حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کے ترکے میں کیا چیزیں آئیں اس کا جواب تو یہی ہے کہ ان کی جائیداد میں تھا ہی کیا جو آگے کسی کو ملتا۔ وفات سے پہلے ہی فرما گئے تھے کہ ہم انبیا کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو چھوڑا عام مسلمانوں کا حق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے وارث اشرفی بانٹ کر نہیں پائیں گے یعنی ہوگی ہی نہیں تو کیسے بانٹیں گے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باس چند دینار موجود تھے جو وفات سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ کو کہہ کر خیرات فرما دئیے۔

عمرو بن حویرث جو ام المومنین حضرت جویریہ کے بھائی تھے فرماتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت کچھ نہ چھوڑا نہ دینار نہ درہم، نہ غلام نہ لونڈی۔صرف اپنا سفید خچر اور ہتھیار اور کچھ زمین تھی جو مسلمانوں میں صدقہ کر گئے۔
(یہ خچر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وفات کے بعد یہ مدینہ کی گلیوں میں روتا ہوا پھرتا تھا اور پھر ایک کنویں میں گر کر جان دیدی۔)
بہر حال متروکات اگر تھیں بھی تو یہی تین چیزیں یعنی سواری کا جانور، کچھ زمین اور ہتھیار۔

زمین: حضرت عمرو نے جس زمین کا ذکر کیا ہے کہ مدینہ، خیبر اور فدک کے چند باغ تھے۔ مدینہ کی زمین میں بنو نضیر کی جائداد مراد ہے۔ یا پھر مخریق نامی ایک یہودی کی 2 ہجری میں غزوہ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصیۃٓ ہبہ کئے تھے وہ مراد ہیں لیکن روایتوں سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت یہ باغ مستحقین میں تقسیم فرما دئیے تھے۔
فدک اور خیبر کی نسبت اہلِ سنت اور اہلِ تشیع میں اختلاف ہے۔ اہلِ تشیّ کہتے ہیں کہ یہ آپکی ذاتی جائداد تھی اور وراثت کے طور پر اہلِ بیت میں تقسیم ہونی چاہئیے تھی۔ اہلِ سنت کہتے ہیں کہ یہ زمین بطور ولایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آئی تھی اور چونکہ آپ کا اپنا فرمان ہے کہ ہمارا جو ترکہ ہو وہ صدقہ ہے۔

جانور: گو اربابِ سیر نے جن جانوروں کا ذکر کیا ہے ان سے کسی اصطبل کا گمان ہوتا ہے لیکن یہ سب غلط ہے۔ روایات کے مطابق کچھ یہ تفصیل موجود ہے۔
لخیف ایک گھوڑا جو ابنِ عباس کے باغ میں بندھتا تھا بخاری نے کتاب الجہاد میں اس کا ذکر کیا ہے۔
عفیرہ ایک گدھا تھا۔ حضرت زبیر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مجھ کو اپنے ساتھ اس پر بٹھایا تھا۔
عصباء اور قصوا دو اونٹیاں تھیں۔ عربی زبان میں اونٹ کو ناقہ کہا جاتا ہے۔ مختلف روایات میں یہ دونوں نام ایک ہی اونٹنی کے ہیں۔ بہت تیز رفتار اونٹنی تھی۔ یہی وہ اونٹنی ہے جو مدینہ پہنچ کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ کے گھر کے باہر رکی۔ خطبہ حجۃ الوداع بھی آپنے صلی اللہ علیہ وسلم اسی پہ سوار ہوکر دیا۔
دو خچر بھی تھے جن میں سے ایک کا نام دلدل اور دوسرا وہ جو فردہ بن نفاثہ نے ہدیۃٓ بھیجا تھا۔ یہ دوسرے والا وہی سفید خچر ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین میں سوار تھے۔
اسلحہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں توشہ خانہ مبارک میں مندرجہ ذیل سامان موجود تھا:

نو عدد تلواریں جن کے نام یہ ہیں: ماثور، عصب، ذولفقار، قلعی، تبار، حتف، مخذم، قضیت۔ ماثور والدِ ماجد سے وراثت میں ملی تھی، ذولفقار بدر میں ہاتھ آئی تھی۔تلوار کا قبضہ چاندی کا تھا۔فتح مکہ میں ہاتھ آنے والی تلوار کا قبضہ زریں تھا۔
سات زرہیں تھیں۔ جن کے نام یہ ہیں: ذات الفضول، ذات الواشح، ذات الحواشی، سعدیہ، فضۃ، تبرا اور خزنق۔ ذات الفضول وہی زرہ تھی جو تیس صاع پر ایک یہودی کے ہاں آپنے گروی رکھی تھی۔زرہیں سب لوہے کی تھیں اگرچہ عرب میں چمڑے کی زرہ کا رواج بھی تھا۔
چھ کمانیں تھیں جن کے نام یہ ہیں: زورا، روحا، صفرا، بیضا، کتوم، شداد۔ کتوم وہ کمان تھی جو غزوہ احد میں ٹوٹ گئی تھی اور آپ نے قتادہ کو دے دی تھی۔ایک ترکش تھا جس کو کافور کہتے ہیں۔ایک ڈھال تھی جس کا نام زلوق تھا۔پانچ عدد برچھیاں تھیں۔ لوہے کا ایک مغفر تھا جس کا نام موشح تھا۔ایک اور مغفر تھا جس کو سبوغ کہتے ہیں۔تین حبے تھے جن کو آپ لڑائی میں پہنتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں ایک حبہ دیبائے سبز کا تھا۔ ایک سیاہ علم تھا جس کا نام عقاب تھا اور بھی زرد و سفید علم تھے۔