Results 1 to 2 of 2

Thread: وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

    وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
    اب تو ہم بات بھی کرتے ہیں غم خوار کے ساتھ
    ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
    میر دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

    اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
    طاق پر عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ

    اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
    چاپ سُنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

    ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
    اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

    شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجیے گا
    ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

    ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
    لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

    جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فراز
    سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

  2. #2
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    City Of Light
    Posts
    26,767
    Mentioned
    144 Post(s)
    Tagged
    10310 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474871

    Default Re: وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

    nice



    3297731y763i7owcz zps9ed156a3 - وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

    MAY OUR COUNTRY PROGRESS IN EVERYWHERE AND IN EVERYTHING SO THAT THE WHOLE WORLD SHOULD HAVE PROUD ON US
    PAKISTAN ZINDABAD











Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •