بیٹی اللہ کی رحمت ہے

کتاب: روشنی
مصنف: پروفیسر ڈاکٹر ہارون رشید چوہدری
صفحہ نمبر88


بیٹی ایک ماں، ایک بہن، ایک دوست، ایک رازدار کا امتزاج ہوتی ہے۔ یہ ایک کشمیرالجہت رِشتہ ہے۔ گھر میں صرف اسکی موجودگی ہی رنگ اور خوشبو بھر دیتی ہے۔جب تک غیر شادی شدہ ہوتی ہے بیٹی ایک ہمہ وقت شادمانی ہوتی ہے۔ والدین کیلئے ہنسے کھیلنے والی گڑیا ہوتی ہے۔وہ ماں سے رشتی کی وسعت ہوتی ہے اور باپ کی ہمہ وقت خبرگیری کرتی ہے۔وہ اپنی تھکی ماندی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے اوراپنے باپ کی پیشانی پر اُنس و محبت بھرا ہاتھ اسکے گھرواپس آنے پررکھتی ہے۔جب آپ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، جب آپ مایوس ہوں تو آپکوگلے لگا کرشادمانی سے مسکراتی ہے۔ جب آپ اپنی صھت کو نظراندازکرتے ہیں تو پیار بھری ڈانٹ پلاتی ہے۔ وہ آپکو اپنے محبت بھری انداز سے حیران کر تی ہے۔ جب بیٹی بیاہی جاتی ہے تواسکی اُداس نگاہیں بتاتی ہیں کہ وہ آپکو کتنا یاد کرتی ہے اور وہ ہمیشہ مشکل وقت میں آپکے ہمراہ ہوتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ صرف وہ ہی ایک ایسا رِشتہ ہے جو دیگرتمام رِشتے داروں کو پسِ پشت ڈال دے گی جب آپکو اسکی ضرورت ہو گی۔ حتیٰ کے جب وہ نانی یا دادی بھی بن چکی ہوں تب بھی آپ سے چھوٹے بچے کی مانند ڈانٹ پلا سکتے ہیں۔

219 ذہنی مریضوں کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ایک جائزہ پیش کیا گیا۔اس حد تک عقلی استعدادکاکھو دینا عموماً پاگل پن ہوتا ہے کہ حسب معمول سماجی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نہ نبھائی جا سکیں۔ اِس مقصد کیلئے 130 مرد اور 89 خواتین مریضاں زیرِ جائزہ تھیں انکی اکثریت کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین تھیں۔ بیوی بہن، ماں، بہو اور بیٹے لیکن ان میں سب سے بڑا حصہ ایک بیٹی کا ہی ہے۔ مردوں کی جانب سے بھی اس میں مددکی گئی لیکن وہ اِتنامستقل حصہ نہ تھا۔ ان میں سے 32 بیٹیاں شادی شدہ تھیں جو اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور انکے میں سے 22 خواتین نوکری پیشہ تھیں۔

اس سب کے باوجود انکی اولین ترجیح انکے والدین تھے جن کیلئے وہ سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار تھیں۔ وہ اپنے والدین کی زندگی کی بہتری کیلئے اپنے ذہنی مریض والدین کی دیکھ بھال الفت، لگاؤ اور برداشت سے کرتی تھیں وہ ڈاکٹر سے اپنے بیمار والدین کوآرام پہنچانے کیلئے مختلف طریقوں کے بارے میں دریافت کرتی جبکہ بیٹوں اور دیگرمردتیمارداروں کے سوال اس بات کے گردگھومتے کہ مریض کے تکلیف دہ رویہ کو کیسے روکا جائے خواہ اس پر انکے طرززندگی پر سمجھوتی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

بیٹی صبر و تحمل، محبت، لگاؤ اور رواداری کا دُوسرا نام ہے۔وہ اپنے والدین کو کبھی بھی شرمندہ نہیں کرتی خواہ اسکی قیمت اسکی اپنی زندگی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس وقت اندر ہوتی ہے جب ساری دُنیا باہر ہوتی ہے۔

اگرایک سطرمیں کہا جائے بیٹی ان عظیم ترین رحمتوں میں سے ایک ہے جو بنی نوع انسان کو عطا کی گئیں تو غلط نہ ہوگا۔