Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 11

Thread: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات


    حضرت خبیب رضی اللہ عنہ مشرکین کی قید میں تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ کو لوہے کے پنجرے میں قید کیا گیا تھا۔لیکن لوگوں نے انہیں انگور کے خوشے کھاتے ہوئے دیکھا حال آں کہ اس وقت مکہ میں پھلوں کا موسم نہ تھا۔یہ اللہ کا دیا ہوا رزق تھا جو آپرضی اللہ عنہ تک پہنچتا تھا۔پھر مشرکین نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکا کر شہید کردیا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی خبر پہنچی۔آپ رضی اللہ عنہ کی لاش مشرکین ہی کے پاس تھی۔نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نےاصحاب سے فرمایا کہ کون ہے جو خبیب کی لاش کو سولی پر سے اتار کر لائے؟چنانچہ حضرت زبیررضی اللہ عنہ اور حضرت مقدادرضی اللہ عنہ نے اس کا م کو کرنے کی ہامی بھر لی اور روانہ ہو گئے۔وہ رات کو چلتے اور دن کو چھپے رہتے تھے۔یوں وہ اس سولی کےپاس پہنچ گئے جہاں چالیس محافظ موجود تھے۔وہ سب کے سب سو رہے تھے۔ان دونوں حضرات نے حضرت خبیبرضی اللہ عنہ کی لاش کو سولی پر سے اتار ا اور گھوڑۓے پر رکھا۔اگر چہ آپ کو شہید ہوئے چالیس دن گزر چکے تھے لیکن ان کا جسم بالکل تروتازہ تھا۔زخموں سے خون ٹپک رہا تھا اور خون میں سے مشک کی سی خوشبو آرہی تھی۔صبح کے وقت جب قریش کو اس بات کی خبر ہوئی تو چاروں طرف تیز سوار دوڑادئیے گئے۔کچھ تیز سواروں نے آپ دونوں اصحاب رضی اللہ عنہ کو آلیا۔یہ دیکھ کر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش کوحضرت زبیررضی اللہ عنہ نے گھوڑے پر سے اتارکر زمین پر رکھ دیا۔لاش کو جونہی زمین پر رکھا گیا تو لاش کو زمین نگل گئی۔اسی لئے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو بلیغ الارض کہاجاتا ہے۔اس کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کفار کی طرف منہ کر کے کہا کہ میں زبیر بن العوام ہوں اور حضرت صفیہ بنت عبد المطلب میری ماں ہیں۔اور یہ میرے رفیق مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ ہیں۔تمھارا جی چاہے تو تیروں،تلواروں اور نیزوں سے لڑیں اور چاہو تو لوٹ سکتےہو۔چنانچہ وہ کفار لڑے بغیر واپس لوٹ گئے ۔
    دونوں صحابہ کرامرضی اللہ عنہ واپس خدمت نبوت صلی اللہ علیہ وسلمميں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔اسی وقت جبرائیل بھی حاضر ہوئے اور کہا ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دونوں اصحاب کی فرشتوں میں تعریف ہو رہی ہے۔''
    کرامات صحابہ تاریخ خبیب از مفتی عنایت احمد
    عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت :خلیفہ دوئم امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہکو جب شہید کیا گیا تو ان کی شہادت پر جنات نے بھی اظہار رنج وغم کیااور وہ روئے۔حضر ت حاکمرحمتہ اللہ علیہ نے مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہسے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر جبل تبالہ سے یہ آواز آئی۔
    ''اہل اسلام بچھڑ گئے اور مسلمانوں میں ضعف نمودار ہوگیا۔دنیا کی اچھائیوں اور دنیا والوں نے اسلام سے منہ موڑ لیا اور جس کو موت کا یقین ہےوہ تو اس دنیا میں ملول ورنجیدہ ہی رہتا ہے۔''
    کرامات صحابہ ازمولانا اشرف علی تھانوی
    حضرت سعد رضی اللہ عنہ کاجنازہ: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو منافقین نے کہا کہ ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے۔اس پر سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ جنازے کو ملائکہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اس لئے ہلکا معلوم ہورہا ہے حال آں کہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ کا جسم خاصا بھاری تھا۔
    تہذیب ج۳ص۴۸۱
    فضا میں غسل: جنگ احد میں حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ مشرکین سے جہاد کررہے تھے اور ان کی صفیں الٹاتے جارہے تھے ۔اچانک پیچھے سے اسود بن شعیب نے حملہ کر کے حنظلہ رضی اللہ عنہ کو ایسا برچھا مارا کہ وہ شہید ہو گئے۔رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حنظلہ بن ابی عامررضی اللہ عنہ کو نقرئی طشت یعنی چاندی کے ٹب میں مینہ کے پانی سے آسمان وزمین کے بیچ نہلا رہےہیں۔ابو سعید ساعدیرضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے حنظلہرضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔فرشتوں کے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو غسل دینے کی وجہ یہ تھی کہ جب وہ جنگ میں شریک ہونے کو آئے تو ان کو غسل کی حاجت تھی یوں تو شہید کو غسل نہیں دیا جاتا لیکن اگر شہادت سے پہلے اسے غسل کی حاجت ہو اور وہ ایسی حالت میں شہید ہو جائے تو اسےغسل دینا ضروری ہے۔حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو اسی لئے فرشتوں نے غسل دیا کیونکہ کہ دیگر لوگ نہیں جانتے تھے کہ آپرضی اللہ عنہ کو غسل کی حاجت تھی۔
    کرامات صحابہ ص۶۶بحوالہ زیلعی تخریج ہدایہ ج۱ص۳۷۱،۳۷۰
    خشکی پر جہاز: سلطان محمد فاتح کا شمار تاریخ اسلام کے اولوالعزم مجاہدین اور نامور فاتحین ميں ہوتاہے۔یہ مدبر حکمران ۲۲سال کی عمر میں عثمانیہ کا خلیفہ بنا۔مسند خلافت سنبھالتے ہیں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ پر حملے کی تیاریا ں شروع کر دیں۔قسطنطنیہ اس زمانے میں بازنطینیوں کا سب سے مضبوط شہر تھاا ور ناقابل تسخیر علاقہ سمجھا جاتا تھا۔فاتح سے پہلے بھی کئی حکمران قسطنطنیہ فتح کرنے کی کوشش کرچکے تھے مگر انہیں ناکامی ہوئی۔قسطنطنیہ باسفورس،بحیرہ مرمر اور گولڈن ہارن نامی سمندروں میں گھرا ہوا تھا۔صر ف اس کے مشرقی جانب خشکی تھی۔اس لئے اس پر کامیاب حملے کے لئے ایک طاقتور بحری بیڑہ ناگزیر تھا۔سلطان فاتح نے ایک سو چالیس کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑہ تیارکیا۔نیز قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو توڑنے کے لئے پیتل کی ایک ایسی توپ تیارکی کہ جس کے برابر اس وقت کوئی توپ روئے زمین پر نہ تھی۔اس توپ کے ذریعے ڈھائی فٹ قطر کا آٹھ من وزنی گولا ایک میل دور تک پھینکا جاسکتا تھا۔ان تیاریوں کے بعد سلطان فاتح نے قسطنطنیہ کے مشرقی خشکی والے حصے کی جانب سے شہر کا محاصرہ کر لیا۔مگر قسطنطنیہ کی جنوبی دیوار اور بندرگاہ کا محاصرہ کرنا بھی ضروری تھا۔قسطنطنیہ کا محل وقوع کچھ ایسا تھاکہ یہاں کی بندرگاہ تک پہنچنے کے لئے گولڈن ہارن نامی سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔لیکن اہل قسطنطنیہ نے اس سمندر کے راستے پر لوہے کی ایک ایسی زنجیر باندھ رکھی تھی کہ کوئی جہاز گولڈن ہارن میں داخل نہ ہو سکتا تھا۔سلطان فاتح کی خواہش وکوشش یہی تھی کہ کسی طرح اس کے کچھ جہاز آبنائے باسفورس نے گولڈن ہارن میں داخل ہو جائیں تاکہ شہر پر بندرگاہ کے راستے سے بھی حملہ کیا جاسکے۔مگر ایسا ممکن نہ تھا۔اہل قسطنطنیہ نے گولڈن ہارن کے دہانے پر آہنی زنجیریں باندھ رکھی تھيں اور ان کی حفاظت و مدافعت کے لئے ان کے بحری جہاز اور توپیں بھی وہاں موجود تھیں۔
    سلطان فاتح نے اس صورتحال پر غور وفکر کے بعد ایک ایسا فیصلہ کیا جو دنیا کی عسکری تاریخ کا سب سے منفرد، یادگار اور زندہ وجاوید فیصلہ بن گیا۔تد بیر یہ تھی کہ بحری جہازوں کو دس میل خشکی پر چلا کرگولڈن ہارن تک پہنچایا جائے۔یہ دس میل علاقہ سخت نا ہموار اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل تھا مگر سلطان کی عالی ہمتی دیکھیں کہ اس یہ نے یہ عجوبہ صر ف ایک رات میں کر دکھایا۔اس نے خشکی کے راستے پر لکڑی کے تختے بچھوائے ،انہیں چکنا اور ملائم کرنے کے لئے ان پر چربی ملوائی اور پھر ستر جہازوں کو باسفورس سے یکے بعد دیگرے ان تختوں پر چڑھادیا۔ہر کشتی میں دو ملا ح تھے۔ہوا کی مدد لینے کے لئے بادبان بھی کھول دیئے گئے۔ان جہاز نما کشتیوں کو رات کے اندھیرے میں بیل اور آدمی تختوں پر کھینچتے رہے اور بالآ خر صبح سے پہلے یہ تمام جہاز نما کشتیاں چربی کے تختوں پر سفر کرتے گولڈن ہارن کے بالائی علاقے تک پہنچ گئیں۔دشمن کو خبر ہی نہ ہوئی کہ سلطان فاتح راتوں رات اپنی ستر کشتیاں اور بھاری توپ خانہ لے کر گولڈن ہارن اتر چکا ہے۔پھر سلطان فاتح نے قسطنطنیہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کرکے ایک فیصلہ کن جنگ لڑی جس میں بالآخر قسطنطنیہ فتح ہوا۔سلطان فاتح کا خشکی پر جہاز چلانے کا کارنامہ اتنا حیرت انگیز ہے کہ مغربی مؤرخ بھی حیران ہوتے ہیں۔نامور تاریخ نگار ''ایڈورڈ گبن'' نے تو اس واقعے کو معجزہ قراردیاہے۔الغرض یہ واقعہ مسلمانوں کی شاندار تاریخ کی جھلک دکھاتا ہے جب کبھی ہم دریاؤں میں گھوڑے دوڑادیتے تھے تو کبھی خشکیوں پر جہاز چلادیتے تھے۔

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    subhaan ALLAH

    Jazak ALLAH khair

  3. #3
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Behti Zameen
    Posts
    3,853
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    4937 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429506

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    SubhanAllah .. thanks to share

  4. #4
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Lost...
    Posts
    17,151
    Mentioned
    135 Post(s)
    Tagged
    11596 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    3865501

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    Jazak ALLAH khair

  5. #5
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    My OwN WorlD
    Posts
    9,856
    Mentioned
    4 Post(s)
    Tagged
    966 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474852

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    jazak ALLAH

  6. #6
    Danyal's Avatar
    Danyal is offline ѕнυкяια мєнявαηι кαяαм
    Join Date
    Jun 2012
    Location
    Karachi,Pakistan
    Age
    27
    Posts
    1,077
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    3341 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    15039

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    Subhan ALLAH!
    nice sharing... Jazak'ALLAH..!

  7. #7
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    Pazirai ka bht bht shukriya

  8. #8
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi
    Age
    26
    Posts
    753
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    308 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    6

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    Jazak ALLAH khair

  9. #9
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    Pakistan
    Age
    52
    Posts
    275
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    7 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474843

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات

    جزاک اللہ خیر

  10. #10
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    islamabad
    Age
    27
    Posts
    90
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: تاریخ اسلام : دل گرما دینے والے کچھ حیرت انگیز سچے واقعات


Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •