پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ان کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ وزیرِاعظم کی نااہلی سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سنای


سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ وزیرِاعظم کی نااہلی سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سنایا۔
فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم قومی اسمبلی کے ممبر نہیں رہے کا عہدہ چھبیس اپریل سے خالی تصور کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صدر سے کہا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔
اس سے قبل ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر توہینِ عدالت کے مقدمے میں سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل کردی جاتی تو ہو سکتا تھا کہ وزیر اعظم کی نااہلی کچھ عرصے کے لیے رک جاتی۔
اس مقدمے کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا کہ سات رکنی بینچ کے فیصلے کی سکروٹنی کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 248 کا حوالہ نہ تو این آر او کے کیس میں دیا گیا اور نہ ہی توہینِ عدالت کے مقدمے میں۔
اس سے قبل پاکستان کے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی رولنگ پر قومی اسمبلی میں قرارداد اس لیے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم جاری نہ کردے۔
بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر سپیکر کی رولنگ کارروائی کا حصہ تھی تو پھر قرارداد کیوں لائی گئی۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قرارداد اس لیے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم نہ دے دے۔
عرفان قادر نے مزید کہا کہ اسمبلی کے کسی بھی رکن کو نااہل قرار دینا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سات رکنی بینچ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 248 کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹیکل وزیر اعظم امور کو فرائض سرانجام دحنے کے لیے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کو عدالت میں طلب نہیں کر سکتی کیونکہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
دلائل دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سوئس حکام کو مقدمے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا خط نہ لکھنے کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو حکومت کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔
دریں اثناء سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے تناظر میں اسلام آباد میں ایوانِ میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس بھی جاری ہے جس میں صدر اور وزیرِ اعظم دونوں شریک ہیں۔
اس معاملے کا آغاز سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیے جانے سے ہوا تھا۔
بعد ازاں انہیں اس جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اس سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔
اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔






ا۔