Results 1 to 10 of 10

Thread: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

  1. #1
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    ناول

    ٭٭٭٭٭

    ایک طرفہ محبت

    حناء تعجب سے جاوید کو تکتی رہ گئی ۔ اور سوچ میں پڑھ گئی کے جاید کو کیا حق تھا اس کی زندگی تباہ کرنے کا گر یہ بات سچ ہے تو, جاوید کی آواز اس کے

    کانوں کو چیر کر نکل جاتی ہے ، اور حناء کا دل گھبرانے لگا ۔ وہ کچھ سمجھ نہیں رہی تھی اپنی کیفیت کو , یا شاید جاوید سے شادی کی خوشی کہ خمار میں ہی وہ گم تھی, یا جیسے سمجھنے سے ڈر رہی ہو اپنی کیفیت کا خلاصہ تراشنے سے ۔ وہ بولیں جا رہے تھے ,اور حناء اپنی معصومیت میں کھوئی ان باتوں کا مقصد تلاش کر رہی تھی ۔ اور وہ جانتی تھی جاوید کو کے سریس انھیں کبھی ہونا نہیں آتا ، جو منہ میں آیا کہہ دیا ,پھر اسے اچانک اپنی سہلیوں کی باتیں یادآنے لگی کہ جیسا کہ رانی ببلی ہیرا نے اسے کہا تھا ۔ کہ آج آزمائش کی رات ہے۔ کہیں یہ میرا امتحان تو نہیں لیں رہے ہے ؟ ، ان لوگوں نے کہا تھا عجیب و غریب باتیں کریں گے جیجو ،جو کبھی نا سنی نا کہی اور واقعی یہ عجیب و غریب ہی بات کر رہے ہے ۔ حناء اکثر گھبراہٹ اور پریشانی میں وضو کرکے سوچتی تھی ۔ اور جیسے جیسے اسے گر کوئی برے خیال ذہن میں کشمکش کرتے تو درود شریف کاوِرد کرکے مطمئن ہوجاتی تھی ۔ ۔


    لیکن جاوید نے اسے اس طرح گھیرا تھا جیسے کوئی استاد درس شرح کر رہا ہو اور اپنے شاگرد کو ہلنے بولنے کی بھی اجازت نہیں دی ہو ، تم سن رہی ہو نا میں کیا کہہ رہا ہو ,حنا ء جو اپنی معصومیت میں کھوئی اور گھبرائی بھی تھی ۔ چونک کر جی سن رہی ہو ۔ پھر حناء تھکان کو محسوس کرتے ہوئے مخاطب ہوتی ہے ,آپ سو جائے کل انشاء اللہ بات ہونگی ۔ حناء تو کیا تم میرا ساتھ دونگی ؟ ایک بچے کی طرح جاوید ضد کرکے کہو دونگی نا ۔۔؟ وعدہ کرو مجھ سے ، حناء جاوید کی بات بنا سمجھے وعدہ کرتے ہوئے جی یہ تو میرا فرض ہے ۔ جاوید خوشی سے اوہ حناء تم کتنی اچھی ہو ۔ حناء پیار میں اندھی اور بہری تھی یا اسے آج کی اس ملی خوشی کا اتنا خمار تھا کہ وہ حد ِ دور تک بھی جاوید کہ ارادوں کو سمجھ نا سکی ۔اور نا ہی ان کی باتوں کو سریسلی لی ۔اور آج حناء بے مقصد اور بے حس ان باتوں کو سوچ کر خود کی بے وقوفی پر پچھتا رہی تھی ۔ لعنت بھیج رہی تھی خود کی کم عقلی پر ،لیکن کیا حل اس کہ بس میں تھا ۔۔۔؟ وہ سوچ کر شرمسار تھی

    کہ کاش اسی رات میں ان کہ ارادے سمجھ گئی ہوتی ۔


    آنکھوں میں حیرت کہ آنسو یادوں کو جھنجھوڑ رہے تھے ۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا جاوید جو اس قدر خوش اخلاق اور سب کی نظر میں محبوب شخص تھے ،لیکن آج ان کہ اندر کل کی کوئی نیک بختی کی، اور دین سے لیکر دنیا تک کہ اپنی بیوی کہ حقوق سے انجان ہوکر صرف اور صرف اپنی محبت کا دم بھر رہے تھے۔

    وہ حیرت سے اپنے اس غم خوار کو اپنی ہی آنکھوں میں ڈھونڈ رہی تھی ۔جیسے مدت ہوگئی ہو اسے پرانے جاوید سے ملے ہوئے ، یہ تو کوئی اور ہی ہے میرے جاوید ایسے کیسے ہو سکتے ہے۔ وہ اپنے ہی آنسوؤں سے ان کا پتہ پوچھ رہی تھی ۔ وقت بھی انسان کو کتنی جلدی بدل دیتا ہے ۔ کیا نہیں کیا جاوید نے حناء ایک انجان لڑکی کہ لئے، وہ سب باتیں ذہن میں ایک ہسٹری کی طرح قید کی ہوئی یادوں کو بلا رہی تھی ۔


    کہ جاوید نے اس کا بہت ساتھ دیا ۔ کیا نہیں کیا جب کہ وہ انجان تھی ، اور آج بیوی ہوکر بھی جیسے ان احسانوں کی وصولی مانگی جا رہی ہو ۔ کتنا ساتھ دیا اسے آج بھی یاد ہے بہت اچھے سے جب جب اسے ضرورت ہوتی ایک فرشتہ کی طرح اس کے سامنے ہی ملتے تھے ، اسے آج بھی یاد ہے جب میلہ لگا تھا اور جھولہ میں بیٹھنے کہ دوران جب اس کا روپٹا فس گیا اور اسے کھینچ کر چالو جھولہ ہونے کی وجہ سے اس کا گرنا اور زخمی ہونا تو کس طرح جاوید نے اسے موت کہ منہ سے بچایا تھا ۔ جب پہلی ملاقات تھی اس کی جاوید کی اتفاقا ً، بار بار جاوید کا ہسپتال آنا اور جانا لگا رہتا تھا ،اور یہ دونوں دعا وسلام اور شکریہ کی حد تک ہی گزرے تھے ۔ حناء کی امی کا تو دل جاوید نے ویسے بھی جیت لیا تھا ۔ حناء کی جان بچا کر ، اور سارا گھر خاندان جاوید کا قرض دار بن گیا تھا ،کہ اس نے حناء کی جان بچائی تھی ، اور اس کی امی اور بہنوں کے ساتھ جاوید نے حناء کہ اچھے ہوئے تک ہسپتال سے آنا جانا نہیں چھوڑا ۔ دوسری دفعہ بھی جیسے قسمت انھیں بار بار ملا رہی ہو۔ جب چاند رات کو شوپنگ کرنے نکلی تھیں سب بہنیں اور حناء کی سہلیاں اور ان کی مایئں ، یہ سب کہ ساتھ تھی ، اور اچانک اس کی امی کا پرس کوئی چور لیکر بھاگ گیا تھا تو ،کیسے جاوید نے اس خطرناک چور کا پچھا کرکے امی کا پرس لاکر دیئے تھے ، اور اس کی یادیں آیئنہ بن کر ایک ایک بات یاد کرنے لگی ۔ جب بھی گھر میں کوئی بھی اچانک بیمار ہو یا کوئی بھی پریشانی ہو حناء ڈوڑتے ہوئے رکشہ ڈھونڈے یا رو دے ،اور جاوید جیسے اس کہ آس پاس ہی ہو سایہ کی طرح اس کی مد دکرنے ، آخری دفعہ تو اسے آج بھی اچھے سے یاد ہے ، جب بہت تیز بارش میں بجلی کی تار سے اس کی امی کپڑے رسی پر سکھانے گئی ،اور بہت بری طرح الیکٹرک شاٹ کہ جھٹکے سے بے ہوش ہوگئی تھی ، تب کوئی بھی نہیں تھا گھر میں سب خالہ کے گھر گئی ہوئی تھیں ۔ اور حناء کہ ابو کسی کام سے باہر ، تب حناء زور سے چیخ چیخ کر جاید جاوید کہہ کر چلا رہی تھی ،اور اس یقین کہ ساتھ کہ جاوید ضرور آجائے گے ۔اور جاویدواقعی اس کی آواز سنتے ہی ڈوڑتا گھر کی طرف ایک فرشتہ کی طرح آ پہنچا تھا ، حناء جاوید کہ احسانوں کہ بوجھ سے نڈھال تھی ، اور وہ ان یادوں سے ملکر کبھی روتی تو کبھی روتے روتے بھی مسکراتی تھی ، امی کی حالت دیکھ کر کیسے وہ پاگلوں کی طرح روئی جا رہی تھی جاوید کا ہاتھ تھام کر جاوید امی ، امی اور جاوید اسے بچے کی طرح دلاسا دیتے ہوئے سب کچھ ہینڈل بھی کر رہے تھے ، یہاں سے حناء اپنے احساس کو محسوس کرنے لگی تھی ،لیکن سمجھ نا سکی کہ یہ محبت ہے ، ۔ اور نا چاہتے ہوئے بھی اسے جاوید سے محبت ہوگئی تھی ، لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں تھی کہ محبت ایسی ہوتی ہے ، اور جب سمجھ چکی تھی تب تک بہت دیر ہوگئی تھی ،کیونکہ جاوید عائشہ سے مل چکا تھا ،لیکن حناء نے ہی دیر کردی کاش وہ بتا دیتی تھی ، تو آج یہ نوبت نہیں آتی جاوید تو اس کہ آس پاس ہی تھا ہسپتال میں ، گھر کہ برامدے میں میلہ میں بازار میں ، لیکن اس کی معصوم صنف یہ بھی نہیں سمجھ سکی کہ وہ محبت کی گرفت میں آچکی ہے ۔ جب تک وہ سمجھنے لگی وہاں جاوید اور عائشہ کی ملاقات ایک شادی کہ فونشن میں ہوگئی ۔ اور دونوں کو وہی ایک دوسرے سے پیار ہوگیا ۔ حناء روتے روت جاوید کہ ایک ایک الفاظ یاد کرنے لگی کہ کس طرح اس نے اپنا حالِ دل بنا جھجھک حناٰء کو بتایا تھا ۔ اور شادی کہ کہ دوسر ے روز بھی جب منہ دیکھائی تھی کتنی خوش تھی وہ ۔ اپنی قسمت پر ناز کر رہی تھی ۔ کے وہ کس طرح مایوس ہوکر اللہ تعالی کی نا شکری کر رہی تھی روتے ہوئے اور رب کی حکمت سے الجھ کر نادانی کر رہی تھی، اسے سب یادآ رہا تھا اور آج وہ اللہ سے اس بات کی معافی بھی مانگ رہی تھی کہ اے اللہ مجھے معاف کردے ۔جس انسان کہ لئے میں رو رہی تھی آج اسی انسان کا تونے میرا شریک ِحیات بنا دیا جس سے وہ بات کرنے بھی ڈر تی تھی ۔ اس نے صبح کی نماز ادا کی اور اپنے رب سے مخاطب ہوکر ایک بار پھر معافی مانگی ، اور اللہ کا لاکھ لاکھ بار شکر ادا کرتی رہی کہ اللہ نے آج اسے وہ عطا کیا جس کا اس نے سوچا بھی نا تھا ۔ آج اس پاک محبت کو پاک رشتہ سے نواز کر اللہ نے اسے نایاب خوشی سے نوازا ہے ۔ وہ اپنی خوشی میں لطف آموز ہی رہی ۔ اور شاید اللہ کی یہ قدرت ہی تھی جو اسے اس بات کو سمجھنے کی توفیق اس وقت نہیں ہوئی جو اس کی زندگی کہ سب سے حسین دن تھے ۔ تاکہ بیچاری حناء ان حسین لمحوں میں کسی غم کی شکار نا رہیں ۔ حناء جب تیار ہوکر آئی تو جاوید نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا،حناء یاد ہے نا اپنی بات ۔ حناء معصومیت سے گردن ہلا کر اشارہ دیتی ہے۔ اتنے میں اس کی نندیں اور سہلیاں چلو چلیں بھابھی سارے مہمان بے تاب ہے آپ کو دیکھنے ، وہ مسکراتی ہوئی جاتی ہے ، چاروں طرف سے جیسے خوشیاں چھلک رہی ہیں ۔ سارا گھر خوشیوں میں جھوم رہا تھا اور حناء اپنی معصومیت میں ، شرما شرما کر چوری چوری جاوید کی طرف دیکھ کر خوش ہو رہی تھی ۔ چاروں طرف رسموں رواج چھیڑ چھاڑ کا خوش گوار ماحول تھا ۔ جاوید بھی حناء سے دل کی بات کہنے کہ بعد کچھ روز خاموش رہ گئے ، کے گھر میں کافی مہمانوں کا ،رشتہ داروں کی دعوتیں آنا جانا لگا رہا ، حنا نے سب گھر والوں کو اپنے پیار و خلوص سے اپنی طرف کر لیا، اور سب بے حد خوش تھے حناء جیسی نیک لڑکی کو اپنی گھر کی بہو بنا کر ، سارے فرض بخوبی اس نے انجام دیئے ، بہت کم وقت میں سب کا دل جیت لیا ،صرف جاوید ہی ایک مفرد انسان تھے جو چھپ چھپ کر عائشہ سے بات کرنا فطرت تھی ۔ گھر والے مطمئن تھے کہ اب جاوید عائشہ کا نام بھی نہیں لیں گے ۔ حناء کی محبت بہت جلد اس کہ دل میں گھر کر جائےگی ۔


    لیکن وقت نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا حنا ء کہ لئے جب آدھی رات کو اس کی آنکھ کھل گئی ، جب جاوید آہستہ آہستہ عائشہ سے کہہ رہے تھے ، عائشہ کچھ بولو ، ناراض تو نہیں ہونا ، عائشہ کیوں کچھ نہیں بول رہی، کچھ بولو بھی ۔ عائشہ میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا میں مر جاؤنگا ،گر تم نہیں ملی تو اور میں نے حناء سے سب کہہ دیا ہے ،اور میں حناء کو بھی نہیں چھوڑ سکتا ۔ کیوں کے میری ماں نے مجھے صاف صاف کہہ دیا ہے گر عائشہ سے تونے شادی کی تو تو ہمارے لئے مر چکا ہے ۔ عائشہ تم سن رہی ہونا ۔ میں واقعی مر جاؤنگا ۔ حناء نے آنکھ کھولی اور حیرت سے اس سے پہلے وہ کچھ بولتی اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہوگئی ، وہ ساری باتیں خاموشی سے ترچھی کروٹ لئے سن کر اپنی بے بسی پر روتی گئی ، آج اس کا وہم بھی ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا ، جاوید کی کہی گئی پہلے دن والی بات اس کہ ذہن میں گونج گونج کر اس کہ سر میں درد شروع کردیتی ہے ۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی شدید درد کی وجہ سے اٹھ بیٹھی اپنے آنسو چھپا کر ۔ جاوید گھبرا کر عائشہ میں تم سے بعد میں بات کرتا ہو فون کاٹ دیتے ہے ۔ حناء کیا ہوا حناء کچھ چاہیئے؟ نہیں سر میں شدید درد ہے ۔ اوہ میں ابھی گولی لا دیتا ہو نیچے سے ۔ حناء اس دوران پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے اور کا عاداتاً وہ ہمت کرکے وضو کرکے اپنی کیفیت سے نجات پانی کی کوشش کرتی ہے۔ دماغ میں سوچوں کا ہجوم تھا کیسے نجات ملتی ۔۔۔؟ جاوید سے گولی لیکرکھا نے کہ بعدانجانہ پن جتاتے ہوئے حناء جاوید سے مخاطب ہوتی ہے ، وہ آپ اتنی رات کو کس سے بات کر رہے تھے ۔؟ جاوید مسکرا کر تمہاری بہن سے ، حناء سہم جاتی ہے کے میری سوتن کو میری بہن بھی بنا دئے ۔ کیا سوچ رہی ہو حناء ؟ جاوید آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہو ؟ کیوں کیا غلط کہا میں نے ، شادی کے بعد ویسے بھی تم دونوں کو بہنوں کی طرح رہنا ہے ۔ حناء ٹرپ جاتی ہے جیسے کوئی طوفان آنے کا اندیشہ اسے ہوچکا تھا ۔ اب اس کا ہمدرد ہی اس کہ سامنے دشمن بنکر کھڑا ہے ۔ اب وہ بے بسی ٹوٹ کر خود سے پوچھ رہی اب کسے آواز دو میں ؟ جو مجھے اس طوفان سے نکالے گا ۔ میرا سب سے بڑا سہارا ہی مجھے بے سہارا کرنے کہ خواب دیکھ رہا ہے ۔ اور وہ سر درد کی وجہ سے خاموشی سے اپنے دل میں ہزار درد محسوس کر رہی تھی ۔ جیسے وہ اس درد کو سہنے کی قائل نہیں ہے ۔ جیسے یہ غم زدہ احساس اس کی جان لیں لے گا ، وہ اپنے پیار کو ، اپنے شوہر کو کیسے بانٹ سکتی ہے ، ؟ عائشہ کی بات پر شک ہو رہا تھا اسے کہ واقعی عایشہ کو اس کہ ساتھ رہنا گوارہ ہے ؟ جیسا کہ جاوید نے کہا تھا ، یہ کس قسم کی لڑکی ہے ۔۔؟ وہ اپنے آنسوؤں سے اپنے شکوک صاف نا کر سکی اور جاوید کی آواز نے اسے اس عذاب سے نجات دی ۔ حناء یاد ہے نا تمہیں میں نے کیا کہا تھا میرا ساتھ دینا ہے ۔ اور میں تمہارے ساتھ بھی نا انصافی ہونے نہیں دونگا ۔ میں نے عائشہ سے بات کر لی ہے ، اسے منظور ہے تمہارا ساتھ اب تم بھی اس کا ساتھ منظور کرلو ۔ حناء فوراً جھنجلا کر بولتی ہے ہرگز نہیں ۔ میں نے کب کہا کہ مجھے عائشہ کا ساتھ منظور ہے ہا ۔؟ آپ اپنے ہوش و ہواش میں تو ہے نا ۔ اس طرح کی بات کہتے ہوئے ایک بار تو سوچ لیتے آپ اپنی بیوی سے بات کر رہے ہے ۔ کیا میرے جذبات آج آپ کہ لئے کوئی معانی نہیں رکھتے جاوید ۔۔؟ میں اپنا حق کیسےکسی کو دے دوں ۔۔۔؟کیوں دو نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی یہ نا ممکن ہے ۔

    جاری ہے ۔۔۔

    رائٹر ریشم ۔۔۔۔

  2. #2
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    ****
    Posts
    2,273
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    228 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474847

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    Keep it up :v:

  3. #3
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    nice
    keep it up


  4. #4
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Karachi,Pakistan
    Posts
    11,803
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474855

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    no Doubt very nice writing..novelke pichle part nhi parhe woh perhlon then novel ke end mein tafseel se comment karongi..
    Alhamdullilah

  5. #5
    Join Date
    May 2012
    Location
    !!!KiSii Kii DuAouN meii!!!:):)
    Posts
    10,485
    Mentioned
    83 Post(s)
    Tagged
    10415 Thread(s)
    Thanked
    28
    Rep Power
    2184012

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    wahhhhhhh...... veryyyyyyyyy welllllllll written ......... bhtttttttttttttt mazaya aayaaa prhne kaaa
    ---------------- -----------------

    sigpic16201 13 - ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔


    -------------------------------------------------------------
    some people are worth
    melting for....!!!
    ..(olaf)..
    ------------------------------------------------------------------------


  6. #6
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Apne E Ap mein,,,
    Posts
    20,228
    Mentioned
    12 Post(s)
    Tagged
    3230 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474864

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    hina ki soch ki sahi ghamazi kr rahi ho resham super one


  7. #7
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    bohat acha novel jari rakh rahi hain ap
    aisi hi feelings ati hain jesey hina ko feel horaha hai bohat zabardast likh rahi hain ap likhti rahiye
    wesey agla part me ko parhna ka ishtiyaaq horaha hai

    eq2hdk - ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

  8. #8
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    super - ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

  9. #9
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Lost...
    Posts
    17,151
    Mentioned
    135 Post(s)
    Tagged
    11596 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    3865501

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    hamesha ki tarah bohat khoob likha...
    Teri ankhon uworiginal - ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

  10. #10
    Join Date
    May 2010
    Location
    *!~ In EmoTiOns~!*
    Posts
    1,615
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    220 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    0

    Default Re: ایک طرفہ محبت پارٹ 3 ۔۔۔

    booht ala

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •