کب اپنی ذات کا کوئی ہم کو سرا ملا
اس کی نگاہ سے تھا ذرا سلسلہ ملا

کچھ دوستی کے داغ تھے ، کچھ دشمنی کے زخم
اب تجھ سے کیا کہوں مجھے کس کس سے کیا ملا

جب تک وہ باخبر تھا ، سو اپنی خبر رہی
وہ اجنبی ہوا تو نہ اپنا پتہ ملا

لمحے کی نیند تھی سو کہیں خواب ہو گئی
آںکھوں میں ہم کو اپنی فقط رتجگا ملا

اُکسا رہی ہے مجھ کو یہ عزمِ سفر پہ پھر
یہ اک خلش ہے جس سے سدا حوصلہ ملا