Results 1 to 2 of 2

Thread: اجل شرما گئی

  1. #1
    Join Date
    May 2012
    Location
    lhr
    Age
    34
    Posts
    227
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    188 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    6

    Default اجل شرما گئی

    لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
    اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں


    مرا خط پھینک کر قاصد کے مُنہ پر طنز سے بولے
    خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں


    ابھی اے جاں تونے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
    جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں


    قیامت دور، تنہائی کا عالم، روح پر صدمہ
    ہمارے دن لحد میں دیکھیئے کیوں کر گزرتے ہیں


    جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آکے مشاطہ
    ادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں


    چمن کی سیر ہی چھوٹی تو پھر جینے سے کیا حاصل؟
    گلا کاٹیں مرا صیاد ناحق پر کترتے ہیں


    قیام اس بحرِ طوفاں خیز دنیا میں کہاں ہمدم؟
    حباب آ سا ٹھہرتے ہیں*تو کوئی دم ٹھہرتے ہیں


    ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتی
    نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں


    بڑے ہی قدرداں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
    کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں


    وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
    اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں


    امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
    بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
    Merey jaisi aankhon walay jab Sahil per aatay hain
    lehrain shor machati hain, lo aaj samandar doob gaya

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: اجل شرما گئی

    classic





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •