غزل
خوشی محسوس ہوتی ہے، غمی محسوس ہوتی ہے
تو پھر کیوں برف سی دل پر جمی محسوس ہوتی ہے

کسی کے قرب نے دل کو عجب سرشاریاں بخشیں
کہیں جاؤں اسی کی ہمدمی محسوس ہوتی ہے

جن آنکھوں میں محبت کی کمی محسوس ہوتی تھی
ان آنکھوں میں دمِ رخصت نمی محسوس ہوتی ہے

یہ محویت کا عالم بھی عجب عالم ہے، مت پوچھو
تسلسل سے لگی بارش تھمی محسوس ہوتی ہے

کسی کی یاد میں آنکھیں سحر دم بھیگ جاتی ہیں
گلستاں کی ہوا بھی شبنمی محسوس ہوتی ہے

یہ کانٹوں پر چلاتی ہو، یہ کتنا ہی جلاتی ہو
مگر پھر بھی محبت ریشمی محسوس ہوتی ہے

فصیحؔ اس شخص کے ہمراہ تو صدیاں گزاری ہیں
عجب کیا ہے اگر اس کی کمی محسوس ہوتی ہے

شاہین فصیح ربانی