Results 1 to 1 of 1

Thread: Docter Nighat Naseem Sahiba Ki Ek Dilkash Tehreer

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    cute Docter Nighat Naseem Sahiba Ki Ek Dilkash Tehreer

    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ایک دلکش تحریر




    کبھی سوچا ہی نہیں کتنی خاموشی سے زندگیاں بدل جاتی ہیں
    بابا صاحب (محترم المقام جناب صفدر ہمدانی )کہتے ہیں کہ احسانمندی ورثے کی طرح نسل در نسل چلتی ہے ۔ احسانمندی کے زمرے میں سب سے پہلے ماں باپ بہن بھائی اور اساتذہ آتے ہیں پھر اس کے بعد بھی بے شمار اپنے قریبی رشتہ دار ۔۔ میری خواہش ہے آج ہم سب مل کر ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کریں جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ وہ ہماری زندگیوں میں کتنے خاموشی سے آئے اور اہم ترین تبدیلیاں کر کے چلے گئے اور ہمیں پتہ ہی نہ چلا ۔۔


    میں نہیں جانتی تھی کہ وہ لمحہ مجھے کتنا امیر ترین کر جائے گا ۔ یہ ان دنوں کی بات جب میں 2005 میں لیور ہوپسپٹل ،سڈنی میں نئی نئی سائیکاٹری کی پوسٹنگ پر آئی تھی ۔ میری ڈیوٹی ہفتے کے روز تھی ۔ مجھے ریسپشن سے کال ملی کہ ایک مریضہ آئی ہے اور پولیس بھی ساتھ ہے ۔ وجہ یہ تھی کہ اس کے پڑوسیوں نے پولیس بلوائی تھی کہ یہ مریضہ خود کو مارنا چاہتی ہے ۔ اور چھری سے اپنی کلائی کاٹ ڈالی ہے ۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد جب میں نے اسے نفیساتی تجزیہ کے لئے دیکھا تو اس نے بتا یا کہ اس کی پانچ سالہ بیٹی کو پیدائیش کے وقت سے ہی گورمنٹ نے لے لیا تھا کہ اس کے گھر میں اس کا شوہر ہر وقت لڑتا رہتا تھا (ڈومیسٹک وائیلنس ) اور وہ دونوں کبھی کبھی ڈرگس بھی لے لیتے تھے ۔

    بچی کے جدا ہو جانے کے بعد ان دونوں نے ری ہیبلیٹیشن سے علاج کروایا اور اب وہ دونوں گورمنٹ کو ثبوت دینے کے کی کوشش میں مختلف کورسز وغیرہ بھی کر رہے تھے ۔ انہیں خود گورمنٹ کے آفس جا کر اپنی بچی سے ملنا پڑتا تھا ۔ پر آج پہلی بار انہیں اپنی بیٹی کو گھر لے جانے کی اجازت ملی تھی ۔ اس کی بیٹی کو پمپکن سوپ بہت پسند تھا ۔ پمپکن (میٹھا کدو)کو چھیلتے ہوئے اسے کلائی میں چھری لگ گئی ۔ جس کو اس کی پڑوسن نے دیکھ لیا ۔ اس نے روتے ہوئے مجھ سے التجا کی کسی طرح بھی اس پر یقین کر لوں ورنہ اس کی بیٹی کبھی اس کے گھر واپس نہیں آ سکے گی ۔ اوراب اس کی بیٹی کے آنے میں صرف 30 منٹ بچے ہیں ۔ اس نے اور اس کے شوہر نے مجھے یہ بھی کہا کہ ابھی اسے صرف ایک گھنٹہ کے لئے جانے دوں وہ دونوں بعد میں دوبارہ آجائیں گے اور جیسا میں کہونگی وہ وہی کریں گے ۔۔

    جانے اس لمحے میں کیا تھا کہ مجھے لگا جیسے مجھے ان کی مدد کرنی چاہئے ۔۔ مدد کی مد میں " اعتبار " اور اعتبار بھی ایک ایسی مریضہ پر جو پہلی بار میرے پاس آئی تھی بلکہ لائی گئی تھی ۔ پر جانے کیسے میں اس دن فیصلہ کر لیا تھا اور میں نے اسے جانے دیا ۔ صرف یہ کہا کہ مجھے فون پر بتا دے کہ سب خیر ہے اور اس کی بیٹی ان سے مل کر واپس چلی گئی ہے ۔

    ٹھیک ایک گھنٹہ بعد میرا نام ایمرجنسی ڈیسک سے مائک پر پکارا گیا۔ اف قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میری بس جان نکلنے والی تھی کیونکہ مجھے میرا اعتبار دھوکہ بھی دے سکتا تھا ۔ میں اس ڈیسک تک کیسے پہنچی نہیں جانتی ۔ پر جب میں وہاں پہنچی تو ریسپشنسٹ نے بتایا کہ کوئی مریضہ اپنے شوہر کے ساتھ آئی تھی اور وہ یہ ایک کارڈ اور خوبصورت پھولوں کا گلدستہ میرے لئے دے گئے ہیں ۔

    میری آنکھیں تشکر سے نم ہو گئیں ۔۔ کارڈ پر لکھا تھا “ ڈیر ڈاکٹر نسیم تمہارے اعتبار نے ہمیں جینا سکھا دیا اور ہمیں جینے کی وجہ بھی دے دی ۔ ہم تمہارا شکریہ کسی بھی لفظوں میں ادا نہیں کر سکتے بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے مریضوں پر اپنے اعتبار کوہمیشہ قائم رکھنا “

    میں اس کے چہرے کو ۔۔۔ اس کی زخمی کلائی کو ۔۔۔ اس کی ملتجی نظروں کو ۔۔اس کے کارڈ ۔۔ اس کے گلدستے کو ۔۔ اس کے یقین کو کبھی نہیں بھول سکی ۔۔ اس چند لمحوں نے ، اس اجنبی ماں نے مجھے سر سے پیر تک بدل ڈالا ۔۔

    کاش وہ مجھے کبھی دوبارہ مل جائے تو میں سب سے پہلے اس کا شکریہ ادا کروں اور پھر کہوں کہ میں نے اس کی بات مانی ہے اوراپنے مریضوں پر اعتبار کرنے میں ہمیشہ پہل کی ہے اور میرے اس اعتبار نے مجھے بہت اچھا ڈاکٹر بنادیا ہے ۔ اتنا اچھا کہ میرے مریض مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں ۔ میرے لئے مندر ، مسجد ، گردوارے ، چرچ ۔۔ جہاں کہی بھی ہوں دعا کرتے ہیں ۔۔۔

    میری دعا ہے تم جہاں کہی بھی ہو محفوظ ہو اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوش رہو ۔۔ الہی آمین

    ڈاکٹر نگہت نسیم

    سڈنی
    Last edited by Hidden words; 04-08-2012 at 11:32 PM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •