Results 1 to 2 of 2

Thread: خواب کے قیدی

  1. #1
    Join Date
    May 2012
    Location
    lhr
    Age
    35
    Posts
    227
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    188 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    6

    Default خواب کے قیدی

    اپنی اپنی خواہشوں کے عکس میں دیکھا گیا
    ایک لڑکی کو یہاں کس کس طرح سوچا گیا



    اک سخن آثار سا چہرہ تو ہے دل میں مگر
    وہ نہیں جو شہر کی دیوار پر لکھا گیا



    خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
    جب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا



    تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میں
    پہلے آنکھیں بجھ گئیں اور اب چہرہ گیا



    ہم وہ محروم سفر ہیں دشت خواہش میں جنہیں
    اک حصار بے در و دیوار میں رکھا گیا



    برملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہی
    پھر وہاں جو لوگ سچے تھے انھیں روکا گیا



    ہم وہ بےمنزل مسافر ہیں جنہیں ہر حال میں
    ہم سفر رکھا گیا اور بے نوا رکھا گیا



    پھر امیرِ شہر تھا اور مخبروں کی بھیڑ تھی
    پھر امیر شہر خلقت سے جدا ہوتا گیا



    کھا گیا شوق زور ِبزم آرائی اسے
    صاحب فہم و فراست تھا مگر تنہا گیا
    Merey jaisi aankhon walay jab Sahil per aatay hain
    lehrain shor machati hain, lo aaj samandar doob gaya

  2. #2
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    *In The Stars*
    Posts
    18,093
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1271 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474862

    Default Re: خواب کے قیدی

    very nice....




    Yahi Dastoor-E-ulfat Hai,Nammi Ankhon,
    Mein Le Kar Bhi,

    Sabhi Se Kehna Parta Hai,K Mera Haal,
    Behter Hai...!!


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •