اسلام میں عورت کا مقام
(منور حسین)

سرور کائنات، فخر موجودات، محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جس روز دین کا پیغام لے کر دنیا میں تشریف لائے، اس روز ، دنیا کے اندر نئی روشنی کا ظہور ہوا۔ اس نئی شمع کی برکت سے انسان کو وہ عقیدہ اور شعور عطا ہوا جو سرا سر مکارم اخلاق اور فضائل و محاسن کا مجموعہ ہے اور عورت کو جو انسانی معاشرے میں انتہائی پستی کے مقام پر گر چکی تھی عزت و تکریم کے اعلی مراتب سے ہمکنار کیا ۔


اگر وہ بیوی ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے، اگر بیٹی ہے ، تو آتش دوزخ سے بچانے کا وسیلہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، ماں ہے تو اس کے پاؤں تلے جنت، غرض یہ کہ، اسلام نے عورت کو ہر حیثیت ، چاہے وہ ماں ہو ، یا بیٹی ، بہن ہو ، یا شریک حیات، انتہائی تکریم و اعزاز کا مستحق گردانا ہے۔ شرف انسانیت میں مرد و عورت کی تفریق روا نہیں رکھی گئی۔ عالم انسانیت کے محسن اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ظالم مرد سے پکار کر فرمایا کہ عورت اس لئے نہیں ہے کہ اسے حقارت سے ٹھکرا کر قعر مذلت میں دھکیل دیا جائے۔


محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوں ، وہ اچھی طرح ان کی پرورش کرے، تو یہی لڑکیاں اس کے لئے دوزخ میں آڑ بن جائیں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لئے مردوں کو بار بار تاکید فرمائی ، کہ وہ عورتوں سے بہتر سلوک کریں ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا۔ بہترین مسلمان، بہترین صاحب اخلاق اور اپنی بیویوں کے بہترین خاوند ہوتے ہیں تم میں سے بہتر وہ ہے ، جو اپنی بیویوں سے بہترین سلوک روا رکھے اور تم میں سے میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی عورتوں سے بہترین سلوک روا رکھتا ہوں۔ دنیا کی بہترین نعمتوں میں سے بہترین نعمت نیک بیوی ہے ۔

بیٹے کو فرمایا۔ تیری ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔


داعی اسلام نے صرف فکری اور نظری اعتبار سے ہی عورت کا مقام و مرتبہ بلند نہیں کیا بلکہ قانون کے ذریعے سے عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی اور مردوں کے ظلم کی روک تھام کا موثر انتظام کر دیا۔جہاں شرع نے مرد کو ناگزیر حالت کی بناء پر طلاق دینے کا اختیار سونپ رکھا ہے۔ وہاں عورتوں کو بھی کسی معقول وجہ کے باعث مرد سے طلاق لینے کا اختیار دلایا ہے اور اس طرح فریقین کو ایک مکمل مساوات پر لاکھڑا کیا۔ اسلام نے عورت کو تحصیل علم میں مرد کے برابر اجازت دی۔ اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دار بنایا۔ اسلام سے پہلے عورت کی گواہی کبھی بھی معتبرنہ تھی۔ اسلام نے اس کی گواہی کو معتبر کیا اور عورت کی عصمت کو حدود اللہ میں شمار کیا اس کے خلاف جرم کو معاشرے کے خلاف سمجھا گیا۔ محض انفرادی مجرم نہیں بنایا گیا اس اعتبار سے آج تک دنیا کی کوئی ترقی یافتہ قوم اسلام کی گرد بھی نہ پا سکی۔ اسلام نے عورت کو اظہار خیال کی آزادی دی ۔


عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے قابل احترام تھی اس معاشرے میں مرد اپنی بیٹیوں کو پیدائش کے وقت زندہ دفن کر دیتے تھے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں جینے کا حق دیا۔ عورتوں کا تحفظ، جس طرح کیا، اس کی مثال دنیا کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام میں عورت کو وہ درجہ دیا جو آج کے جدید مغربی معاشرے میں بھی اسے حاصل نہیں۔ فرمان نبوی ہے کہ اگر ایک عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عصمت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، تو اللہ تعالی اس عورت کوحکم دے گا کہ جنت میں داخل ہو جا، جس دروازے سے بھی چاہو۔

حضرت علامہ اقبال نے فرمایا ، مر د کا فرض یہ ہے کہ وہ عورتوں کو صحیح تعلیم و تربیت مہیا کرے اور عورتیں اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کریں۔ایک ہی مقصد کے لئے دونوں فریقوں کو الگ الگ فرائض سونپے گئے ہیں۔ اس لئے ہر فریق کو اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر اپنے فرائض انجام دینے چاہیئں ۔ معاشرے اور خانوادے کی فلاح کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان عورت اسلام کی معاشرتی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے ۔ عورت کو اسلام کے معاشرتی نظام کا آئینہ دار ہونا چاہیئے، کیونکہ اپنی اولاد کی تربیت کی ذمہ دار عورت ہی ہے اور اس کی تربیت پر آئندہ نسلوں کی فلاح و اصلاح کا دار و مدار ہے۔