ھم سخن، ھمنشین
تیری قربت کی یہ مہرباں ساعتیں
کتنی رنگین و پر کیف ہیں
تیرا پیکر سراپا سرور
اور تو حسن فطرت کی تکمیل ہے
کیف و مستی کی تفسیر ہے
تیری زلفیں
بہاروں کی پرنم گھٹاؤں کی تصویر ہیں
تیری آنکھوں کی تعریف کے واسطے
جتنی تشبیہ اور استعارے ہیں سب
میری چشم تصور میں ناکام ہیں
تیرے شاداب ہونٹوں پہ کھلتی ہوئی
نرم و مخمور کن جلترنگ سی ھنسی
تیرے رخسار کی دلکشی اور گلگون بدن
تیرا ہر لوچ و خم اور عضو بدن
جیسے خیام کا فلسفہ
جیسے حافظ کی کوئی غزل
جیسے مہتاب راتوں کے پچھلے پہر
چشم عاشق میں کھلتا ہو کوئی کنول
تیرا پیکر تو
جیسے بہاروں کی تجسیم ہے
مختصر یہ کہ تو
باعث راحت جسم و جاں
وجہ تسکین قلب و نظر
حاصل زندگی
اور خوابوں کی تعبیر ہے

اور میں،
زندگی سے بھی بیزار اک شخص ہوں
میری حساس فطرت مرے واسطے
درد و آزار ہے کرب اور یاس ہے
میری چاروں طرف موت ہی موت ہے
ظلم ہے جبر ہے
آدمیت دریدہ بدن ، زخم سے چور ہے
امن کے نام پر جنگ ہے ،قتل ہے
بربریت کا یاں راج ہے
دیر و کعبہ کی تقدیس پامال ہے
چار جانب فلاست کے انبار ہیں
بھوک ہے پیاس ہے
کتنے معذور و مجبور و نادار ہيں
ایسے ماحول میں ، دشت پر ہول میں
تو نہ ملتا اگر میری جان جگر
زندگی کتنی بے کیف ہوتی مری
اور اب جبکہ تو
ھم نشین ہے مرا
تیری قربت کی یہ مہرباں ساعتيں
کتنی رنگین و پر کیف ہیں