Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 11

Thread: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

  1. #1
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    آج پورے پاکستان میں یومِ دفاع جوش وجذبہ کہ ساتھ منایا گیا ۔ میں دار الحکومت میں بخصوص یوم دفاع کے مظاہرے دیکھنے کی غرض سے ، پاکستان کی جانب سے قیادت کا قومی نظارہ دیکھنے کہ لئے مشتاق دل سے دارِحکومت پہنچ گئی ۔ شہداء کی اہمیت کا یہ تاریخی یوم میرے لئے بہت اہم معانی رکھتا تھا اور اس یوم کا جائزہ لینے میں نہایت بے چین تھی ۔ ایمان وایقان و نظریات کی بقا ء میں بھی اس جذبہء کا عقیدہ فلک کو چھو کر حب الوطن کہ جذبہء سے سرشار تھا ۔ پر خلوص نیت اور استقامت کہ ساتھ اصدار شہداٰء کی قومی قیادت اور شجاعت کا پیغام بڑے فخر سے سن رہی تھی ۔ قربانی اور ایثار کی مثالیں دیتے ہوئے دفاع وطن کی اس جیت کا شاندار مظاہرہ قابل فخر تھا ۔پاکستان کی مقدس فضاؤں میں اس تاریخی یوم کا استقبال بے شمار توپوں کی سلامی دیتے ہوئے ،اور شہداء کی اہمیت و شجاعت اور بہادری کا پیغام دیتے ہوئے ہوا ۔ ان کی یادگار کو پھولوں سے سجا کر انھیں سلوٹ کیا گیا۔


    شہداء کی یادوں نے اس تاریخی یوم پر چار چاند لگا دیئے ۔اور اس تاریخی دن میں شہداء کی قربانیوں کی مثالیں دیتے ہوئےشہداء کی شجاعت اور حوصلوں کو سلامی دی گئی ۔۔ پھولوں کی چادر سے اس یادگار یوم کو سجا کر قوم نے بھی محبت اور عقیدت سے سلام پیش کیا۔ عوام نے اس آمد پر پورے پاکستان میں مختلف تقاریب کا اہتمام رکھا ۔وطن عزیزکی شان میں ہمت اور بہادری کا مظاہرہ دہرا کر وطن کی محبت نےسب کہ دلوں کو پھر سے سرشار کیا ۔ ہر طرف خوشیاں قومی بہاریں برسا رہی تھی ۔ سب نے خلوص دل سے شہداء کہ لئے دعایئں کی ، افواج پاکستان نے شہداء کی جد وجہد اور قربانیوں اور جانبازی کو سلامی دی ۔ یہ جشن قومی جذبہ کو اجاگر کرتے ہوئے پورے جوش و جذبہ سے منایا جا رہا تھا ۔ قومی تقاریب منعقد کی جیسے چاروں طرف سے قومی ماحول شہداء کی یادوں اور ان کی قربانیوں کو دہرا رہا ہوں۔ یوم ِ دفاع کہ اس خوبصورت ماحول میں وطن کی ہریالی دیکھ کر میرا تو دل جھوم اٹھا ۔ جب امی کی کال آئی اور اسے سننے شور وغل سے دور گیٹ کی طرف گئی تو دیکھا ایک بزرگ اماں بیٹھ کر رو رہی ہے ہاتھ میں بیتے کی تصویر کو پکڑے پرچم کو سلامی دیتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ قومی ترانہ گنگنا رہی ہے ۔

    میں نے امی سے ہم کلام ہوکر انھیں اطمئنان دے دیا کے میں ٹھیک سے پہنچ گئی ہو آپ فکر نا کریں اور پھر اس بزرگ آماں

    کی طرف رجوع ہوتے ہوئے ان کا قومی ترانہ اور ماجرا جاننے کہ لئے ان کہ پاس چلی گئی


    وہ بڑی شان و فخر سے گنگنا رہی تھیں ۔

    اے سر سبز کے مہمانوں

    میرے وطن کی قدر تم جانو

    کھویا ہے میں نے لال اپنا

    میرا یہ درد تم پہچانو

    بیوہ بے بس میں نہیں

    آج یہ بات تم مانو

    فخر سے سر بلند ہے میرا

    شہید کی ماں ہو میں مجھے تم پہچانو

    یومَ دفاع ایک ماں کہ ساتھ ہے تم مانو


    ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ میرا دل ان کا ترانہ سن کر کانپ اٹھا ۔ اور میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کیا ہوا آماں؟ کیوں رو رہی ہے آپ۔۔۔۔؟

    وہ میری طرف دیکھ کر اپنے بیٹے کی تصویر دیکھاتے ہوئے کہنے لگی یہ دیکھ میرا بیٹا کتنا بہادر ، حسین ، جوان جانباز ہے اچھا تو اب وہ کہاں ہے اور آپ کیوں رو رہی ہیں ۔ ؟ اکیلی آئی ہو کیا ۔۔۔؟ ارے پگلی وہ تو ہمشہ میرے ساتھ ہے میرے دل میں ، میرے پاس اس پرچم میں مجھے نظر آتا ہے وہ ہمیشہ اس ہری جھنڈی میں ، شہید ہوا ہے میرا بیٹا اور مجھے اس بات پر فخر ہے ۔ تو نہیں سمجھے گی یہ خوشی کہ آنسو ہے اسے سلامی دینے میں یہاں ہر سال آتی ہو ، یہ میرا اکلوتا بیٹا تھا گر ایسے دس بیٹے بھی ہوتے تو میں وطن پر قربان کر دیتی تھی ۔ میرا دل یہ سن کر لرز گیا اور میں رونے لگی ۔ اب تو کیوں رو رہی ہے ۔۔؟ آماں مجھے میرے ابا یاد آگئے اور میرے بھی یہ خوشی کہ آنسو ہے ، میرے ابو بھی شہید ہوئے ہے اس فخر پر ہمیشہ میں نے سوگ منایا ، غم میں ہی روئی ہے میری آنکھیں ،آج پہلی بار خوشی کہ آنسو بہائے ہے آماں اسے بہہ جانے دو ۔ حب الوطن کہ لئے جو جانباز شہداء کر گئے ہم ایسا کچھ بھی نا کر سکے ،اپنی جانیں بھی مسکراتے ہوئے دی انھوں نے ہمیں ان پر فخر کرنا چاہیئے خوش نصیبوں کو یہ شرف حاصل ہوتا ہے ۔ مایوسی کہ اندھیروں نے عوام کو غیر یقینی میں مبتلا کردیا ہے ۔ لیکن ان شہداءوں کی قربانیوں کا استقبال کیا ہم آج ان اداسیوں سے اور شکایتوں سے کرینگے ۔ ؟

    نہیں نا آماں ، آماں میں ہمیشہ سوچتی تھی اللہ نے مجھے بیٹا کیوں نہیں بنایا ورنہ آج میں بھی اپنے وطن کی حمایت ایک فوجی بن کر کرتی تھی نا ۔ آج مجھے حدِ افسوس ہے کہ میں کچھ نا کر سکی لیکن مجھے میرے والد پر فخر ہمیشہ رہا ہے ۔

    صیحیح کہا تونے بیٹا شہیدوں کی قربانیوں کا صلہ ہے جو آج ہمارا وطن آزاد ہے۔ میرا قائد چلا گیا یہ خواب آنکھوں میں لئے تکمیل پاکستان کی جدو جہد ادھوری رہ گئی ہے ، کہیں ان شہیدں کی قربانیاں بھی ضائع نا ہوجائے جی ڈرتا ہے سوچ کر ۔ کس کس کو سمجھائے ۔ وطن کی محبت کہ جزبہء کو دشمن سازشں سے روند رہیں ہیں ۔ لیکن بیٹا مجھ بڑھیا کی آنکھوں میں کوئی جھانکیں تو دیکھیں حب الوطن کی شمع آج بھی روشن ہے ان آنکھوں میں ۔ 1965 کی جنگ میں فوجیوں نے جو بہادری کا مظاہرہ دیکھایا تھا آج بھی یہ آنکھیں بھول نہیں پاتی قربانی اور شجاعت کہ اس منظر نے پاکستان کی تاریخ کا تختہ ہی پلٹ دیا ۔ اور اس یوم کو پاکستان کی تاریخ کا یادگار دن مقرر کردیا گیا۔ مصلح افواج نے اپنی بہادری کی مثال و کارناموں سے 6 ستمبر 1965 کہ واقعات ہمارے لئے قابل فخر ہی نہیں ایمان افروز اور درس حیاۃ ثابت ہوئے ہیں ، دفاع الوطن کی اس جنگ میں ہمارے رہنماؤں کو عوام کی بھر پور حمایت اور حوصلوں کا اتحاد ملا ۔ چھوٹوں سے لیکر بڑوں تک نے ہر قبیلہ اور طبقوں کہ لوگ جذبہء وجہاد سے سرشار تھے ۔ قومی جذبہ نے بڑی تقدیر اور ایثار سے کئی گنا بڑی طاقت کو شکست دی اور بہادر افواج نے اپنی مثال آپ قائم کی ، ان ہی ہاتھوں سے میں نے اپنے بیتے کی لاش اٹھائی تھی ، اور میرے بیٹے کہ سر کو اپنی گود میں سلا کر اسے میں نے قومی لوری آخری بار سنائی تھی ۔ جب اس نے جنگ میں جاتے جاتے پلٹ کر بھی میری طرف نا دیکھا تو میں تبھی سمجھ گئی تھی کہ شہادت کا انعام اسے ملنے والا ہے ۔ میرا بیٹا شہید ہونے والا ہے ایک ماں کہ دل نے یہ بات پہلے ہی محسوس کر لی تھی ۔ میں نے اس کی لاش کو دیکھ کر اس کی پیشانی کو فخر سے بوسہ دیا ، اس کی لاش خون میں لت پت تھی لیکن چہرے پر شہادت کا نور چھلک رہا تھا ۔ ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جسے صرف ایک ماں نے پہچانا تھا جو کہہ رہی تھی ایسی کئیں جانیں اس وطن پر قربان ہے ۔ ماں تو مت رونا مجھے خوشی خوشی ودع کرنا ، جیسا میرے لال نے کہا تھا بلکل ایسے ہی میں نے کیا اپنے بیٹے کو میں ایک دولہہ کی طرح سجائی تھی اور فخر اور بلندیوں کو چھوتے ہوئے ایک ماں نے بیٹے کہ جنازہ کو ایسے رخصتی دی جیسے کوئی بارات جا رہی ہو ، شرفروشوں کی عظمت کو بیٹا سلام کر سلام وہ عظمت نصیب والوں کو ملتی ہے جو دینا میں فخر اور آخرت میں سیدھا جنت تک لیں جاتی ہے ، اپنے بیٹے کی تصویر ایک پتھر کہ سہارے رکھ کر وہ پُر جوش جذبہ سے اٹھی ۔ اور افواج سٹاف گارڈز کی طرح اپنی بیساخی تھامے کبھی دایئں مڑتی کبھی باہیں مڑتی اور مسکرا کر سلام دیتی ، میرے جانباز تجھے آج ایک ماں سلوٹ کرتی ہے سارا وطن تجھے سلامی دیتا ہے


    اے لال میرے تیری یاد کا دن آیا

    قربانیوں سے تونے جسے تھا سجایا

    اے لال میری تیری شہادت کا دن آیا

    تجھ پر فخر ہے تو ہی میرا جگر ہے

    آنکھیں ڈھونڈیں میری میرا بیٹا تو کدھر ہے

    تیری لاش کو بھی میں نے دلہہ کی طرح تھا سجایا

    آج یوم دفاع پر میں نے سر فخر سے اٹھایا

    اے لال میرے تیری یاد کا دن آیا


    میری آنکھیں حسرت سے اس ماں کہ جگر کو سلام کرتی رہ گئی ۔ جس نے حب الوطن کا جذبہ اس بے سہارگی میں اور مایوسی میں بھی نہیں چھوڑا واقعی ایک منظر وہ تھا جو میں نے اندر دیکھا تھا اور ایک یہ جس کی خاطر میں مشتاق ہوکر اتنی دور سے آئی تھی، لیکن اللہ نے جو مجھے سبق آموز منظر یوم دفاع کا جو ایک ماں کہ حوالہ سے دیکھایا تھا ایک ماں کہ نام سے وہ واقعی اس ماں کی جگر کا اور صبر کا اور محبت کا بہت اعلی منظر تھا ، جو میں نے دیکھا اسکی مثال کہیں نہیں ہے ۔ میں نے دل سے سب شہیدوں کی ماؤں کو سلامی دی واقعی شہداء ماؤں کہ کلیجے نہیں کانپتے جو اپنے بیٹؤں کو اس عزیز وطن پر فخر سے قربان کر دیتی ہے ، کتنی عظیم ہوتی ہیں یہ مایئں جنھوں نے جیتے جی اس غم کا سامناصبر و ہمت سے کیا ۔اور زرا سی شکنج بھی نا آنے دی اپنے چہرے پر اور فخر و سرور سے انھیں رخصت کیا ۔


    میں انھیں دیکھ ایک پل کہ لئے کھو گئی حب الوطن کہ جذبہ ء کو خود میں سمیٹنا آسان ہے لیکن اس جذبہء کو کسی اور کی آنکھوں میں دیکھ کر دہری خوشی محسوس کرنا ایسے ہے جیسے اس خوشی کا عکس کوئی دوسری آنکھوں میں دیکھ رہا ہے ۔ ،پھر میں ان کی خوشی کی خاطر اسی طرح اس کہ لال کو سلامی دینے لگی ۔ تاکہ وہ خود کو اکیلا نا سمجھے ، اور ان کہ ترانہ پر مسکراتے ہوئے اپنے والد کو آسمان کی طرف دیکھ کر بابا جانی کو سلامی دیتے ہوئے شہداء کی اہمیت کو آسماں کی بلندیوں پر چمکتا دیکھ کر کہنے لگی ، بابا جان سلام آپ کی قربانیوں کو ، سلام آپ کی شجاعت کو ، سلام ہمارے فوجی شہداء بھایئوں کو ، ان کی ماؤں کو ، اے اللہ تعالی آج دل سے ہماری دعایئں ان تک پہنچا دیں ، ہند کی اس جنگ نے جو حوصلہ تونے شہداء کو عطا کیا تھا وہی جذبہ ء اور حوصلہ ہم سب کہ دلوں میں بھی بھر دیں آمین ۔ دل سے ہم سب کی دعایئں بزرگ آماں کی دعایئں اے رب ان تک پہنچا دیں اللہ ان جیسی شہادت ہمیں بھی نصیب کریں آمین ۔ بہت اچھا لگا مجھے آج یوم دفاع کا اصل معنوی اور مثبت چہرہ ایک ماں کی آنکھوں میں اور خود کی آنکھوں میں دیکھ کرا ور اس کی اہمیت کا سورج روشنی بنکر میرے دل میں اتر گیا اور وہ ساری اداسی لیں گیا جو میں اپنے بابا جان کہ لئے محسوس کیا کرتی تھی اور خود کو اکیلا ان کی کمی کو لیکر اکثر روتی رہتی تھی ، لیکن آج ان ہی شہیدوں کی قربانیوں نے میرے وطن کی حفاظت کی ہے ، دشمنوں سے انھیں بچا کر ہمیں سونپا ہیں اب ہم ہی پاسباں ہے اس کہ ، ہر برائی کو ہم دوسروں میں ڈھونڈتے ہے لیکن جب خود میں گر ڈھوندیں گے تو ہمیں خود سکون ملیں گا ۔ دوسروں پر انگلی اٹھا کر ہم خود کو نظیف اور صیحیح ثابت کرتے ضرور ہے لیکن آج ہمیں خود کو بدلنا ہے اپنی سوچ کو دوسروں پر دھونس کر کیا ہم اپنا مقصد ثاپت کر سکے گے ؟ جب تک ہمارا خود کا نظریہ نہیں بدلےگا پاکستان کہ حالت نہیں بدلے گے ۔ یوم دفاع کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے کیوں کہ آج ہم سازشوں میں گھیرے ہوئے ہے اور دفاعی ہجوم کرنے کی بجائے دشمنوں کہ قول و عمل کو نشانہ شازی کرکے ملک پر تحمت لگانے کا حق ہم کہاں سے لیں آیئے ہیں ۔ َ؟ برائی کا جواب برائی سے دیکر خود کو اچھا سمجھنا کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ ہمیں ضرورت ہے دفاع عن نفس کی نفس کی مخالفت کی ایں شیطان ملعون نے ہمیں گمرہ کر دیا ہے اور ہم بجائے اس کہ اعوذ باللہ پڑھیں

    اسی خلافات کا دم بھر رہیں ہیں جو ہمارے دشمن کی عارضی اور باطنی طلب میں ہے ۔ ہم خود شکاری بن کر شیطان کی پناہ میں دشمن کی بولی بول رہے ہیں ، ہمیں ہمارے خیالات اور سوچ کی دفاع کہ مضاد کھڑا رہنا ہیں ۔

    حب الوطن ایک جراغ کی مانند ہماری روح میں روشن ہے اور اسے ہمیں اپنی سوچ اور دشمنوں کہ آندھی طوفان اور سازشوں سے بچانا ہے ، الزام پرست کبھی سکوں سے نہیں رہتے ، اپنا دامن شیطانی وسوسوں سے صاف رکھنا ہے ۔جب کہ ہم نے اس وطن عزیز کہ لئے کچھ نہیں کیا نا وہ قربانیاں دی جو شہداء نے دی تھی ، نا وہ حمایت اور نا ہی و شجاعت دی جو ہمارے فوجی بھایئوں نے دی تھی ، جس طرح ہم نے ان سے آزاد وطن ملا ہے زرا سوچو ہماری آنے والی نسلوں کو ہم سے کیا ملیں گا ۔۔۔؟ ہمیں وطن کو اپنے ہاتھوں سے حمایت دینی ہے، سجانا ہے ہر برائی کو نکال کر ہمیں وہ دفاع دینا ہے جس کی آج ہمیں بہت ضرورت ہے



    آج واقعی یومَ دفاع کی سعادت کو محسوس کرنے لگی تھی ۔ دل جذبہ ء وطن کہ پیار سے بھر گیا ، اور اپنے رہنماؤں کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے انھیں دل سے بار بار دعایئں نکل رہی تھیں ۔ ایک ماں کے جذبہ نے اس یوم کی شان میں میرے لئے اضافہ کردیا ۔ میں نے ان بزرگ آماں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے جاتے جاتے ایک بات پوچھی کہ اماں جب آپ اپنے بیٹے کہ لئے اس قدر روحانی عظیم جذبہ رکھتی ہے تو اندر جاکر ان تمام عسکریوں اور سٹاف کہ ساتھ ملکر اپنے بیٹے کی شہادت کہ یوم کو کیوں سلامی نہیں دیتی ۔ ؟ وہ بزرک اپنی لاٹھی تھامتے ہوئے کہنے لگی ۔ بہت کوشش کرتی ہو بیٹا وہاں جانے کی لیکن اس قدر بھیڑ ہوتی ہے کہ سب مجھے دھکا دے کر گرا دیتے ہے کمزوری میرا ساتھ نہیں دیتی ۔ ہر کوئی اس عظمت کا نظارہ دیکھنے کے لئے بے چین ہوتا ہے ۔ اور شور وغل میں میری آواز کوئی نہیں سنتا اور میرے بیٹے تک میں اپنی سلامی بھی پہنچا نہیں سکتی ۔ اس افسوس میں مجھےنیند نہیں آتی تو میں اس پرچم کو لیکر اس کی بہادری اور شہادت کو سلام یہاں کردیتی ہو ۔ میں نے کہا اماں آپ میرے ساتھ چلیں میں دیکھاتی ہو شہداء کہ اس یاد گار عظمت کا نظارہ آپ کو ، سب کیسے آپ کہ بیٹے کی یاد پر پھول چڑھاتے ہیں اور انھیں دعائیں دیتے ہوئے ان کی شجاعت کے پیغام سناتے ہیں ۔ کل عوام ملکر کتنے فخر سے ان سب کی شہادت کو سلام کرتی ہیں اور کس شان سے یومَ دفاع مناتی ہے ۔ آؤ آماں میں لے چلتی ہو وہاں ، میں ان کا ہاتھ تھام کر انھیں اندر لیکر گئی سب شہداء میں ان کہ بیٹے کی تصویر بھی وہاں تھی اور سارا فوجی سٹاف شہیدوں کہ لئے احترام و شہادت تقدیر کا پیغام سنا رہاتھا ۔ بزرگ آماں کی آنکھیں خوشی سے رونے لگی ، اور سر فخر سے بلند کر کے انھوں نے بھی اپنے بیٹے کی تصویر کو سلوٹ کیا ۔ میں نے ان کہ جذبہء کو محسوس کرتے ہوئے فوجی سٹاف جنرل سے اجازت مانگی ، اور انھیں اسٹیج پر چند لفظ کہنے کی ریکویسٹ کی ۔ بزرگ آماں لاٹھی کو تھامتے ہوئے بڑے جوش و جذبہ ء سے آگے بڑھی اور بڑی شان سے اپنا سر بلند کرتے ہوئے کُل شہیدوں کو سلامی دیتے ہوئے اپنے دل میں رکھی مدت سے جو باتیں تھی کہنے لگیں ، مجھے اور سارے پاکستان کو فخر ہے ہماری فوج نے دشمنوں کو ہرایا ہے ۔ 6 ستمبر کی صبح بھارت نے جب حملہ کیا اور دشمنوں نے بے پناہ گولہ باری کی تو ہماری افواج نے جس شجاعت سے دفاعی ہجوم سے دشمن کو مات دی وہ قابل ِعمل ہے ، اس معرکہ میں کئی جانیں گیئں بہت کچھ تباہ و برباد ہوگیا لیکن جانبازوں نے ہمت نا ہاری اور ٖحوصلوں سے دشمن کا سر کچل دیا ۔ حب الوطن و شجاعت کا وہ مظاہرہ دیکھایا کہ دشمن کی حالت ہی خراب کردی اور دفاع کی اس جنگ کو جیت کر یوم دفاع کا چراغ روشن کرکے وہ شہداء چلیں گیئں ہمارے ہاتھوں میں یہ وطن سونپ کر ، ان میں میرا بیٹا بھی تھا ۔ میں نے ایک دولہہ کی طرح اسے سجا کر ودع کیا اور میرے جیسی کئی ماؤں نے اپنےبیٹوں کو فخر سے اس وطن پر قربان کر دیئے ۔ میرے گر اور بھی بیٹے ہوتے تو انھیں بھی مسکراتے ہوئے قربان کر دیتی ، حکومت نے مجھے تعاویزات کہ طور پر بہت کچھ دینا چاہا فنڈس اور روپیہ وغیرہ میں نے انکار کردیا ۔ جب میں نے اپنا اکلوتا سہارا اور سب سے بڑی دولت اس وطن کی نظر کردیا تو یہ فانی دولت مجھے کیا دے گی


    تو میرے بچوں شہداء کی ماؤں کہ کلیجے نہیں کانپے اپنے بیٹوں کی لاشوں پر اور ہستے مسکراتے انھیں وہ وطن پر قربان کر گئی ۔ تو بس اتنا کہنا جاہونگی ان کی جد وجہد کا یہ چراغ بجھنے نا دوں پاکستان سے خفا ہوکر دشمنوں کو موقعہ نا دو ں۔ پاکستان سے لینا نہیں اسے کچھ دینا بھی سیکھوں ۔ پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے اور شہیدوں کی اس فتح کو محفوظ اور برقرار اب تمہیں رکھنا ہے دفاعی انتظامات کہ ساتھ ہر وقت محفوظ رکھو ں خود کو اور پاکستان کو بھی اور جزبہء شہادت کو اپنی آن و شان سمجھو ۔ اپنے وطن کہ لئے کچھ کر دیکھاؤ بس یہی وقت ہے آزمائش کا ، وطن کی حفاظت اب تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ آج میں اس بیساخی پر چلنے والی بڑھی کہ کاندھے ایک بیتے کی لاش کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں تو تم نوجوان نسل اپنے حب الوطن اور جہاد کا جذبہ ہی اٹھا کر دیکھو اور میرے وطن کہ بچوں ہمارے شہداء کی ہمارے قائد کی قربانیاں ضائع نا ہونے دوں ، میری ہی نہیں ہر ماں کی دعا یئں تمہارے ساتھ ہیں ۔ اس وطن کی حفاظت خود کرو بجاے ایکدوسرے کی الزام پوشی اور وطن کو شرمسار سمجھنے سے دشمن کی سازش کا جواب حکمت سے دوں جیت ہمارے پاکستان کی ہونگی ۔ انشا ء اللہ پھر وہ ایک فوجی کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتی ہے بیٹا میری بات نا بھول جانا اسے ہمیشہ یاد رکھنا میرے وطن کا چراغ بجھنے نا دینا میں نہیں بھی رہی تو میرے لال اور شہداء کی قربانیوں کا ذکر کرکےحب الوطن کا یہ جذبہء ہمیشہ قائم دائم رکھنا ۔

    آماں نے میری طرف اشارہ کرکے ہاتھ بڑھایا ۔ اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعایئں دی ۔ اور سارے فوجی سٹاف نے تالیوں کہ ساتھ ایک ماں کہ اس عالی شان جذبہء کو سلامی دی ۔۔۔۔


    یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے

    یہ چمن تمہارا ہے ، تم ہو نغمہ خواں اس کے

    اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا

    ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا

    نظم و ضبط کو اپنا میر کارواں جانو

    وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو

    یہ زمیں مقدس ہے ماں کے پیار کی صورت

    اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار

    دیکھنا گنوانا مت دولت یقیں لوگو

    یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو

    میر کارواں ہم تھے، روح کارواں تم ہو

    ہم تو صرف عنواں تھے ، اصل داستاں تم ہو

    نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا

    اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا

    یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے

    یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے


    رائٹر ریشم

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    bohat khubsurat bohat jandaar hubul watni ko jaga denay wali tehreer hai
    bilkul sahi kaha yeh un maaon ka kaleeja hai jo apnay laal watan ki baqa k liye qurbaan honay deti hain aisi maaon ko salaam

    eq2hdk - یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

  3. #3
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    Great Sharing. Thanx

  4. #4
    Join Date
    Feb 2012
    Location
    karachi
    Posts
    845
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    142 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    Great
    nICE
    bEutIFuLL
    tHaNkX

  5. #5
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Karachi
    Posts
    3,929
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1530 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474846

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    very nice
    1383466 1388375978065877 814058537 n zpsc25ba847 - یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

  6. #6
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    very nice n beautiful
    heart touching sharing


  7. #7
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    3,290
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    2597 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    541177

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    bht zabrdast

  8. #8
    Join Date
    May 2012
    Location
    !!!KiSii Kii DuAouN meii!!!:):)
    Posts
    10,485
    Mentioned
    83 Post(s)
    Tagged
    10415 Thread(s)
    Thanked
    28
    Rep Power
    2184012

    Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    wahhhhhhhhhh/up..............bhttttttttttttttt xabardastttttttt andaaaz n veryyyyyyyyyyyyyy beautyyyyyyyyyyyfulllllllllll shariiin .....
    ---------------- -----------------

    sigpic16201 13 - یومِ دفاع ایک ماں کہ نام


    -------------------------------------------------------------
    some people are worth
    melting for....!!!
    ..(olaf)..
    ------------------------------------------------------------------------


  9. #9
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    Aap sab ka bhut bhut shokeriya ...
    sab hamesha khush rahein ....

  10. #10
    Join Date
    Feb 2010
    Location
    Pakistan
    Posts
    1,116
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    5 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    9

    Default Re: یومِ دفاع ایک ماں کہ نام

    Speechless
    PAKISTAN Eik ISHQ Eik JANOON

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •