Results 1 to 2 of 2

Thread: غزل - کہاں سے لاؤں میں شعروں کویہ بات نئی

  1. #1
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    Pakistan
    Age
    52
    Posts
    275
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    7 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474843

    asking غزل - کہاں سے لاؤں میں شعروں کویہ بات نئی

    غزل

    کہاں سے لاؤں میں شعروں میں کوئی بات نئی
    کہ زندگی میں تنوع نہ تیری ذات نئی

    یہ حادثہ تو اسی زندگی میں ہونا تھا
    کہوں یہ کیسے، ملی ہے مجھے حیات نئی

    جہاں کہیں تو چھپے گا، تلاش کر لوں گا
    نہیں ہے میرے لیے تیری کائنات نئی

    یہ زندگی تو ہمہ وقت ایک جیسی ہے
    نہ کوئی دن ہے پرانا، نہ کوئی رات نئی

    ہر ایک پل مری آنکھوں سے خون ٹپکا ہے
    ہر ایک لمحہ ہوئی دل پہ واردات نئی

    جو متّحد ہوں مسلماں تو میرا دعویٰ ہے
    پھر آج کوئی کہانی لکھے فرات نئی

    جبھی تو اس توجہ نہ دی کسی نے فصیحؔ
    کہ تیری جیت نئی ہے نہ میری مات نئی

    شاہین فصیح ربانی
    آپ مغرور کیوں سمجھتے ہیں
    مجھے کم بولنے کی عادت ہے


  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,905
    Mentioned
    210 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    V good

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •