Results 1 to 7 of 7

Thread: Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

  1. #1
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

    الحمد لله الباقي بعد فناء ذي الملك والملكوت ذي العزة والجبروت وهو الحي الذي لا يموت
    حمد الله وأشكره وأتوب إليه وأستغفره وأستعين به واستنصره وأعوذ به من سوء الفتن
    استقامہ کا یہ قول و عمل جو مؤمن کہ دلوں میں عمل صالح کہ لئے فی سبیل اللہ ہوتا ہے۔ وہی محافظ دین کے لئے ملتزم فرائض و صراط المستقیم استقامت کی راہ ِ حق میں جہاد فی سبیل اللہ کہ لئے دل میں جہاد کا جذبہ رکھتے ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ سب سے اعظم و آشرف اوامر اللہ ہے


    وقد قال أمير المؤمنين وقدوة المجاهدين (ع) : »إن الجهاد باب من أبواب الجنة فتحه الله لخاصة أوليائه، وهو لباس التقوى ودرع الله الحصينة وجنته الوثيقة«(2).

    الجہاد جنت کہ ابواب میں سے ایک ہے اور اللہ نے خاص اولیاء کہ لیے بنایا ہے اور وہی تقوی کا لباس ہے اور اللہ کہ افضل عمل جنت کا ثقہ ہے
    اور جو اس طریق عظیم پر جاتے ہے وہی تقوی حقیقی اور اللہ کہ اوامر کی اتباع کرتے ہے وہی مجاہدین کہلاتے ہے تو کیا ہر کوئی جو صلحہ و تلوار لیکر لڑتے ہے کیا وہ جہاد کی برکت حاصل کرتے ہے ۔؟
    بہت سے لوگوں نے رسول ﷺ کہ ساتھ قتال کیا لیکن جب وہ فوت ہوگئے انھیں اللہ کی طرف سے عقاب ملا۔ اسی لئے جہاد کہ بھی اساسی شروط ہے ۔ وہی مجاہد ہے جو قتل کریں اللہ اور دین اسلام اور حق کی جنگ لڑے جو اللہ کی اطاعت کرتے ہے اور اخلاص اور حق اور تقوی کہ لئے مدفع الوطن اپنےہم لڑتے ہے ۔
    اللہ کی اطاعت کہ لئے نا کہ مال اور بنون کہ لئے وہی مجاہد کہلاتے ہے ۔

    عَنْ أَبي هُرَيرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: (لاَ تَحَاسَدوا، وَلاَتَنَاجَشوا، وَلاَ تَبَاغَضوا، وَلاَ تَدَابَروا، وَلاَ يَبِغ بَعضُكُم عَلَى بَيعِ بَعضٍ، وَكونوا عِبَادَ اللهِ إِخوَانَاً، المُسلِمُ أَخو المُسلم، لاَ يَظلِمهُ، وَلاَ يَخذُلُهُ، وَلا يكْذِبُهُ، وَلايَحْقِرُهُ، التَّقوَى هَاهُنَا - وَيُشيرُ إِلَى صَدرِهِ ثَلاَثَ مَراتٍ - بِحَسْبِ امرىء مِن الشَّرأَن يَحْقِرَ أَخَاهُ المُسلِمَ، كُلُّ المُسِلمِ عَلَى المُسلِمِ حَرَام دَمُهُ
    وَمَالُه وَعِرضُه) رواه مسلم

    اللہ تعالی نے جن چیزوں سے منع فرمایا ہے اس پر عمل کریں ۔ حسد و نفرت نا کریں ایک دوسر سے نفرت اور آحادیث کا کذب نا کریں اور نا ہی کسی پر ظلم کریں مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور یہی مضبوظ صلہ ہے ما بین مسلمین ۔ اور في المودة والمحبة کہ ساتھ اپنے بھائیوں سے پیش آئے
    نا کہ فتنہ شازی کہ لئے آعوذ بہ من سوء فتنہ قرآن مجید کی آیت میں ہے فتنہ اشد من قتل ۔ کہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے تو آج کہ دور ِ حاضر میں جو سر عام ہو رہا ہے اسے آپ کیا نام دے گے جہاد یا فتنہ ۔۔۔؟ اسلام میں رابطہ حق و عقیدہ سےعلاقہ الأخَّوة الإيمان کو قائم رکھنا دین اسلام کی پیروی میں نشر المحبہ و تعاون کا ذکر ملا ہے۔ نا کہ اللہ کی آیتوں اور کلام کا غلط مطلب کا بیان دینا ہے۔ اور دین مذہب کہ نام سے لوگوں کو آپس میں لڑوانا
    ۔ فلمسلم اخ المسلم ، مسلمان مسلماں کا بھائی ہے تو ہھر یہ سب بھولا کراسلام کو نشنہ شازی کرکے جو قتل کرواتے ہے وہ گناہ ہے جہاد نہیں ۔ گر کوئی مسلم و مؤمن کا قتل متعمد کریں یا کروائے تواسے اللہ کہ عذاب سے کوئی کیسے بچا سکتا ہے ۔۔۔؟

    قرآن کی آیت میں اللہ تعالہ نے فرمایا ہے کہ
    [ ص: 266 ] (
    ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها وغضب الله عليه ولعنه وأعد له عذابا عظيما


    مسلمان گر کسی بھی مؤمن و مسلم کا قتل جان بجھ کر کیا تو وہ ابد تک جہنم کی آگ میں جلتا رہے گا اور اللہ کی لعنت اور عذاب عظیم
    بھی اسے حاصل ہونگی ۔ پھر ہم آج کس دور میں کس لئے اور کیوں دین و مذ ہب کہ نام سے جہاد کا جذبہء دلا کر اپنے مؤمن اور مسلم بھائی کو جان بجھ کر ضد نفرت غصہ اور جہالت کہ فرقوں میں تقسیم کرکے مار رہے ہیں ۔؟
    چند پیسوں کے لئے کمائی کی خاطر اپنا ضمیر بیچ دیتے ہے جو وہ بھلا کہاں جہاد کہ مطلب سے واقف ہونگے۔ جینے کا مقصد صرف کمانا اور سرد مہری کا مظاہرہ کرکے قران پاک کو آتش جو کر رہے ہے کس بناء پر کر رہے ہے ۔؟
    دولت کہ لئے یا دین مذہب کہ پیسے میں سبقت حاصل کرنے کہ لئے جس میں ہر مولوی اپنی دین کی بات منوانے کہ لئے مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کر رہا ہے ۔ جب کہ کتاب اللہ میں صاف صاف بقول اللہ لکھا ہوا ہے
    كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ

    کہ تم سب سے بہترين امت وہ یے جو لوگوں كے ليے پيدا كى گئى ہے كہ تم نيك باتوں كا حكم كرتے اور برى باتوں سے روكتے ہو اور تم اللہ تعالى پر ايمان ركھتے ہو۔[آل عمران : 110]

    ابن جوزى رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:
    ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں جہاد فی سبیل اللہ ہی ہوا کرتا تھا اسلام ميں جہاد كا مقصد دين كى سربلندى اور روئے زمين ميں دين اسلام كى تنفيذ، اور شريعت اسلاميہ كو حكمرانى دينا، اور لوگوں كو بندوں كى عبادت سے نكال كر بندوں كے رب كى عبادت كى طرف لے جانا، اور اديان كى ظلم و ستم اور جور سے نكال كر اسلامى عدل و انصاف كى طرف لے جانا ہے۔
    جہاد كا لغوى معنى ہے
    انسان كا اپنى طاقت صرف كرنا، اور جدوجھد كرنا.
    اصطلاحى معنى ہے
    مسلمان شخص كا اعلاء كلمۃ اللہ كے ليے جدوجھد كرنا اور اس كے دين كو زمين ميں نافذ كرنے كى كوشش كرنا جہاد كہلاتا ہے۔
    اللہ تعالی فرماتے ہے

    وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ [الانفال 39]

    اور تم ان سے اس وقت تك لڑائى كرتے رہو جب تك كوئى فتنہ باقى نہ رہے، اور سارے كا سارا دين اللہ تعالى كا ہى ہو جائے۔
    شيخ عبد الرحمن السعدى اس آيت كى تفسير ميں كہتے ہيں:
    ’’اللہ سبحانہ وتعالى نے اپنے راستہ ميں جنگ كرنے كا مقصد بيان فرمايا ہے كہ اس كا مقصد غيرمسلموں اور كافروں كا خون بہانا نہيں، اور نہ ہى ان كا مال حاصل كرنا،ليكن اس كا مقصد تو يہ ہے كہ دين اللہ تعالى كا ہو جائے، اور باقى سب اديان پر دين اسلام غالب ہو، اور شرك وغيرہ كو ختم كردے، اور اس آيت ميں استعمال كردہ لفظ فتنہ سے بھى يہى مراد ہے، لھذا جب مقصد حاصل ہو جائے تو پھر نہ تو كوئى لڑائى ہے اور نہ ہى قتل و غارت۔‘‘ [تفسير ابن سعدى : 98 ]
    دین اسلا م ہمیں جہاں جہاد کا صیحیح مفہوم عطا کرتا تھا جس کہ لئے مسلمانوں کہ ایما ن تروتازہ ہوجاتے تھے کے اللہ ہمیں جہاد نصیب کریں ، جہاد میں شامل ہونے کہ لئے جد وجہد کی جاتی تھی وہاں آج لوگ جہاد سے گھبراتے ہے ، اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟ کیوں اس کیوں لفظ نے بہت سے اسباب کو سمیٹا ہوا ہے ؟ دین و مذہب کہ نام سے قسم قسم کہ فرقہ بنے جا رہے ہے ۔ اور آپس میں اختلافی ہو گئی تو اس بات پر ہی اخلاف کہ وجوہات پر دین کہ نام پر نوجوانوں میں اسلامی جزبہ ء دلا کر اس معدیا اور اسے نام دے دیا گیا جہاد بھلا یہ کیسا جہاد ہے ۔۔۔۔؟ اپنی بات منوانے کہ لئے مختلف گروپ سے بدلہ لینے کہ لئے جہاد کہ نام پر بے گنہاؤں کی جانیں چلی گئی اور جلوس نکال کر شہادت کا اعلی مرتبہ بھی خود ہی دے دیا کہ یہ شہید ہے اس نے اسلام کہ لئے جان دی ہے ۔
    ایک گنہگار کو شہید کہہ دیا۔ شہادت کا اصل معانی یہ نہیں ہے شہید وہ ہے جو دین اللہ کی راہ میں یا اپنے وطن کہ لئے جان دے دیں ۔ مذہبی باتوں کا اپنے نظریہ سے خلاصہ بیان کرنا بھی غلط ہے جو بھی بات ہو قرآن کی روشنی میں کریں حوالہ کہ ساتھ ۔بغیر حوالہ سے احادیث کی تصدیق نا کریں ۔

    کوئی بھی جب دین مذہب کی باتیں کریں تو اس سے قرآن اور احادیث سے حوالہ مانگے ایک مسلمان کا مسلمان سے قتل کروانا گناہِ عظیم ہے ۔ان جاہلوں کو کون سمجھائے جس طرح یہ فرقہ بازی کر رہے ہے اس آپسی لڑائی سے دین اسلام قرآن مجید اور نبی ﷺ اور اللہ کہ حق میں جو وہ گستاخی کر رہے ہے وہ گناہ کبیرہ ہیں ۔ جس کی کہیں اور کبھی بھی معافی نہیں ہے ۔ مسلمان شخص كا اعلاء كلمۃ اللہ كے ليے جدوجھد كرنا اور اس كے دين كو زمين ميں نافذ كرنے كى كوشش كرنا جہاد كہلاتا ہے۔


    سوورہ بروج کی 85 ویں سورت جس میں 22 آیات اس کا مضمون خود یہ بتا رہا ہے کہ یہ سورت معکہ ء معظمہ کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب ظلم و ستم پوری شدت کے ساتھ برپا تھا اور کفار مکہ مسلمانوں کو سخت سے سخت عذاب دے کر ایمان سے پھیر دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ سورہ البروج میں
    اس سلسلے میں سب سے پہلے اصحاب الا خدود کا قصہ سنایا گیا ہے جنہوں نے ایمان لانے والوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک پھینک کر جلا دیا تھا۔
    دوسرے یہ کہ جس طرح ایمان لانے والوں نے اس وقت آگ کے گڑھوں میں گر کر جان دے دینا قبول کر لیا تھا اور ایمان سے پھرنا قبول نہیں کیا تھا، اسی طرح اب بھی اہل ایمان کو چاہیے کہ ہر سخت سے سخت عذاب بھگت لیں مگر ایمان کی راہ سے نہ ہٹیں۔

    جس کا موضوع اہل ایمان کو یہ تسلی دینا ہے کہ اگر وہ ان مظالم کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گے تو ان کو اس کا بہترین اجر ملے گا اور اللہ تعالٰی ظالموں سے بدلہ لے گا۔
    تو قرآن کی اس مختصر آیت سے ثابت ہوتا ہے یہ جنگ اللہ کہ لئے تھی ایمان کہ لئے تھی ایک مؤمن اور کافر کہ بیچ میں جو قرآن مجید کی تکذیب کر رہے تھیں ۔۔

    أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
    (سورۃ الحج، آیت نمبر: 39)


    "جن لوگوں سے جنگ کی جار ہی ہے انہیں بھی جنگ کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقنناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے"۔

    پھر اس آیت کے ضمن میں مزید چند آیتیں نازل ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ یہ اجازت محض جنگ برائے جنگ کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس سے مقصود باطل کے خاتمے اور اللہ کے شعائر کا قیام ہے ۔

    نا کہ اپنے کاروباری مسلہ اور ضد کہ اعلان کے لئے ، اللہ کہ فضل سے بہت سے ایسے شباب ہے جو ایمان والے ہیں اور جن کہ دلوں میں دین اسلام اور اللہ کی محبت بھی ہے لیکن گر وہ کسی غلط مولوی یا گروپ والوں میں غلطی سے شامل ہوگیا تو وہ اپنی جان سے جاتا ہے ۔ اسی وجوہات کی وجہ سے آج گزرے وقت کی طرح ایمانی جذبہ نہیں ہوتا،لوگ جہاد کہ نام سے گھبرا جاتے ہیں ۔ اپنے دین مذہب ہو یا اہنے وطن کہ لئے بھی آج کہ دور میں بہت سے لوگ جہاد کہ نام سے ڈر سے گھبرا جاتے ہیں ۔ جہاں گر صیحیح ضرورت بھی پیش نظر گر آتی ہے تو بہ سے سوالات ذہن میں نقش کر جاتے ہے ۔ جن کا جواب مجاہدین کو دینا نا ممکن ہوجاتا ہے ۔ جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ظالموں نے اللہ کہ نام سے ہی ایک دوسرے کو استعمال کیا ہے ۔ دین کی باتوں کی بے حرمتی کرکے اپنے حساب سے اس کا مفہوم یہ نکالا جاتا ہے کبھی سیاہ سنی یا کبھی فرقوں کہ نام سے کہ ہم لوگ جہاد کہ راستے پر ہیں ۔ جس میں جہاد کی نیت نا ہو صرف قتل مقصد ہو وہ جہاد اللہ تعالی کہ نزدیک نہیں ہوتا ۔

    قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ 190وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ191 فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ 192 وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ 193
    (سورۃ البقرہ، آیت نمبر: 190-193)



    "اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو۔ یقنناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور انہیں جہاں پاؤ قتل کرو، اور جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے وہاں سے تم بھی انہیں نکال دو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس قتل نہ کرو یہاں تک کہ وہ تم سے مسجد حرام میں قتال کریں۔ پس اگر وہ (وہاں) قتال کریں تو تم (وہاں بھی) انہیں قتل کرو۔ کافروں کی جزا ایسی ہی ہے۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ غفور رحیم ہے۔ اور ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو کوئی تَعَدَّی نہیں ہے مگر ظالموں ہی پر"


    اس کے جلد ہی بعد دوسری نوع کی آیات نازل ہوئیں جن میں جنگ کا طریقہ بتایا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے اور بعض احکامات بھی بیان کئے گئے ہی

    وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ
    اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔


    سورۃ البقرہ:154


    حدیث میں ہے کہ
    2417 أخبرنا نعيم بن حمادحدثنا بقية بن الوليدعن بحير بن سعد عن خالد بن معدانعن أبي بحريةعن معاذ بن جبلقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الغزو غزوان فأما من غزا ابتغاء وجه الله وأطاع الإمام وأنفق الكريمة وياسر الشريك واجتنب الفساد فإن نومه ونبهه أجر كله [ ص:275 ] وأما من غزا فخرا ورياء وسمعة وعصى الإمام وأفسد في الأرض فإنه لا يرجع بالكفاف


    حدیث کہ الفاظ ہے الغز و غزوان جنگ دو طرح کی ہے جہاد دو طرح کا ہے ۔ یا جہاد کرنے والے دو طرح کہ ہے ، جہاد کرنے والوں کی دو مختلف شخصیت یا مختلف کرداروں کا نقشہ ہماری طرف کرتی ہے کہ اور یہ بتاتی ہے ۔ایک طرف وہ لوگ ہے جو جن کہ اندر پانچ خوبیاں صفات جو اللہ کہ پاس پائی جاتی ہے جو اللہ تعالی کو منظو ر ہے تو اس کا جہاد مقبول ہے ۔
    دوسری طرف تین چار صفات اس کہ برعکس بتائی گئی ہے ۔جو منفی صفات ہے جو اللہ کو منظور نہیں ہے اگر چہ وہ جہاد کر رہا ہے اگر چہ وہ جہاد میں ہے ۔جن کہ اندر منظور وہ صفات نہیں ہے ۔
    محض میدان جہاد میں پہنچ جانا ہے پر وہ مجاہد نہیں ہے۔ اسی طرح محض نماز کہ لئے کھڑتے ہو جانے سے نماز نہیں ہونگی جب تک کہ اخلاص نیت نا ہو ۔جب تک اللہ کی شریعت اور اوامر کی اطاعت نا ہو اسکی نماز ہو یا جہاد قبول نہیں ہوتا ۔ جس کی پہلی شرط ہے ابتغا ء وجہہ اللہ تعالی ،پہلی شرط ہے جن تک نیت میں اخلاص نہیں ہونگا ،ان کا جہاد قبول نہیں ہونگا ۔ جو اللہ کا راستہ میں جو زخمی ہو مقتول ہو رہاہے وہی مجاہد ہونگا اور کون اللہ کی راہ میں زخمی مقتول ہوا شہید ہوا وہ اللہ ہی نہتر جانتے ہے ۔ ہمارے کہنے سے شہید نہیں کہلائےگے ۔
    اسی لیے اخلاص نیت موجود ہے وہ مقبول ہے گر اخلاص نیت ہی نہیں تو وہ رد ہے ۔

    إنما الأعمال بالنيات
    ہر نیک عمل کہ لئے نیت کا ہونا ضروری ہے ۔ اخلاص نیت کا ہونا ضروری ہے ۔
    یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ.( الحج ٢٢: ٣٩-٠٤)


    ''جن سے جنگ کی جائے، اُنھیں جنگ کی اجازت دی گئی، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے، اور اللہ یقینا اُن کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے، صرف اِس بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔'' یہ قرآن کی پہلی آیات ہیں جن میں مہاجرین صحابہ کو اِس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ اگر چاہیں تو جارحیت کے جواب میں جنگ کا اقدام کر سکتے ہیں۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنھیں بالکل بے قصور محض اِس جرم پر اُن کے گھروں سے نکلنے کے لیے مجبور کر دیا گیا کہ وہ اللہ ہی کو اپنا رب قرار دیتے ہیں۔ قریش کے شدائد و مظالم کی پوری فرد قرارداد جرم، اگر غور کیجیے تو اِس ایک جملے میں سمٹ آئی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے وطن اور گھر در کو اُس وقت تک چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، جب تک اُس کے لیے وطن کی سرزمین بالکل تنگ نہ کر دی جائے۔
    'بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا'
    کا اشارہ اِنھی مظالم کی طرف ہے اور قرآن نے اِنھی کی بنیاد پر مسلمانوں کو یہ حق دیا ہے کہ اب وہ جارحیت کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں۔ یہ جنگ صرف اسلام کی تھی صرف اللہ کو رب کہنے ہر انھیں بے گھر کرکے ظلم کیا جاتا تھا ۔ شرک و بدعت کرنے پر مجبور کرتے تھے ۔ لیکن آج کہ دور میں اللہ کا شکر ہے اس طرح کہ مسلہ نہیں ہے ۔ آج اللہ کہ ہی نام سے نشنہ ء شازی کیا جارہا ہے ۔ وہ بھی اپنے فائدہ کہ لئے فرقوں کہ لیے سیاہ سنی کا نام مظاہرہ دیکھا کر غور کیجئے گا نا کوئی ظلم ہوا ہے نا کسی نے انھیں گھر سے نکالا نا ہی انھیں اللہ تعالی کی عبادت سے روکا پھر یہ کس میزان حق کی بات پر آڑے ہے ضد یا غصہ یا فائدہ اللہ کہ عذاب اور غضب سے ڈر بھی نہیں انھیں نا خوفِ خدا ہے ، جب قرآن مجید میں ہے بقول اللہ ۔

    کہ عربی اور آعجمی میں کوئی فرق نہیں تقوی کہ سیوا پھر شک وشبہ بلا وجہ کہ تفرقہ کیوں بنا کر دین مذہب سے کھلواڑ کرتے ہے ۔ ؟ احادیث اور قرآن کی روشنی میں جہاد کو تلاش کریں نا کہ صرف چند مولوی کی گرفت میں آکر ان کہ خلافات کی جنگ میں شامل ہوکر اپنے والدین کا دل دکھائے ۔ کہ میں جہاد کہ راستہ پر ہو یہ جہاد نہیں بربادی ہے اور شرک بھی جس میں نا ظلم ہے نا مظلوم ، جہاد فی سبیل اللہ و فی سبیل الوطن ہی جہاد ہے وہ بھی غیر ممالک سے مدافع اپنے وطن کہ جس کی ارض الوطن ہمیں عزیز ہے اسے ہم کھو نہیں سکتے ۔آپسی لڑائی میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا قتل کرے وہ نار جہنم میں ابد تک رہے گا ۔ کیوں کہ کسی بھی مسلم کو حق نہیں کہ وہ اپنے فائدے کہ لئے اپنے مسلمان بھائی کا قتل متعمداً کریں۔ جہاد فی سبیل اللہ ایسی جدوجہد کا نام ہے، جواللہ تعالی کی خوش نودی کے حصول ، دین کے غلبے اوراحکامات الہی کے فروغ کے لیے کی جائے۔ دین کی روشنی میں مقدس کتاب آپ کہ پاس ہے جاکر کہیں اسی کتاب سے جہاد کا صیحیح مفہوم ڈھونڈیں سوء المعاملةا کہ کوئی غلط قدم اتھانے سے پہلے اللہ اور راہ حق کا سوچے ، اللہ یہدی من یشاء اللہ جسے چاہے ہدایت عطا کریں ۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں بے بنیاد فساد سے بچائے اور یہ فتنہ شازی ختم ہوجائے اور مجہاد وہی قدم اٹھائے جس سے اسے رب کی رضا ملے اور اللہ کہ اوامر کہ خلاف نا جایئے اللہ ہمیں صراط المستقیم کی راہ میں ایمان کی سلامتی عطا کریں ، اور ہدایت عطا کریں کہ ہم جہاد فی سیبل اللہ اخلاص نیت سے اللہ و دین و مدافع عن وطن کہ محافظ میں ہی ہمیں نصیب ہو آمین ۔

    رائٹر ریشم





    Last edited by *resham*; 03-08-2012 at 01:25 AM.

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

    bohat tafseel se aur tehqeeq kar k likha hai
    Masha ALLAH bohat acha likhti hain ap
    Jihaad ki aur b iqsaam haina bilkul sahi likha hai Jihaad k asal meaning dhoondnay chahiye
    likhti rahiye /up

    eq2hdk - Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

  3. #3
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Lost...
    Posts
    17,151
    Mentioned
    135 Post(s)
    Tagged
    11596 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    3865501

    Default re: Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

    mashALLAH bohat hi acha likha...
    Teri ankhon uworiginal - Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

  4. #4
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default re: Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

    Ma sha ALLAH bohaat acha likha resham
    kafi pukhtagi hay ap ki tehreeron main
    suno hworiginal - Jihad Fi Sabeel Allah . .. .
    575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Jihad Fi Sabeel Allah . .. .ღ∞ ι ωιll αlωαуѕ ¢нσσѕє уσυ ∞ღ 575280tvjrzkx7ho zps19409030 - Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

  5. #5
    The Prince's Avatar
    The Prince is offline میرا موبائل ہےناآپکے پاس۔
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Pakistan
    Posts
    839
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    35 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474843

    Default re: Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

    جزاک اللہ خیر۔
    آج کے زمانے میں شاید 10 فیصد مسلمان بچے ہوں جو جہاد کی آرزو رکھتے ہوں۔ ورنہ تو ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن ہے۔ اور یہ بھی کہ جہاد صرف میدان جنگ میں اتر کر دشمنوں سے لڑنے کا نام ہی نہیں بلکہ اپنے نفس کے خلاف جہاد، باطل کے خلاف جہاد، ظلم کے خلاف جہاد تو آجکل بہت اہم ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
    Mhbt zps0200a907 - Jihad Fi Sabeel Allah . .. .
    123 - Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

  6. #6
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

    Subhan Allahh

    bohatt achayy andazz main likhaa haii

    Allah Talaa aapp koo Jazzaieyy Khairr aataa farmaiey





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  7. #7
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default re: Jihad Fi Sabeel Allah . .. .

    aap sab ka bhut bhut shokeriya....
    sab hamesha khush rahein....

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •