Results 1 to 3 of 3

Thread: حضرت شیخ عثمان مروندی المعروف حضرت لال شہباز قلندر

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default حضرت شیخ عثمان مروندی المعروف حضرت لال شہباز قلندر


    آذر بائیجان کے ایک گاؤں مرند میں اس وقت سناٹے اور تاریکی کا راج تھا - لوگ تھکے ہارے جسموں کی پناہ میں اپنے اپنے بستروں پر محو خواب تھے -

    سید ابراہیم کبیر ورد وظائف سے فراغت کے بعد ابھی ابھی اپنے بستر پر دراز ہوئے تھے -

    اکثر یہ ہوتا تھا کہ وہ فقط کمر سیدھی کرنے کے لئے بستر کو عزت بخشتے تھے - تہجد کے انتظار میں جاگتے ہی رہتے تھے - لیکن اس رات جیسے کسی نے تھپک تھپک کر سلا دیا - شاید کوئی غیر معمولی واقعہ ہونے والا تھا اور یہی ہوا -

    ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ ایک خواب نے سلسلہ دراز کر دیا -

    انھوں نے خود کو ایک ایسے مقام پر پایا جو جنت نہیں تو جنت سے کم بھی نہیں تھا - درختون کی پھلوں سے لدی شاخیں انگڑائیاں لے رہیں تھیں - طائروں کا ہجوم تھا - ہر طرف نہریں جاری تھیں - وقت جیسے کسی مقام پر رک گیا تھا -

    ابھی آپ کی آنکھیں اس نظارے سے فیضیاب ہو رہیں تھیں کہ درختوں کے جھنڈ سے ایک بچے کو نمودار ہوتے دیکھا -
    اس مرغزار میں ایسے ہی خوبصورت بچے کی توقع کی جا سکتی تھی - سرخ رنگ کا یہ خوبصورت بچہ آپ کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا -
    بزرگوار ! " مجھے اس مقام سے باہر نکالیے " بچے نے کہا -

    برخوردار ! " جنت کی سیر کرتے ہو اور باہر نکلنے کی خواہش ہے - " آپ نے کہا

    آپ کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی وہ بچہ درختوں میں کہیں گم ہوگیا - اس کے جاتے ہی بہاروں کا میلہ بھی اجڑ گیا - سید ابراہیم کبیر کی آنکھ کھل گئی -

    سید ابراہیم کبیر ولی کامل تھے - اور ولیوں کے خواب سچے ہوتے ہیں -
    اگلی شب پھر ان کے نفس نے انھیں نیند پر اکسایا - آنکھ لگتے ہے وہی منظر پھر سامنے تھا -
    سرخ رنگ والا وہ بچہ پھر نظر آیا " بابا مجھے یہاں سے نکالیے "

    " جنت کی سیر افضل ہے " سید ابراہیم نے کہا

    دنیا میں آنا بھی تو افضل ہے بچے نے جواب دیا - اور غائب ہو گیا -
    حضرت کبیر کی آنکھ کھل گئی-

    - آپ کا اضطراب بڑھنے لگا - اب اس خواب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا -

    فجر کی نماز ادا کرنے کے لئے آپ مسجد تشریف لے گئے - وہیں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی جو خواب کی تعبیر بتانے میں ید طولیٰ رکھتے تھے آپ نے اپنا خواب انھیں سنایا -

    " سید کبیر شاہ اشارہ یہ ہے کہ اب آپ شادی کر لیں - قدرت یہی چاہتی ہے - جس بچے کو آپ نے خواب میں دیکھا ہے وہ آپ ہی کا بچہ ہے جو عدم سے وجود میں آنے کے لئے بے تاب ہے - "

    ان بزرگ کی پیش گوئی حرف با حرف درست ثابت ہوئی آپ نے شادی فرمائی اور جو بچہ عدم سے وجود میں آیا وہ سرخ رنگ کا وہی خوبصورت بچہ تھا جسے آپ عالم خواب میں دیکھ چکے تھے -

    اور آگے چل کر وہ بچہ حضرت شیخ عثمان مروندی المعروف حضرت لال شہباز قلندر کے نام سے مشہور ہوا -

    تحریر و تحقیق ڈاکٹر ساجد امجد

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: حضرت شیخ عثمان مروندی المعروف حضرت لال شہباز قلندر


    مشہور ہے کہ حضرت لال شہباز قلندر سہون کے ایک محلے میں اکثر بیٹھا کرتے تھے - اس محلے میں ایک مشہور ہندو خاندان رہتا تھا - یہ لوگ پردے کے سخت پابند تھے -
    اس خاندان کی ایک عورت حضرت لال شہباز قلندر سے بیحد عقیدت رکھتی تھی -
    جب آپ اس گلی سے گزرتے تو وہ آپ کو دیکھنے کے اشتیاق میں کھڑکی میں چلی آتی تھی -
    آپ ہمیشہ سر جھکا کے چلتے تھے اس لئے وہ عورت آپ کوپوری طرح دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہی -

    ایک روز اس عورت کی وحشت اتنی بڑھی کہ آپ کا روئے تاباں دیکھنے کے اشتیاق میں اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی -
    اس نے ایک نظر حضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور دنیا سے رخصت ہو گئی -

    اس کے مرتے ہی حضرت قلندر نے اپنی چادر اس کے جسم پر ڈال دی-
    ہر طرف شور مچ گیا اس عورت کے رشتےدار بھی جمع ہو گئےلوگوں نے اس کی لاش اٹھانے کی کوشش کی - لیکن لاش اتنی وزنی ہو گئی تھی کہ کوشش کے باوجود نہ اٹھ سکی -

    " اگر تم پورے شہر کے ہندوؤںکو جمع کر لو گے تب بھی یہ لاش نہیں اٹھ سکے گی - " حضرت قلندر نے فرمایا !

    " اس سے ایسا کیا گناہ سر زد ہو گیا ہے مائی باپ ! "
    لڑکی کے رشتےداروں نے پوچھا -

    " اس عورت کی قسمت میں جلنا نہیں ہے - " حضرت نے فرمایا -

    " ہمارا مذھب تو جلانے کی ہی تاکید کرتا ہے - "

    " اگر تم اسے دفن کرنے کا وعدہ کرو تو لاش اٹھ جائے گی " حضرت نے فرمایا -

    ہندوؤں کو آپ کی یہ شرط ماننی پڑی - ہندو عورت کی ارتھی نہیں بلکہ جنازہ اٹھا اور مسلمانوں کے طریقے سے دفن کیا گیا -

    آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر اس خاندان کے بیشتر افراد آپ کے دست مبارک پر ایمان لے آئے -

    عرس کے موقع پر جو مہندی اٹھتی ہے اس عورت کی قبر سے اٹھائی جاتی ہے اور مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی لال شہباز کی درگاہ پر آتی ہے -

    حضرت لال شہباز قلندر کو دنیا سے پردہ کے ہوئی آٹھ سو سال سے زیادہ ہو گئے لیکن آپ کا فیض روحانی اب بھی جاری ہے -

    آپ کی یادگاریں اب بھی تابندہ و زندہ ہیں -

    اولیاء الله کی یہی شان ہوتی ہے -

    از ڈاکٹر ساجد امجد (ماخذات تذکرہ صوفیہ سندھ ، سیرت پاک حضرت عثمان مروندی ، الله کے ولی ، تحفتہ الکرام )

  3. #3
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: حضرت شیخ عثمان مروندی المعروف حضرت لال شہباز قلندر

    Jazak ALLAH khair

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •