں میں ہیں اور اپنے اظہار کو وہ بانسری نواز، بانسری اور سننے والے کانوں کی تخلیق کرتے ہیں۔ہمار ا کام صرف اتنا ہے کہ ہم ‘‘ میں ’’ کے دھوکے سے نکل کر سچائی کو اپنے اندر بہنے دیں۔ اور یہی کام وہ کر رہی تھی۔ وہ ذاتِ بابرکت بڑی رحم دل ہے وہ ہر بیمار کو شفا دینا چاہتی ہے اسی لئے اسنے ہر بیماری کے ساتھ اسکی شفا کی تخلیق بھی کی، اسی لئے اسنے علمِ شفا کی تخلیق بھی کی،اسی لئے اسنے شفا کے عالموں کی تخلیق کی۔۔۔۔ سارا کام تو اسکا تھا عائیشہ تو بس ایک ہاتھ تھی جس کے پیچھے ساری طاقت کسی اور کی تھی۔

    سید اسد علی کی کتاب برفاب لمحوں میں محبت سے ایک اقتباس
    Last edited by Hidden words; 04-08-2012 at 11:38 PM.





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default re: Sur Bansuri Mai Nahi Hain

    nich.........
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - Sur Bansuri Mai Nahi Hain

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •