مسجد کے بارے میں بعض احکامات
حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” جو شخص اللہ کے لیے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کے لیے جنت میں مکان بنا دیتا ہے”۔
(صحیح بخاری)

فائدہ:۔
قرآن پاک میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: ”اللہ تعالٰی کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکوٰہ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوں گے”۔ (توبہ۔ 18)۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ مسجدیں زمین کے اوپر اللہ کا گھر ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ اللہ کے نزدیک تمام شہروں میں مساجد سب سے بہتر مقامات ہیں اور بدترین و ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں۔ (مسلم)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو سب سے پہلا کام مسجد کی تعمیر کا فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد مسلمان معاشرے کے لیے کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے بنانے میں حصہ لینا بہت افضلیت کی بات ہے۔ یہ ایک صدقہ جاریہ ہے اور مرنے کے بعد بھی اس انسان کواجر ملتا رہتا ہے۔ اس کے بنانے میں مدد مال سے ہو یا جان سے اور اس کے حقوق ادا کرنا سب شامل ہے۔ مال سے مدد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان کوئی بہت بڑی رقم ہی اس پر خرچ کرے بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق جو کچھ ہوسکتا ہو اس میں حصہ لے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے ”جس نے اللہ کی مسجد بنائی چاہے وہ پرندے کے گھونسلے جتنی ہو یا اس سے بھی چھوٹی، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا”۔ ظاہر ہے کہ پرندے کے گھونسلے کے برابر مسجد بنانے کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ پوری مسجد نہ بنا سکا تو اپنی حیثیت کے مطابق اس میں چندہ دے کر اس کے بننے میں تھوڑی سی شرکت کرلے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں اس کا گھر بھی گھونسلہ کے برابر ہی ہوگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ: ”جو شخص اللہ تعالٰی کے لیے مسجد بنوائے گا اللہ تعالٰی اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا جو اس سے بہتر ہوگا”۔(احمد)۔ اس لیے کہ اللہ نیتوں کو دیکھتا ہے۔ اس لیے جو شخص پورے اخلاص کے ساتھ مسجد بنواتا ہے تو وہ جنت میں اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک مکان کا حقدار ہوگا اگرچہ اس میں اس کا حصہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو اور اگر کسی کی نیت نام ونمود اور لوگوں کو دکھانے یا سنانے کی ہوتو اس کا یہ عمل اللہ کے نزدیک بےحقیقت ہے چاہے اس نے کتنا ہی مال اس پر خرچ کیا ہو۔ ایک اور ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ: ”قیامت کی علامتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں فخر کیا کریں گے”۔ (ابوداؤد)۔ مسجد کی تعمیر میں جو مال خرچ کیا جائے وہ حلال ہونا چاہیے۔ روایت میں آتا ہے کہ: ”جوشخص عبادت کے لیے حلال مال سے کوئی عمارت یعنی مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں موتی اور یاقوت کا گھر بنائے گا”۔ (طبرانی)۔

مسجد کے حقوق میں اس میں نماز پڑھنا، اس کا ادب کرنا، اس کی صفائی کرنا اور اس کی خدمت کرنا شامل ہیں۔ ایک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس سے عام طور پر غفلت ہوگئی ہے وہ مسجد میں خوشبو کرنا ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم فرمایا اور ان کو صاف ستھرا رکھنے اور ان میں خوشبو کرنے کا”۔ (ابوداؤد و ترمذی)۔ البتہ مسجد کو سادہ رکھا جائے اور آرائش سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد کی آرائش کا حکم نہیں دیا گیا، (ابوداؤد)۔ اس حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ یہود و نصارٰی کی طرح تم بھی یہ کرو گے۔ یہ بھی مسجد کے حقوق میں شامل ہے کہ اس میں خریدوفروخت نہ کی جائے، (بحوالہ ترمذی)۔ نہ ہی اس میں حد جاری کی جائے،(بحوالہ ابوداؤد)، اور نہ ہی کھوئی ہوئی چیز کے لیے اس میں اعلان کیا جائے۔ (بحوالہ مسل
م)