دل میں ہے رَنجِ رہگزر کِتنا
اے ہوَا رہ گیا سفر کتنا



بھول جاتا ہوں ملنے والوں کو
خود سے پھرتا ہوں بے خبر کِتنا



اُس نے آباد کی ہے تنہائی
ورنہ سُنسان تھا یہ گھر کِتنا



کون اَب آرزو کرے اُس کی
اب دُعا میں بھی ہے اثر کِتنا



’’ بوُر ‘‘ کو دیکھ کر نہ سوچ ابھی
شاخ پر آئے گا ثَمر کِتنا



وہ مجھے یاد کر کے سوتا ہے
اُس کو لگتا ہے خُود سے ڈر کِتنا



عادتیں سب بُری ہیں "محسن" کی
اچھّا لگتا ہے وہ مگر کِتنا