Results 1 to 10 of 10

Thread: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    cute Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya



    تزئین! تم بہت خوبصورت ہو اور ماڈلنگ کیلئے بھی آئیڈیل ہو۔ تم ماڈلنگ کیوں نہیں کرتی ہو؟ میک اپ آرٹسٹ عینی نے مجھ سے کہا۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ میں واقعی اتنی خوبصورت ہوں کہ ماڈل بھی بن سکتی ہوں۔ میں نے عینی سے پوچھاکہ کہیں تم میرا مذاق تو نہیں اڑارہی؟ عینی نے قسم کھائی کہ نہیں تم واقعی بہت خوبصورت ہو اور ماڈل بن سکتی ہو۔ میری بھی یہ شدید خواہش تھی کہ میں ماڈل بن کرشہرت کی بلندیوں کو چھو لوں۔میں نے رضامندی ظاہرکردی اور یہی رضا مندی مجھے بلندیوں کی بجائے پستیوں کی دلدل کی طرف لے گئی۔ٹھہرئیے میں آپ کو اپنے بارے میں تفصیل سے بتاتی ہوں ۔یہ گذشتہ سال کی بات ہے کہ میں ایک سہیلی کی شادی میں ناظم آباد کے شادی ہال میں گئی۔وہاں میری ملاقات قراۃالعین عرف عینی سےہوئی۔ عینی مجھے دیکھتے ہی میری خوبصورتی کے قصیدے پڑھنے لگی۔ اپنے حسن کی تعریف سن کر میں نےعینی سے دوستی کر لی۔ پھر جب عینی نے مجھے ماڈلنگ کی دنیا کے حسین خواب دکھائے اور لاکھوں روپے ملنے کی امید دلائی تو میں اس کے جال میں پھنس گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارتی ڈراموں کا گلیمر اور فلمی ہیروئنوں کی پرتعیش زندگی دیکھ کر میرا بھی جی چاہتا تھا کہ کاش میں بھی کوئی مشہور ہیروئن یا ماڈل گرل ہوتی۔ لوگ میرے حسن کے دیوانے ہوتے اور میں لاکھوں میں کھیلتی اور خوب عیش والی زندگی گزارتی۔ آنکھوں میں اس جیسے ہزروں خواب سجائے میں عینی سے روز فون پر بات کرنے لگی۔ ایک دن اس نے مجھے ایک اچھے ریسٹورنٹ میں اپنی کچھ خوبصورت تصویروں کے ساتھ آنے کو کہا کہ میں تمہیں ایک ماڈل گرل پروموٹر سے ملوائوں گی۔میں تو جیسے اسی انتظار میں تھی،صبح ہوئی تو میں تیار ہوکرمقررہ وقت پر ریسٹورنٹ پہنچ گئی۔وہاں عینی ایک 30 سالہ نوجوان کے ساتھ پہلے ہی سے وہاں موجود تھی۔ عینی نے اس شخص کا تعارف واجد مغل کے نام سے کرایا اور کہا کہ واجدمغل ایک بہت بڑا پروموٹر اور ڈائریکٹر ہے جو مجھے بہت جلد ایک مشہور ماڈل گرل بنادے گا۔ اس دوران واجد مغل نے مصافحہ کیلئے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے بھی جھجھکتے ہوئے ہاتھ آگے کردیا۔ میری ہچکچاہٹ دیکھ کر عینی نے مجھ سے کہا کہ شوبز کی دنیا میں ایسے ہی ملا جاتا ہے۔ ابھی عینی نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ واجد مغل بول پڑا کہ تزئین! آپ کو تو خدا نے خوب فرصت سے بنایا ہے۔ آپ تو پیدا ہی ماڈلنگ کیلئے ہوئی ہیں۔ یہ سن کر میں خوشی سے پھولی نہیں سمائی۔ اپنی خوبصورتی اور خوش نصیبی پر میں دل ہی دل میں نازکر رہی تھی۔ واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ تم جو تصویریں لائی ہو ،یہ ہیں تو اچھی، پر ان میں پروفیشنل ازم نہیں ہے۔ تم ایسا کرو کہ کسی وقت عینی کے ساتھ میرے آفس آجانا، میں تمہارا زبردست قسم کا فوٹو شوٹ کرا دوں گا۔ میں اگلے ہی دن عینی کے ہمراہ حاجی کمرشل کے ایک فلیٹ میں چلی گئی۔ وہاں واجد مغل نے ایک فوٹو گرافر اور میک اپ آرٹسٹ کو بلوا کر مجھے تیارکرایا اور میری مختلف پوز میں تصویریں لیں۔ یوں میرا واجد مغل سے ملنا جلنا اور اس کے آفس آنا جانا شروع ہو گیا۔وہ اکثر مجھے آئس کریم برگر اور ڈنرکھلانے لے جایا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ عینی نے مجھے سگریٹ اور وہسکی پلانا شروع کردی۔ میرے منع کرنے پر وہ کہتی تھی کہ اگر تم بولڈ اور گلیمرس نہیں بنو گی تو اس میدان میں نہیں چل پائو گی۔ جب اسی طرح ایک دو ماہ گزرگئے تو میں نے واجد کو ماڈلنگ کا کام دلوانے کا کہنا شروع کردیا، جس پر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ ابھی ابھی تو آئی ہو۔ پہلے شوبزنس کے طور طریقے تو سیکھ لو۔ واجد مغل نے مجھے ایک دو بار اپنے گھر چلنے کو بھی کہا مگر میں نے بہانہ بناکر اسے ٹال دیا۔ پروڈکشن ہائوس میں اور بھی کئی ماڈلنگ اور ڈراموں میں کام کرنے کے شوقین لڑکیاں اور لڑکے آتے جاتے رہتے تھے، جن میں سے چند ایک کو واجد مغل نے ماڈلنگ اور ڈراموں میں کام بھی دلوایا تھا۔وہاں میری ملاقات ریحان نیازی سے ہوئی، جو ماڈل بننے کے خواب آنکھوں میں سجاکے آیا تھا۔ ریحان نیازی کھاتے پیتے گھرانے کا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ مجھ میں کافی دلچسپی لیتا تھا۔ اور میری اس سے گہری دوستی ہوگئی ، ہم اکثر ایک دوسرے سے ملنے لگے۔ اس دوران میری ملاقات واجد مغل کے دوست فہیم الکریم ایڈووکیٹ سے ہوئی۔واجد مغل اس کی بہت عزت کرتا تھا، کیونکہ وہ اس کا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ واجد کے مختلف پراجیکٹس پر سرمایہ کاری بھی کرتا تھا۔ میرے باربار کے اصرار پر واجد مغل نے مجھے ایک مقامی میگزین کے فیشن پیج کیلئے کام دلوادیا۔ میرا پہلاکام سب کو پسند آیا، لہذا مجھے اوپر تلے دو تین اور کام بھی مل گئے، مگر میرا معاوضہ 36 ہزار روپے واجد مغل نے مجھے نہ دیا۔ میں جب بھی واجد مغل سے اپنے معاوضے کا تقاضہ کرتی تو وہ اور فہیم الکریم ایڈووکیٹ مجھے کہتے کہ ابھی کمپنی سے پے منٹ نہیں آئی ہے، جب آئے گی تو تمہیں دے دیں گے۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ واجد مغل مجھ میں دلچسپی لے رہا ہے۔ ایک دو مرتبہ واجد مغل نے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کی،جس پر میں نے اسے بری طرح ڈانٹ دیا ۔اس بات کا تذکرہ میں نے عینی سے کیاتو اس نے کہا کہ یہ گلیمر کی دنیا ہے، یہاں سب چلتا ہے۔ واجد مغل نے تمہیں کام دلایا ہے تو اب ’’کمپرومائز‘‘ بھی کرو۔ جس پر میں نے عینی سے کہا کہ میں ایسا ہر گز نہیں کر سکتی اور وہ واجد مغل کو سمجھائے، لیکن عینی نے میری بات ہنس کر ٹال دی۔

    اس کے بعد میں جب بھی واجد مغل کے پاس جاتی تو وہ مجھ پر طنز کرتا کہ میڈم تو بڑی ماڈل بن گئی ہیں، شکایتیں کرتی ہیں۔ میری اور ریحان نیازی کی دوستی پر بھی واجد مغل کو اعتراض تھا۔ وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ تم ریحان سے دور رہا کرو۔ تمہیں اپنا کیرئیر بنانا ہے، جبکہ ریحان نیازی تمہیں اپنی ترقی کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ایک دن عینی کا فون آیا کہ تم پروڈکشن ہائوس آجائو۔ میں وہاں گئی تو اس وقت آفس میں واجد مغل اور عینی پہلے سے ہی موجود تھے۔ عینی میرے اور واجد مغل کیلئے شربت بناکر لائی اور خود کسی کام کا کہہ کر باہر چلی گئی ۔جب میں نے شربت پیا تو میرا سر بھاری ہونے لگا۔ اسی دوران واجد مغل نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھے اپنی طرف کھینچا تو میں نے مزاحمت کی۔ اس کے بعد مجھے چکر سا آیا اورمیں بے ہوش ہوگئی۔ جب مجھے ہوش آیا تو کمرے میں میرے علاوہ واجدمغل اور عینی موجود تھے۔ میں نے فوراً واجد مغل سے پوچھا کہ اس نے مجھے کیا پلایا ہے تو اس نے مجھے جواب دینے کے بجائے اپنا موبائل فون میرے آگے کردیا، جسے دیکھ کرمیرے پائوں تلے سے زمین نکل گئی اور مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ واجد مغل بے ہوشی کی حالت میں میرے ساتھ اتنی گھٹیا ویڈیو بھی بنا سکتا ہے؟ واجد مغل نے کہا کہ ماڈل صاحبہ، ویڈیو پسند آئی؟ میں رونے لگی اور میں نے واجد مغل کا موبائل اس کے سر پر دے مارا اور اس کا گریبان پکڑ کر اسے اور عینی کو گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں پولیس کو بتائوں گی کہ تم لوگوں نے سازش کرکے میری عزت خراب کی ہے۔ یہ سن کر واجد مغل نے مجھ سے کہا کہ ہم یہ ویڈیو انٹرنیٹ اور ایم ایم ایس کے ذریعے پھیلادیں گے اور ایک ایم ایم ایس ریحان نیازی کو بھی کردیں گے۔ یہ سن کر میں خوفزدہ ہوگئی، کیونکہ میں ریحان نیازی کو پسند کرتی تھی اور یہ بات واجد مغل اور عینی بھی جانتے تھے۔میں نے واجد مغل کے سامنے ہاتھ جوڑے اورکہا کہ خدا کیلئے اس ویڈیوکو ڈیلیٹ کردو، لیکن وہ مجھے بلیک میل کرتا رہا کہ میں ابھی اسے ریحان نیازی کے موبائل میں بھیج رہا ہوں۔ پھر عینی نے مجھ سے کہا کہ تزئین! بڑی کامیابی کیلئے چھوٹی موٹی قربانیاں تو دینا پڑتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد میں پریشان رہنے لگی۔ ریحان نیازی نے مجھ سے میری پریشانی کا سبب پوچھا۔ لیکن میں نے اسے کچھ نہیں بتایا۔ اس دوران واجد مغل مجھے اپنے دفتر میں آنے جانے والے مختلف لوگوں سے ملواتا رہا اور مجھے انہیں خوش کرنے کا کہہ کرمیری ویڈیو بنا کر مجھے بلیک میل کرتارہا۔ یہ سلسلہ جاری تھا اور میں تیزی سے برائی کی دلدل میں دھنستی جارہی تھی۔ دوسری جانب ریحان نیازی میرے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مجھ سے مختلف سوالات کرنے لگا تھا۔ اس کے اصرار کو دیکھ کر آخر کار میں نے ریحان نیازی کو ساری حقیقت بتادی، جس پروہ غصے سے بے قابو ہوگیا۔ میں نے بڑی مشکلوں سے اسے سنبھالا۔ میں سمجھی کہ اس کا غصہ اس وجہ سے ہے کہ واجد مغل نے میری عزت تار تار کردی ہے، لیکن اس نے جو انکشاف کیا، وہ میرے لئے بھی چونکا دینے والا تھا۔ ریحان نیازی نے بتایا کہ میں بھی واجد مغل اور عینی کے ہاتھوں بلیک میل ہورہا ہوں اور اب تک انہیں لاکھوں روپے دے چکاہوں۔ ریحان نیازی نے بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے واجد مغل نے عینی کے ذریعے پھنسایا ہے۔ ایک دن عینی مجھے اپنے گھر لے گئی تھی اور وہاں مجھے شراب پلاکر واجدمغل نے میری عینی کے ساتھ قابل اعتراض ویڈیو بنالی۔ بعدازاںواجد مغل مجھے بلیک میل کرنے لگا کہ میں یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دوں گا اور تمہارے والد کو بھی دے دوں گا۔بس تب سے میں واجد مغل کو رقم ادا کررہاہوں۔ میں اور ریحان نیازی دونوں واجد مغل کے ڈسے ہوئے تھے، جس پر ہم نے واجد مغل اور عینی سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ واجد مغل ہمیں فہیم الکریم سے بھی ڈراتا تھا کہ وہ وکیل ہے اور اس کے اعلیٰ افسران سے تعلقات ہیں۔ ہم نے واجد مغل، عینی اور فہیم الکریم کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا اور مناسب موقع کی تاک میں رہنے لگے۔ پھر اچانک واجد مغل نے حاجی اسٹریٹ والا دفتر چھوڑ دیا۔ وہ میرا اور ریحان کا فون بھی اٹینڈ نہیں کرتا تھا۔ میں نے عینی سے ایک دوسری ماڈل لڑکی کے ذریعے فون پر رابطہ کرکے ان کے نئے آفس کا ایڈریس حاصل کرلیا اور ایک دن اچانک میں اور ریحان نیازی، واجد مغل کے نئے دفتر جو ڈیفنس فیز 2 ایکسٹینشن میں واقع تھا، پہنچ گئے۔ ہم نے واجد مغل سے فون ریسیو نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں شفٹنگ میں مصروف تھا، لہذا فون اٹینڈ نہ کرسکا۔ میں نے اور ریحان نے منصوبے کے تحت ناراضگی کے بجائے دوستی کا رویہ اختیارکر کے واجد مغل اور عینی کا اعتماد حاصل کرلیا۔ واجد مغل نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ دفتر میرا اور فہیم الکریم کا مشترکہ دفتر ہے۔ میں اس میں شوبزنس کا کام کرتا ہوں اور فہیم اپنی وکالت کا کام کرتا ہے۔ تمہارا جب جی چاہے، یہاں آتے جاتے رہا کرو۔ اسی طرح اگلے روز بھی شام کے وقت واجد مغل کے دفتر میں جاکر گپ شپ لگا کر ہم دونوں واپس نکلے اور ایک ریسٹورینٹ میں بیٹھ کر قتل اور پیسوں کی وصولی کی پلاننگ کرنے لگے۔ میرا خیال تھا کہ واجد مغل سے ہمیں کوئی خاص رقم ملنے کی توقع نہیں ہے اور عینی تو ہے ہی ایک معمولی سی میک اپ آرٹسٹ، ہاں البتہ فہیم الکریم ایڈووکیٹ مالدار پارٹی ہے۔ اگر اس کو قابو کرلیا جائے تو اچھا خاصا پیسہ وصول کیا جاسکتا ہے۔ میں نے اور ریحان نیازی نے مل کر واردات کیلئے درست وقت اور طریقہ طے کیا اور ریحان نے اگلے دن پستول لانے کا کہہ کر مجھے میرے گھرکورنگی سوکواٹر پر ڈراپ کردیا۔ مجھے اپنی ذہانت اور ریحان پر پورا بھروسہ تھا کہ ہم بدلہ لینے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور پیسہ بھی مل جائے گا اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی۔وہ5 ستمبرکا دن تھا۔ ریحان شام 8 بجے مجھے میرے گھر سے پک کرنے آیا۔ ہم رکشہ میں بیٹھ کرڈیفنس فیز2 میں واقع واجد کے دفتر پہنچے تو عینی اور واجد کے علاوہ ایک دو اور لوگ بھی دفتر میں موجود تھے، لیکن فہیم الکریم موجود نہیں تھا۔ میں نے عینی اور واجد سے باتوں ہی باتوں میں فہیم کے آنے کی تصدیق کروالی اور مطمئن ہوکر گپ شپ کرنے لگے۔کچھ دیر بعد غالباً ساڑھے دس بجے دیگر لوگ چلے گئے اور تقریباً ساڑھے گیارہ بجے فہیم دفتر میں آگیا۔ فہیم نے آتے ہی کہا کہ مجھے اپنے کے ای ایس سی والے کیس پر بہت کام کرنا ہے اور سر میں بھی شدید درد ہے۔کوئی خدا کا بندہ اچھی سی چائے بناکر پلا دے۔ میرے لیے یہ بہترین موقع تھا، اسی لیے میں نے فوراً کہا کہ آپ سب تھکے ہوئے ہیں، میں وی آئی پی چائے بناکر آپ سب کو پلاتی ہوں۔ یہ کہہ کر میں کچن میں چائے بنانے چلی گئی، جبکہ واجد اور ریحان لیپ ٹاپ پر ماڈلز کی تصویریں دیکھنے لگے۔ فہیم اپنے کاغذات میں گم ہوگیا اور عینی صوفے پر نیم دراز ہوکر موبائل پر باتیں کرنے لگی۔ میں نے چائے میں25سے 30 نیند کی گولیاں ڈالیں، جبکہ اپنی چائے میں نے پہلے ہی الگ کرلی تھی اور ریحان چائے نہیں پیتا تھا۔ عینی، فہیم اور واجد کو چائے کے کپ پیش کرنے کے بعد میں کچن سے اپنا کپ اٹھا لائی اور عینی کے برابر میں بیٹھ کر چائے پینے لگی۔ چائے پیتے ہی عینی پر فوراً غنودگی چھا گئی، جس کا کسی نے نوٹس نہیں لیا، جبکہ فہیم نے ایک ہی گھونٹ میں پورا چائے کا کپ پی ڈالا اور صوفے پر ہی بے ہوش ہوگیا۔ لیکن جب واجد نے چائے کا گھونٹ بھرا تو کہنے لگا کہ تزئین! تم نے اتنی کڑوی چائے بنائی ہے۔واجد کا اتنا ہی کہنا تھا کہ ریحان اور میں نے ایک ساتھ واجد پر حملہ کردیا۔ ریحان بری طرح واجد کو پیٹنے لگا۔ ہم دونوں اس کے ہاتھ پیر باندھ کر اسے باتھ روم میں لے گئے اور اسے لاتیں اور گھونسے مارنے لگے۔ اتنے میں واجد نے اٹھنے کی کوشش کی تو میں نے اپنے پرس سے پستول نکال کر اس پر تان لی۔ ریحان نے واجد کے بال پکڑ کر اس کا منہ کموڈ پر مارا تو اس کے ناک سے خون بہنے لگا اور پھر جنون کی حالت میں ریحان نے واجد پرگولی چلادی، جبکہ ریحان کے ہاتھ سے پستول لے کر میں نے بھی ایک گولی واجد کو ماری۔ پھر ہم باتھ روم سے باہر آئے تو میں نے عینی کو مارنا شروع کردیا اور اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ اس دوران عینی اچانک ہوش میں آگئی اور ہاتھ پائوں چلانے لگی۔ یہ دیکھ کر ریحان نے مجھے ہٹایا اور عینی کے گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر اسے بھی اگلے جہاں پہنچا دیا۔ اس کے فہیم الکریم کی باری تھی۔ اس پر مجھے بے حد غصہ تھا، کیونکہ پیسے ہونے کے باوجود اس نے مجھے میرا معاوضہ نہیں دیاتھا۔ میں نے اور ریحان نے پہلے فہیم کے ہاتھ پیر باندھے اور پھر اس کی جامہ تلاشی لی۔ فہیم کا پرس نکال کر اس میں موجود رقم ریحان نے اپنی جیب میں ڈالی اور اس کے دونوں موبائل فون آف کردیئے۔ ہم دونوں نے فہیم کو کسی حد تک ہوش میں لانے کی کوشش کی اور اتنے میں ریحان اپنے موبائل فون میں واجد مغل اورعینی کی لاشوں کی تصویریں بناکر لے آیا۔ جب فہیم کو کچھ ہوش آیا تو ریحان نے اس سے کہا ہم نے واجد اور عینی کا کام تمام کردیا ہے۔ فہیم نے جب دونوں کی لاشوں کی تصویریں دیکھیں تو ایک دم ہوش میں آگیا اور ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگا، جس پر ریحان نے فہیم کو مارنا شروع کردیا اور کہا کہ شرافت سے تعاون کرو، ورنہ تمہاری حالت بھی ان دونوں کی طرح کردوں گا۔ فہیم نے کہا، مجھے چھوڑ دو اور جولینا ہے، لے لو۔ تو ریحان نے فہیم سے کہا کہ ہمیں 5 لاکھ کا چیک کاٹ کردو۔ فہیم نے کہا میرے اکائونٹ میں اتنی رقم نہیں ہے، لیکن تھوڑی دیر کی بحث اور مارپیٹ کے بعد فہیم نے ہمیں سرخ قلم سے 50 ہزار کا چیک بھر کر دے دیا اور ریحان کے پوچھنے پر اپنے اے ٹی ایم کا پاس ورڈ بھی بتادیا جو ریحان نے ایک کاغذ پر لکھ لیا۔ اس کے بعد میں نے کہا ریحان چلو نکلو، ہمارا کام ہوگیا ہے۔ تو ریحان نے کہا، تم پاگل ہو، لیکن میں نہیں۔ یہ وکیل ہے اور اس کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ ہمیں پھانسی پر لٹکادے گا۔ ریحان، فہیم پر گولی چلانے لگا تو میں نے کہا کہ یہ کھلی جگہ ہے، فائر کی آواز دور تک جائے گی تو ریحان نے میرے کہنے پر پستول کو کمبل میں لپیٹا اور فہیم کے سر پر رکھ کر گولی چلادی جس کے نتیجے میں فہیم موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس کے بعد ریحان نے واجد کی موٹرسائیکل کی چابی اٹھائی اور ہم فلیٹ کو باہر سے کنڈی لگا کر واجد کی موٹر سائیکل پر صدرآگئے۔ آتے ہوئے ہم عینی کا پرس، اس کے کپڑے، برقعہ اور فہیم کے موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ صدر پہنچ کر ہم نے فیلکن ہوٹل میں کرائے پر ایک کمرہ لیا اور دو دن تک وہاں رہے۔ ان دو دنوں میں ہم نے صدر کی مارکیٹ میں فہیم کے دونوں موبائل عینی کے شناختی کارڈ کی کاپی دے کر بیچے اور حبیب میٹروپولیٹن بینک کی صدر زیب النسا اسٹریٹ برانچ کی اے ٹی ایم اور پاکستان چوک پر واقع ایم سی بی بینک کی برانچ سے رقم نکالی اور استعمال کرتے رہے۔ جب دو دن تک ہم نے دیکھا کہیں بھی کسی بھی طرح ہمارا نام نہیں آرہا تو میں نے اپنے بھائی کو فون کر کے صدر بلوایا اور ریحان نے واجد کی موٹر سائیکل میرے بھائی کے حوالے کردی کہ اسے اپنے گھر پرکھڑی کردو اور میں اپنے بھائی کے ساتھ ہی واجد کی بائیک پر اپنے گھر آگئی۔ میرا اور ریحان کا حسب معمول فون پر رابطہ رہتا تھا اور ہم ایک دو مرتبہ کورنگی میں ملے بھی تھے۔پھر ایک دن مجھے پولیس کا فون آیا کہ آپ کے تعلقات عینی اور واجد مغل سے تھے، جن کا قتل ہوگیا ہے تو میں نے لاعلمی ظاہرکردی، لیکن جب ایسا ہی ایک فون ریحان کے پاس بھی آیا تو ہم پریشان ہوگئے اور ہم نے فورا آپس میں رابطہ کیا۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہمارے فون آبزرویشن پر لگے ہوئے ہیں۔ ریحان نے مجھے کہا کہ تم پریشان مت ہو، میں پولیس والوں کو سنبھال لوں گا ، لیکن اچانک ایک دن پولیس میرے گھر پر آگئی اور مجھے گرفتار کرکے ڈیفنس تھانے لے گئی۔ میں بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔ پولیس والوں نے میرا موبائل مجھے دیا اور میرا ریحان سے رابطہ کروایا، لیکن ریحان نے اپنا نمبر بند کردیا تھا ۔ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں بہت پریشان تھی۔ مجھے ڈی ایس پی نے کہاکہ تم ریحان کو بلوا لو، ورنہ ہمارا شک تم دونوں پر پکا ہوجائے گا اور ہم تم دونوں کو دہرے قتل کی واردات میں باقاعدہ گرفتار کرلیں گے۔ تم ریحان کوکہیں ملنے کا کہہ کر بلوالو۔ ہم معمولی تفتیش کرکے تم دونوں کو چھوڑ دیں گے۔ میں اسی چکر میں آگئی اور جب ریحان کا ایک نامعلوم نمبر سے مجھے فون آیا تو میں نے اسے ملاقات کیلئے کلفٹن بلالیا۔ ریحان مجھے ملنے کیلئے آگیا اور میری ہی نشاندہی پر اسے پولیس نے گرفتار کرلیا اور یوں ریحان اور میرے الگ الگ بیانات نے ہمیں مجرم ثابت کردیا اور ہماری نشاندہی پر ہی آلہ قتل اور دیگر چیزیں برآمد کرلی گئیں۔جو لڑکیا ں ماڈل بننے کے چکر میں مختلف ماڈل پروموٹرز کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہیں ، میری کہانی ان لڑکیوں کے لئے عبرت ہے۔

    اب رہی یہ بات کہ پولیس ہم تک کیسے پہنچی؟ وہ کہا نی کا دوسرا رخ ہے۔ جو کچھ یوں ہے کہ فہیم الکریم کے ای ایس سی کا لیگل ایڈوائزر تھا اور 6 ستمبر 2011ء کو کے ای ایس کے ایک ملازم اسامہ نے کسی کیس کے سلسلے میں فہیم الکریم ایڈووکیٹ کا موبائل فون نمبر بار بار ملایا، مگر فون بند جارہا تھا۔ اسےتشویش ہوئی کہ فہیم الکریم کبھی اپنا موبائل فون بند نہیں کرتا تھا ۔ جب اس نے فہیم ایڈووکیٹ کے گھر والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی فہیم الکریم کے موبائل پر فون کیا، لیکن موبائل فون مسلسل بند تھا، جس پر اسامہ نے فہیم الکریم کے چچازاد بھائی اور ہمارے خلاف مقدمہ کے مدعی جاوید حلیم ایڈووکیٹ کی مدد سے ٹریکر کمپنی سے فہیم الکریم کی گاڑی نمبر کی لوکیشن معلوم کی تو پتہ چلا کہ مذکورہ گاڑی ڈیفنس فیز 2 کی اسٹریٹ میں کھڑی ہے، جس پر فہیم الکریم کے چچا زاد بھائی جاوید حلیم نے ڈیفنس پولیس سے رابطہ کیا اور انہیں تمام صورتحال بتائی۔پولیس کے مطابق کار بتائی گئی جگہ پر ہی کھڑی تھی، کچھ دیرتک گاڑی کی چھان بین ہوتی رہی، مگر گاڑی پرکسی حملے یا حادثے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ گاڑی کو ہاتھ لگاتے ہی سیکورٹی الارم بھی بجنے لگا، لیکن پھر بھی کوئی گاڑی کے قریب نہیں آیا۔ قریبی مکینک سے گاڑی کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ بولا، صاحب! گاڑی کے مالک کا تو میں کچھ نہیں بتاسکتا۔ ہاں البتہ اوپر فلیٹ میں ایک نئی فیملی آئی ہے۔ بس میاں بیوی ہیں۔ ان کو اس گاڑی میں ایک آدھ بار آتے جاتے دیکھا ہے۔ یہ سنتے ہی سب اوپر کی جانب دوڑے۔ فلیٹ نمبر2 کے دروازے کو باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ کئی بار دروازے پر دستک دی گئی مگرکوئی جواب نہ ملا تو دروازے کو کھول کر سب اندر داخل ہوگئے۔ یہ شام ساڑھے 4 بجے کا وقت تھا اور کچھ دیر پہلے شدید بارش ہوئی تھی۔ فلیٹ کے اندر گھپ اندھیرا تھا۔ لائٹ جلائی تو فلیٹ کے سامنے والے کمرے میں ایک ہولناک منظر دیکھنے میں آیا۔ صوفے پر ایک لڑکی کی تشدد زدہ لاش پڑی تھی، جبکہ صوفے کے نیچے دائیں طرف ایک مردکی لاش پڑی تھی اور ملحقہ باتھ روم میں ایک اور مرد کی لاش موجود تھی۔ مقتولین خون میں لت پت تھے۔ صوفے کے ساتھ پڑی لاش کو ایڈووکیٹ جاوید حلیم نے اپنے کزن فہیم الکریم کی حیثیت سے شناخت کیا، جبکہ دوسرا مقتول مرد واجد مغل اور مقتولہ کا نام قرۃالعین عرف عینی تھا۔ لاشوں کی حالت سے پولیس نے اندازہ لگایا کہ یہ گذشتہ شب یا قریباً 12 سے 14گھنٹے قبل کی کارروائی ہے اور اس قتل کے واقعے میں ایک سے زائد لوگ ملوث ہیں۔ باتھ روم میں پڑی واجد مغل نامی نوجوان کی لاش کو دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ مارنے سے قبل اس پر شدید قسم کا تشدد کیا گیا ہے۔ اس کے سرکو بہت قوت کے ساتھ کموڈ کے ساتھ ٹکرایا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کی دائیں آنکھ تقریباً باہر نکل چکی تھی۔ اس کی آنکھ کے قریب اور پیٹ میں 30 بور پستول کی گولیاں بھی ماری گئی تھی۔ صوفے پر پڑی عینی کی لاش پر تشدد کے آثار واضح تھے، جبکہ عینی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا اور اس کے سینے پر ایک گولی ماری گئی تھی، جبکہ سب سے زیادہ تشدد فہیم الکریم پر کیا گیا تھا۔ مقتول وکیل کے سر پر تہہ کیا ہوا کمبل رکھ کر اس کے تالو میں گولی ماری گئی تھی، جو تھوڑی کے نیچے سے آر پار ہوگئی تھی۔ مذکورہ تہرے قتل کی واردات کے بعد پولیس نے مقتولین کے موبائل فون نمبروں کی مدد سے تحقیقات شروع کیں، جن میں ریحان نیازی اور تزئین کے نمبرز بھی شامل تھے۔ ملزمان نے مقتول واجد مغل سے بھی رابطہ کیا تھا، جس پر پہلے تزئین کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیاگیا اور اسے شک کی بنیاد پر کورنگی سے حراست میں لیا تو اس نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف کرلیا اور پھر اس کے ذریعے ریحان نیازی کو بلا کر اسے بھی گرفتار کرکے مقتولین کے موبائل فون اور مقتولہ عینی کا پرس، برقعہ اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔ مقتول فہیم الکریم ایڈووکیٹ کے کزن اور مقدمے کے مدعی جاوید حلیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ فہیم الکریم کے والد عبدالکریم اور ان کے دادا بھی وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ مقتول وکیل کو لڑکین سے ہی میوزک کمپوزنگ کا شوق تھا اور اس نے اپنے کمرے میں ایک پیانو بھی خریدکر رکھا ہوا تھا، جس پر فارغ اوقات میں فہیم مختلف دھنیں بناکر اپنا شوق پورا کرلیا کرتا تھا۔ جاوید حلیم نے مزید بتایا کہ فیصل نامی میوزک انسٹرکٹر فہیم کا دوست تھا اور واجد مغل اسی فیصل کا کزن تھا۔2006 ء میں فہیم نے گاناتیار کیا اور واجد نے اس گانے کی ویڈیو تیار کی جو ٹی وی چینل پر بھی چلی، لیکن مقبول نہیں ہوسکی۔ جس پر فہیم نے واجد مغل کو کہا کہ تم نے میرے پیسے برباد کردیئے اور یوں دونوں الگ ہوگئے تھے، جس کے بعد واجد مغل کافی عرصہ تک غائب رہا اور دو برس قبل ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہوگیا۔ اس نے دوبارہ فہیم سے رابطہ کیا اور فہیم نے اس کی مالی مدد کی تھی۔ ایک برس قبل واجد مغل نے فہیم سے رابطہ کرکے ملاقات کی اور منت سماجت کی کہ اس کا مستقبل تباہی کے دہانے پر ہے اور اگر فہیم اس کی کچھ مدد کردے تو وہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکتا ہے، جس پر فہیم نے اس کی مدد کی اور حاجی کمرشل والے دفتر میں واجد کو جگہ دے دی اور واجد نے اس میں دوبارہ اپنی شوبزنس کی سرگرمیاں شروع کردیں، چونکہ حاجی والے آفس میں بجلی کے تعطل کا بہت مسئلہ تھا تو واجد کے مشورے پر فہیم نے حاجی کمرشل والا دفتر چھوڑ کر فیز 2 ایکسٹینشن کے اور کمرشل کے دہانے پر واقع پلاٹ نمبر کے فرسٹ فلور پر فلیٹ لے کر آفس شفٹ کرلیا تھا اور پھر وہاں پر اس کا قتل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قاتل تزئین اور ریحان نیازی کو نہیں جانتے ہیں، ان دونوں کو تو انہوں نے گرفتاری کے بعد دیکھا ہے۔

    اب میں جیل کی سلاخوں میں قید ہو اپنی زندگی کاٹ رہی ہوں۔میری زندگی تو تباہ ہو گئی مگر میں ان تمام لڑکیوں سے مخاطب ہو کر انہیں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ شوبز کی دنیا سراسر دھوکہ ، بے ایمانی اور غلاظت سے بھری ہوئی دنیا ہے۔ چمکتی روشنیوں کے پیچھے اتنے گھنائونے اور خوفناک چہرے چھپے ہوئے ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لئے میں ایسی لڑکیوں اور لڑکوں سے یہی کہوں گی کہ وہ شوبز کی دنیا سے دور رہیں بلکہ کوئی بھی کام کرنے کے لئے حدود سے باہر نہ نکلیں، ورنہ ان کی زندگی تباہ و برباد ہو جائے گی اور انہیں پتہ بھی نہیں چل پائے گا۔
    Last edited by Hidden words; 04-08-2012 at 10:03 PM.

  2. #2
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    uff parh he li
    darama b daikha tha aisa he kuch
    bohaat Afsoos nak hay
    suno hworiginal - Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya
    575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diyaღ∞ ι ωιll αlωαуѕ ¢нσσѕє уσυ ∞ღ 575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

  3. #3
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    ab kiya comment karoon is pe muje samajh nahi ata
    aur last wala paigham b ajeeb hai
    mazhab se doori hai aur kuch nahi

    eq2hdk - Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

  4. #4
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Islamabad, UK
    Posts
    88,507
    Mentioned
    1031 Post(s)
    Tagged
    9706 Thread(s)
    Thanked
    603
    Rep Power
    21474934

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    Haye koi mujhe b short summary sunao ina wadda kaise parhon mere mob ki battery khtm hojani par story nahi

  5. #5
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    Sheem short main u ko kch smaj ni ani agr smajna ha to sari pargu pary gi


    Psnd krny ka bht bht shukriya

  6. #6
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    Quote Originally Posted by sheem View Post
    Haye koi mujhe b short summary sunao ina wadda kaise parhon mere mob ki battery khtm hojani par story nahi
    sheem short story main das deta hona
    aik larki hai model bannay ki khawahish hai
    us k saath acha nahi hota qatil ban jati hai aur pakri jati hai
    aur lesson deti hai k showbiz ki duniya achi nahi dhooka hai

    The end

    eq2hdk - Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

  7. #7
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Islamabad, UK
    Posts
    88,507
    Mentioned
    1031 Post(s)
    Tagged
    9706 Thread(s)
    Thanked
    603
    Rep Power
    21474934

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    Uff parh li akhir maine b
    Ini koi ulti sidhi story hai rehan ne mar k chezein ghar mai ku rakhi hoi thein
    Nikame mere se hi training le lete

  8. #8
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    Itna Lamba Page
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  9. #9
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    hmmmmmmmmmmm





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  10. #10
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Ek Larjki Ki Sachi Dastan,Jisko Showbiz Ke Nam Pe Badnam Kar Diya

    psnd krny ka bht bht shukriya

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •