Results 1 to 2 of 2

Thread: چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا چاند

  1. #1
    Join Date
    May 2012
    Location
    lhr
    Age
    35
    Posts
    227
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    188 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    6

    Default چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا چاند


    کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
    گماں گزرتا ہے یہ شخض دوسرا ہے کوئی
    ہوا نےتوڑ کے پتہ زمیں پہ پھینکا ہے
    کہ شب کی جھیل میں پتھر گرا دیا ہے کوئی
    بٹا سکے ہیں پڑوسی کسی کا درد کبھی
    یہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی
    درخت راہ بتائیں ہلا ہلا کر ہاتھ
    کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی
    چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا چاند
    کسی کے ساتھ سمندر میں ڈوبتا ہے کوئی
    یہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہے
    کہ دشتِ شب میں بھٹکتی ہوئی صدا ہے کوئی
    مکان اور نہیں ہےبدل گیا ہے مکیں
    افق وہ ہی ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئی
    فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
    حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
    شکیبؔ دیپ سے لہرا رہے ہیں پلکوں پر
    دیارِ چشم میں کیا آج رت جگا ہے کوئی


    Merey jaisi aankhon walay jab Sahil per aatay hain
    lehrain shor machati hain, lo aaj samandar doob gaya

  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Apne E Ap mein,,,
    Posts
    20,228
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    3230 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474864

    Default Re: چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا چاند

    gud


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •