Results 1 to 3 of 3

Thread: Zero Point,Anwan: Ilaj

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Zero Point,Anwan: Ilaj


    جب سر کا درد نا قابل برداشت ہو گیا ، بینائی کمزور ہو گئی ، کانوں میں ٹرین کی آواز سنائی دینے لگی، اور سانس دھونکی کی طرح چلنے لگا تو بچے بابا جی کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے-

    ڈاکٹر نے مریض کا معائنہ کیا، ایکسرے کرائے، سی ٹی سکین کرائی، ای سی جی اور سونو گرافی کرائی اور پھر ساری رپورٹیں ملاحظہ کر کے نہایت دکھی انداز میں کہا:

    " بابا جی کے سر میں ٹیومر ہے، اگر فورا آپریشن ہو جائے تو ان کے بچنے کا دس فیصد امکان ہو سکتا ہے، بصورت دیگر ہر گزرنے والا دن انھیں موت کی طرف لے جائے گا-"

    بچوں نے فورا بابا جی کو اٹھایا اور ہومیو پیتھی ڈاکٹر کے پاس لے گئے-

    اس نے بھی ایکسرے کرائے، سی ٹی سکین کرائی، ای سی جی اور سونو گرافی کرائی، ساری علامتیں سنیں اور پھر پر اعتماد لہجے میں بولا:
    "میرا خیال ہے ہم اس ٹیومر کو دواؤں سے غایب کر سکتے ہیں، آپ جرمنی سے یہ دوائیں منگوا لیں-"

    بچوں نے بابا جی کو پھر اٹھایا اور " تیلے حکیم" کے پاس لے گئے- حکیم نے مریض کی نبض پکڑی ،پتلیاں اٹھا کر آنکھیں دیکھیں، علامتیں سنیں اور پھر اپنی کمزور " تیلے" جیسی گردن ہلا کر بولا: "میرا خیال ہے بابا جی کو قبض ہے اگر یہ رفع ہو جائے تو سارے مرض دور ہو جائیں گے- اگر اجازت دیں تو جمال گھوٹا دے دوں-"

    بچوں نے بابا جی کو پھر اٹھایا اور سنیاسی کے پاس لے گئے-

    سنیاسی نے مریض کی جلد کا رنگ دیکھا، منہ کھلوا کر ملاحظہ کیا ،انگلی سے ریڑھ کی ہڈی پر دستک دی اور پھر بقراطی لہجے میں بولا :

    " جناب عالی اگر یہ جونک لگوا لیں تو سارا مسلہ ختم ہو جائے گا-"

    بچوں نے بابا جی کو پھر اٹھایا اور گھر چل پڑے - جہاں انھیں دعاؤں کے سہارے چھوڑ دیا، رات کو اچانک بابا جی نے چیخ ماری اور اچھل کر ناچنا شروع کر دیا-

    سارے گھر میں بھگڈر مچ گئی ، سب اپنے اپنے لحاف چھوڑ کر بابا جی کے گرد جمع ہو گئے-

    بابا جی نے تالی بجائی اور خوشی سے اعلان کیا،

    " میرے سر کا درد ختم ہو چکا ہے، اب نظر بھی صاف آتا ہے اور سنائی بھی ٹھیک دے رہا ہے ، سانس بھی ہموار اور رواں ہے، میں بلکل صحت مند ہوں-"

    بچوں نے حیرت سے بابا جی سے پوچھا: "لیکن کیسے؟"

    بابا جی ہنس کر کہنے لگے" میں نے لیٹے لیٹے اپنے کالر پر اپنا ہاتھ مارا تو وہ مجھے ذرا تنگ سا محسوس ہوا- بس میں نے کالر کا بٹن کھول دیا اور سکھی ہو گیا- میرا خیال ہے آیندہ مجھے پندرہ کی بجاے سولہ سائز کا کالر پہننا چاہیے-"

    ہاں محترم قارئین ، با غیرت قوموں کو زندہ رہنے کے لئے اپنے اپنے کالر خود ہی کھولنے پڑتے ہیں-

    کیوں کہ غیر تو صرف آپریشن کیا کرتے ہیں، کڑوی کسیلی گولیاں کھلایا کرتے ہیں، جمال گھوٹا دیا کرتے ہیں اور جونکیں لگایا کرتے ہیں-

    از جاوید چودھری، زیرو پوائنٹ، عنوان: " علاج "، صفحہ نمبر 175





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default re: Zero Point,Anwan: Ilaj


    eq2hdk - Zero Point,Anwan: Ilaj

  3. #3
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Apne E Ap mein,,,
    Posts
    20,228
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    3230 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474864

    Default re: Zero Point,Anwan: Ilaj



Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •