Results 1 to 9 of 9

Thread: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت


    عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    صوفی کے لیے روحانیت کوئی سنسنی خیز یا ہیجان انگیز تجربہ نہیں ہے، صوفی باطن کی گہرائیوں میں اُتر کر ایک ارفع اور بلند سطح پر پہنچ جاتا ہے، اس کا شعور صاف شفاف آئینے کی مانند چمکتا ہے۔ اسی شعور کے آئینے میں وہ حیات و کائنات کے رموز و اسرار کو دیکھ لیتا ہے۔ عشق کا جذبہ اتنا روشن ہو جاتا ہے کہ اس کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا اسی کی روشنی میں تجلیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرتا ہے اور خالق کو پا لیتا ہے۔ اسی عشق کی خوبصورت شعاعیں اُسے تمام انسانوں کے دلوں تک پہنچا دیتی ہیں اور ایک دلکش جمالیاتی وحدت کا عرفان عطا کرتی ہیں۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں جس نے خلوت میں بصیرت کی راہ پا لی (ہر کہ در خلوت بہ بینش یافت راہ) اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جس نے روح کے حسن کو پا لیا یا جو روح کے حسن کا ہم پیالہ بن گیا (باجمالِ جاں چو شدہم کاسۂ) اسے اور کیا چاہیے۔ مولانا رومیؒ کا خیال یہ ہے کہ عشق بے نیاز خدا کے اوصاف میں سے ہے:
    عشق زا و صافِ خدائی بے نیاز
    عشقِ کمال کا آفتاب ہے وہ سارے عالم کا نور ہے عا لم خلق سب سایوں کی مانند ہیں۔
    عشق ربّانی ست خورشیدِ کمال
    امر نور اوست خلقاں چوں ظلال
    عشق کی راہ ایسی ہے کہ اس میں عمل اور علم دونوں کی راہیں جذب ہو جاتی ہیں، عمل کی راہ پر انسان کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، قدم قدم پر چیلنج سامنے ہوتا ہے، علم کی راہ زندگی کو سمجھاتے اور بہت سی گتھیاں سلجھاتے ہوئے آگے بڑھتی ہے، عشق کی راہ میں یہ دونوں راہیں جذب ہو جاتی ہیں، عشق کی راہ ایسی ہے جو انسان کو گم کر دیتی ہے۔ عشق کی راہ پر انسان کی خودی نظر نہیں آتی، انسان کا عمل خالقِ کائنات کا عمل بن جاتا ہے۔ خدا ہی نئی تراش خراش کرتا ہے خود کھوکھلا بانس بن جاتا ہے وہ تراش خراش کے بعد انسان کو بانسری کی صورت دے دیتا ہے۔ ایک صوفی اُس کلی کی مانند ہوتا ہے جو صبح سویرے سورج کی کرنوں کو اجازت دیتی ہے کہ انھیں کھول دے، اپنی پنکھڑیوں کو کھول دینے کی اجازت دیتی ہے خود نہیں کھلتی۔ سورج کی شعاعیں اس کی خوبصورت نازک پنکھڑیوں کو کھولتی ہیں، بڑی خاموشی سے آہستہ آہستہ، جیسے جیسے کرنیں پڑتی ہیں پنکھڑیاں کھلتی جاتی ہیں، کلی تو عشق کے جذبے سے سرشار صرف اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ سورج کی کرنیں اس کی پنکھڑیوں کو کھول دیں، وہ خود کچھ بھی نہیں کرتی، صوفی جب کلی کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو وہ بھی خاموش رہتا ہے۔ وہ دشوار را ہوں سے گزٍر چکا ہے، عمل کی راہ سے گزر چکا ہے علم کی راہِ سے گزر چکا ہے، دیکھ چکا ہے کہ اب وہ جس راہ پر ہے وہ عشق کی راہ ہے کہ جہاں اس کی خودی گم ہو چکی ہے اور جہاں عمل اور علم کی راہیں جذب ہو گئی ہیں۔ صوفی پھر سورج مکھی کے پھول کی طرح گھومتا ہے۔ جس جانب آفتاب ہوتا ہے اس کا رُخ بھی اسی طرف ہوتا ہے، عشقِ الٰہی کی شعاعیں اس کی شخصیت تبدیل کر دیتی ہیں۔ مولانا رومیؒ نے عشق و محبت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے:
    از ّمحبت تلخہا شیریں شود
    از ّمحبت مِسّہا زرّیں شود
    از ّمحبت دُردہا صافی شود
    و ز ّمحبت دردہا شافی شود
    از ّمحبت خا رہا گل می شود
    و ز ّمحبت سر کہا مُل می شود
    از ّمحبت دار تختے می شود
    و ز ّمحبت بار بختے می شود
    از ّمحبت سجن گلشن می شود
    بےمحبت روضہ گلخن می شود
    از ّمحبت نار نورے می شود
    و زمحبت دیو حورے می شود
    از ّمحبت سنگ روغن می شود
    بےمحبت موم آہن می شود
    از ّمحبت حزن شادی می شود
    و ز ّمحبت غول ہا دی می شود
    از ّمحبت نیش نوشے می شود
    و ز ّمحبت شیر موشے می شود
    از ّمحبت سُقم صحت می شود
    و ز ّمحبت قہر رحمت می شود
    از ّمحبت خار سوسن می شود
    و ز ّمحبت خانہ روشن می شود
    از ّمحبت مردہ زندہ می شود
    و ز ّمحبت شاہ بندہ می شود
    (مثنوی مولانا روم دفتر دوم)
    محبت سے کڑوی چیزیں میٹھی ہو جاتی ہیں،محبت سے تانبہ سونا بن جاتا ہے،محبت سے درد شفا بخشنے والے بن جاتے ہیں، کانٹے پھول اور سر کے شراب بن جاتے ہیں، سولی تخت بن جاتی ہے، بوجھ خوش نصیبی بن جاتی ہے، قید خانہ چمن، آگ نور بن جاتی ہے،محبت نہ ہو تو باغ بھٹیّ بن جائے، موم لوہے میں تبدیل ہو جائے،محبت سے پتھر تیل اور غم خوشی بن جاتا ہے، بچھو کا ڈنک شہد بن جاتا ہے،محبت قہر کو رحمت میں تبدیل کر دیتی ہے، کانٹے کو سوسن اور گھر کو روشنی کی صورت دے دیتی ہے۔ مولانا رومیؒ نے عشق و محبت کو طرح طرح سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ انسان محبت اور عشقِ الٰہی کے جذبے کے ساتھ اپنے وجود کی گہرائیوں میں اُترتا ہے، جتنی گہرائیوں میں اُترتا ہے اسی اعتبار سے اس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ محبت کے درخت کو تیزی سے بڑا ہونا ہے تو اس کی جڑوں کو گہرائیوں میں ہونا چاہیے۔ جب درخت بڑا ہوتا ہے تو وہ تو انائی یا انرجی کا پیکر ہوتا ہے۔ اس کے پھول پھل تجربے عطا کر نے لگتے ہیں، یہ پھل اور پھول غیر معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں، اپنے پھولوں کی خوبصورتی اور خوشبو اور پھلوں کی خوشبو اور شیرینی اور زبردست لذتوں سے آشنا کرتے ہوئے یہ تو انائی سچائیوں اور حقیقتوں اور زندگی کے رموز و اسرار کو طرح طرح سے سمجھانے لگتی ہے، ایسی ہی ایک تو انائی کا نام محمد جمال الدین مولانا ئے روم ہے جنھیں ہم سب مولانا رومیؒ کہتے ہیں۔
    انسان کے تعلق سے مولانا رومیؒ کے یہ خیالات ہمیشہ توجہ طلب رہے ہیں:
    آمدہ اوّل بہ اقلیم جماد
    و ز جمادی در نباتی دفتاد
    سالہا اندر نباتی عمر و کر د
    و ز نباتی یار ناؤ رو از نبرد
    و ز نباتی چوں بہ حیوانی فتاد
    نامہ ش حالِ نباتی ہیچ یاد
    جز ہماں میلے کہ دار دسوئے آں
    خاصہ در وقتِ بہارِ ضمیراں
    ہمچو میل کو دُکاں با مادراں
    سرّ میلِ خود نہ داند در لباں
    باز از حیواں سوانسانیش
    میکشدآں خالقے کہ دانیش
    ہمچنیں اقلیم تا اقلیم رفت
    تاشد اکنوں عاقل و دانا و زفت
    ابتدا میں انسان جماد تھا پھر نبات بنا، صدیوں صدیوں نبات رہا۔ نباتی زندگی اُسے یاد نہیں ہے۔ نبات سے حیوان بنا، نباتی حالت اسے یاد نہیں سوائے اس کے کہ وہ موسمِ بہار کی جانب لپکتا ہے اس کا ضمیر کھیلنا چاہتا ہے، جس طرح بچے ّ ماؤں کی طرف لپکتے ہیں اور پھر اپنے میلان کی یاد جاتی رہتی ہے، اپنے میلان کا راز نہیں جانتا اس کے بعد حیوان سے انسان بنا، اس طرح انسان ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف چلتا رہتا یہاں تک کہ وہ عاقل اور دانا بن گیا۔ مولانا شبلی نعمانی نے تحریر کیا ہے کہ ڈارون سے بہت پہلے مولانا رومی ؒ ارتقا کی ان منزلوں کے قائل تھے۔
    مولانا رومیؒ نے انسان کی عظمت کو طرح طرح سے سمجھا نے کی کوشش کی ہے۔ مندرجۂ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیے:
    گر کفِ خاکے شود چالاک اُو
    پیشِ خاکش سر نہد افلاکِ اُو
    خاکِ آدم چونکہ شد چالاکِ حق
    پیشِ خاکش سر نہد املاکِ حق
    اَ لسّماءُ انشقَّت آخر از چہ بود
    از یکے چشمے کہ خاکے بر کشود
    خاک از دردی نشنید زیرِ آب
    خاک بیں کز عرش بگذشت از شتاب
    آں لطافت پس بداں کز آبِ نیست
    جز عطائے مبدعِ وہّاب نیست
    (مثنوی مولانا روم دفتر دوم)
    اگر ایک مٹھی مٹی اللہ کی اطاعت کرے تو اس مٹّی کے سامنے آسمان جھک جائیں، خاکِ آدم کی مثال سامنے ہے۔ اس مٹّی کے آگے اللہ کی مملوک نے سر رکھ دیا، آسمان پھٹ گیا (شق القمر) اس کا سبب یہی تھا کہ مٹّی نے آنکھ کھولی تھی، مٹّی تلچھٹ ہو جانے کے سبب پانی کے نیچے بیٹھ جاتی ہے، غور کرو یہی مٹّی تیزی سے عرش سے بھی اوپر چلی گئی، یہ لطافت آب و گل کی نہیں ہے یہ تو اللہ کی دین ہے، عطا کر نے والے نے یہ تو انائی عطا کی ہے۔
    مومن سے دوزخ بھی خوفزدہ ہے:
    مصطفیؐ فرمود از گفت جحیم
    کو بمومن لابۂ گر گردو زبیم
    گویدش بگزر زمن اے شاہ زدد
    بیں کہ نورت سوزِ نارم را ربود
    پس ہلاکِ نار نورِ مومن ست
    زانکہ بے ضد دفعِ ضدلا یمکن ست
    نار ضد نور باشد روزِ عدل
    کاں زقہر انگیختہ شد دیں ز فضل
    گرہمی خواہی تو دفعِ شرِّ نار
    آبِ رحمت بر دلِ آتش گمار
    چشمۂ آں آبِ رحمت مومن ست
    آبِ حیواں روحِ پاکِ محسن ست
    (مثنوی مولانا روم دفتر دوم)
    رسول کریمؐ نے فرمایا ہے کہ دوزخ ڈر اور خوف سے مومن کی خوشامد کرے گی، کہے گی میرے پاس سے جلد چلا جا۔ تیرے نور نے میری آگ کی گرمی ختم کر دی، مومن کا نور، آگ کی تباہی ہے، قیامت کے دن آگ نور کی ضد ہو گی اس لیے کہ وہ قہر سے بھڑکی ہے اور یہ فضل و کرم سے وجود میں آیا ہے۔ اگر آگ کے شر کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے رحمت کے پانی کی ضرورت ہے۔ آبِ رحمت ہی اس آگ کو بجھا سکتا ہے۔ آبِ رحمت کا چشمہ کون ہے مومن، اس کی پاک روح آب حیواں ہے۔
    انسان کا دل پاک و صاف ہوتا ہے تو وہ آب و خاک سے بہت اوپر نقش دیکھنے لگتا ہے:
    ٭٭٭٭٭٭٭٭




    اقتباس از مولانا رُومی کی جمالیات





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Karachi....
    Posts
    31,280
    Mentioned
    41 Post(s)
    Tagged
    6917 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474875

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    hmmm last paragraph bht accha hai q k mei ne wohi parha hai

    good sharing


    Ik Muhabbat ko amar karna tha.....

    to ye socha k ..... ab bichar jaye..!!!!


  3. #3
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    nice sharing


  4. #4
    Join Date
    Feb 2008
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    125,914
    Mentioned
    839 Post(s)
    Tagged
    9270 Thread(s)
    Thanked
    1181
    Rep Power
    21474971

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    hmm
    صرف آواز نہیں ، لفظ بھی مقفل ہیں مرے

    سوچ میں ہوں کہ اب تجھ کو پکاروں کیسے

  5. #5
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    Quote Originally Posted by SenoriTa View Post
    hmmm last paragraph bht accha hai q k mei ne wohi parha hai

    good sharing
    saraa iss sayy v achaa haiiiii





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  6. #6
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    City Of Light
    Posts
    26,767
    Mentioned
    144 Post(s)
    Tagged
    10310 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474871

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    nice



    3297731y763i7owcz zps9ed156a3 - عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    MAY OUR COUNTRY PROGRESS IN EVERYWHERE AND IN EVERYTHING SO THAT THE WHOLE WORLD SHOULD HAVE PROUD ON US
    PAKISTAN ZINDABAD











  7. #7
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Karachi....
    Posts
    31,280
    Mentioned
    41 Post(s)
    Tagged
    6917 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474875

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    Quote Originally Posted by sarfraz_qamar View Post


    saraa iss sayy v achaa haiiiii
    bai itna barra hai sara kese parhu.
    chuna munna sa share kiya karein na


    Ik Muhabbat ko amar karna tha.....

    to ye socha k ..... ab bichar jaye..!!!!


  8. #8
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    Quote Originally Posted by SenoriTa View Post


    bai itna barra hai sara kese parhu.
    chuna munna sa share kiya karein na
    aankhoo sayyyy
    chunaa munaa saa bantaa hii naii thaa iss main sayyy





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  9. #9
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Karachi....
    Posts
    31,280
    Mentioned
    41 Post(s)
    Tagged
    6917 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474875

    Default Re: عشق کا جمال۔۔عشق کی رُومانیت

    Quote Originally Posted by sarfraz_qamar View Post


    aankhoo sayyyy
    chunaa munaa saa bantaa hii naii thaa iss main sayyy
    mughe pata ankho se hi parhte..itna barra nai parha jata
    khair hai koi or kya pata parh hi le....


    Ik Muhabbat ko amar karna tha.....

    to ye socha k ..... ab bichar jaye..!!!!


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •