Results 1 to 2 of 2

Thread: Gattay Ka Daba

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Gattay Ka Daba

    وہ اس شہر کی مصروف ترین سڑک تھی جس پر قطارمیں بنی اونچی اونچی عمارتوں میں ہزاروں لوگ کام کیا کرتے تھے۔ اسی سڑک کے ایک طرف شہر کا ایک معروف کالج موجود تھا جہاں روز ہزاروں کی تعدادمیں طلباء آتے جاتے رہتے تھے۔اسی سڑک کےدوسرےکونے پر بنی ایک سُپر مارکیٹ کےسامنے کے دونوں دروازے کھلے رہتے تھے اور روز شام میں وہاں بڑی بڑی ٹوکریوں میں ہر قسم کے پھل اور سبزیاں بہت خوبصورتی سے سجائی جاتی تھیں۔ شام کے وقت دفاتراور کالج سے نکلنے والے لوگ جنہیں گھر پہنچنے کی جلدی ہوتی تھی اس رش میں اضافہ کردیتے تھے۔ روڈ پر بے انتہا ٹریفک کی موجودگی کے باعث زیادہ تر لوگوں کو اس سُپر مارکیٹ کے آگے لگے جھمگٹے میں سے ہی گزر کر جانا ہوتا تھا۔ جن کو کچھ نہ بھی لینا ہو وہ بھی ان خوبصورتی سے سجائی گئی ٹوکریوں میں سے کچھ نہ کچھ لینے کھڑے ہوجاتے تھے ۔

    اس رش سے نکل کر میں ایک طرف کھڑی ہوگئی تھی، مجھے بھی گھر پہنچنے کی جلدی تھی مگر وہاں سے گزرتے ہوئے مجھے محسوس ہوا تھاکہ کسی نے مجھے روکنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے رک کر آس پاس دیکھا ، اس ہجوم میں ہر رنگ اور قوم کے لوگ نظر آئے مگر نہ تو کوئی چہرہ شناسا لگا، نہ ہی کوئی اور نظر آیا جو میری طرف متوجہ ہو۔ پہلے میں سمجھی میرا وہم تھا مگر اس سے پہلے کے میں دوبارہ چل پڑتی مجھے اس ہجوم میں وہ بوڑھی عورت نظر آگئی تھی جو ایک طرف بیٹھی سب کو جلدی جلدی اپنی مطلوبہ اشیاء خریدکر وہاں سے جاتے دیکھ رہی تھی اوراب مجھے اپنی طرف دیکھتا پاکر اس کے اداس چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ پتا نہیں کیوں مگر مجھے یقین تھاکہ اسی نے مجھے روکنے کی کوشش کی تھی۔ میں ہمت کرکے ایک دفعہ پھر اس رش کا حصہ بن گئی اور لوگوں کے بیچ میں راستہ بناکر اس عورت تک پہنچ گئی تھی جس نے میلی سی سفید رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی اور سر پر سفید ہی رنگ کا اسکارف پہنا ہوا تھا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا گتے کا ڈبّہ پکڑا ہوا تھا جس میں چند ایک ایک ڈالر کے نوٹ اور کچھ سکے موجود تھے۔ مجھے اس کی وہاں موجودگی کی وجہ پتا چل گئی اور پہلے میرے ذہن میں یہی آیا کہ اسے وہاں بیٹھنے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔ اس امیر ترین علاقے میں کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ کوئی بھوکا سوئے۔ جہاں گورنمنٹ کے علاوہ سینکڑوں فلاحی تنظیمیں موجود تھیں وہاں کسی کو اس طرح بھیک مانگنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں نے پہلی دفعہ وہاں کسی کو بھیک مانگتے دیکھا تھا۔ مجھے وہاں خاموش کھڑا دیکھ کر اس عورت نے مجھ سے کچھ کہا تھا مگر میں اس کی بات سمجھ نہیں سکی کیونکہ شاید وہ فلسطینی تھی اور انگلش نہیں بول سکتی تھی۔ مگر اس کی پوری بات میں مجھے صرف ایک لفظ “اللہ” سمجھ آیا تھا اور اس کے بعد مجھے کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔ اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر میں نے کچھ پیسے نکالے ،مگر اس عورت کی طرف ہاتھ بڑھانا مجھے مشکل ترین لگا تھا۔ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی۔ ۔ ۔اس کی بے بسی پر، اس کی پریشانی پر اور اس کی وہاں موجودگی پر۔ اتنی سردی میں وہاں بیٹھ کر، اپنی انا مار کر دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا کتنا تکلیف دہ ہوگا شاید ہم اندازہ نہیں کرسکتے۔میں نے کچھ پیسےاس کے چہرے کی طرف دیکھے بغیر اس کے ہاتھ میں پکڑائے اور واپس پلٹ گئی تھی۔میں اس اداس چہرے پر شرمندگی پھیلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ میں ایک دفعہ پھر اس رش کا حصہ بن گئی مگرکچھ دور تک اس بوڑھی عورت کی آواز آتی رہی تھی۔ اس کی بات سمجھے بغیر بھی مجھے اندازہ تھا کہ وہ یقیناً مجھے دعائیں دے رہی تھی۔ وہ دعائیں جو اللہ تعالیٰ نے میرے نصیب میں لکھی تھیں، ان پیسوں کو دینے کے بعد جو اللہ تعالیٰ نے اس کے نصیب سے مجھے دیئے تھے۔

    مجھے وہ دوبارہ کبھی وہاں نظر نہیں آئی مگراتنے دن گزرجانے کے بعد بھی میں ان آنکھوں کی اداسی اورچہرے پر پھیلی بے بسی نہیں بھولی۔ لیکن ایسے کتنے ہی لوگ ہمیں پاکستان کی سڑکوں پر پھرتے نظر آتے ہیں۔ سال 2006 میں پاکستان کی آبادی کا تقریباً چوتھائی حصہ غربت کے زمرے میں آتا تھا اور گزرتے برسوں میں یہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔ جہاںسال 2008 میں کُل آبادی میں سے 17 اعشاریہ 2 فیصد لوگ غربت کی انتہائی سطح سےبھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبورتھے وہاں ہر چوک پر مانگنے والوں کی بھیڑ تعجب کی بات نہیں۔ ہم ہر ٹریفک سگنل پر انہیں دیکھنے کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ہمیں ان کی وہاں موجودگی زیادہ محسوس بھی نہیں ہوتی۔


    میں اکثر سوچتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی تو بہت کچھ ایسا دے رکھا ہے جس کے پتا نہیں ہم قابل ہیں بھی یا نہیں۔ بہت سی چیزیں وہ بن مانگے ہی ہماری جھولی میں ڈال دیتا ہے اور ہم اسے حق سمجھ کر وصول کرتے ہیں۔ لیکن ہم کسی کی مددکرنے سے پہلےیہ سوچنے لگتے ہیں کہ ان کی وہاں موجودگی ضرور ان کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔اگر اللہ تعالیٰ بھی ہمارے ساتھ حساب کتاب کرنے لگے کہ ہمیں اس کے آگے ہاتھ پھیلانےسے پہلے کیا کرنا چاہیے یا کہاں سے مانگناچاہیے تو شاید ہمارے ہاتھوں میں بھی ایک گتے کا ڈبّہ رہ جائے جس میں موجود چند ڈالرز اس بات کی گواہی دیں گے کہ دینے والےکو ہم زیادہ مستحق نہیں لگے۔

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Gattay Ka Daba

    hmmmmmm





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •