شب ظلمت کا تھا پچھلا پہر
اور رات بھی بے حد کالی تھی
نہ وقت ہی کٹتے دکھتا تھا
...نہ نیند ہی آنے والی تھی

اشکوں سے گریزاں آنکھوں میں
ہالے تھے گذشتہ راتوں کے
اثرات عیاں تھے چہرے پر
اس وعدہ شکن کی باتوں کے

اس کے محتاط رویوں نے
میری ذات کی اور ہوا دی تھی
اور ذات کی کھوج نے اندر سے
میری اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی

اے خواب نہ اب صورت دکھلا
نہیں سما یہ کھیل تماشوں کا
جہاں آگ تھی بے کل جذبوں کی
وہاں رقص ہے زندہ لاشوں کا

بہتر ہے مان جو رہنے دے
اس کے مجبور حجابوں کا
بہتر ہے اور نہ جھانسا دے
نیندوں کو وصل کے خوابوں کا

جو زخم رفوگر سے نہ سلے
وہ زخم کہاں اب سلنے ہیں
جو لوگ بچھڑ گئے راہوں میں
وہ لوگ کہاں اب ملنے ہیں