Results 1 to 10 of 10

Thread: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

  1. #1
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    رمضان اور فیضان دو جوڑواں بھائی تھے۔ شکل جتنی ملتی جلتی تھی عقل اتنی ہی مختلف۔ ابا حضور پرانے خیالات کہ مالک تھے کافی سختیاں لگا رکھی تھیں ان دونوں پر کہ نا دوست اچھا نا دوستی۔ نادان کی دوستی جی کا جنجال والا محاورہ اپنی اولاد کو ہمیشہ یاد دلاتے تھے ۔ کالج سے سیدھا گھر اور مجال ہے ایک منٹ بھی گھڑی کا کانٹا اوپر نیچے ہوجائے ۔ رمضان اپنا نام بتانے میں اکثر ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا . سو اس نے اپنے تمام دوستوں کو اپنا نک نیم "ریزو" بتاتا تھا ریزو طبیعتً نہایت ہی شریر

    ذ ہین اور موج مستی سے بھر پور لڑکا تھا، جیسے نئے زمانہ کی نئی ایجاد ہو ، جیسے نئی افکار کا حامی اور فیضان اس کہ برعکس اٹھہ بولو تو اٹھا، سو بولے تو سو جائے، سیدھا سادھا مزاج، عمر ہو گئی جناب کی مگر مجال ہے کسی لڑکی کی طرف آنکھہ بھی اٹھا کر دیکھے،اتنا حسین چہرہ کہ لڑکیاں دیکھہ کر دل تھام لیں اور یہ جناب انھیں بہن جی کہہ کر امیدیں ہی توڑ دے اور لڑکیاں اپنی ہی قسمت کو کوسے کہ ہر کسی کو بہن جی بول کر سارے خوابوں پر پانی بھیر دیتا ہے ۔ اپنا ہی سر لے مارے ۔ ریزونئی نئی ترکیب سے ابا حضور سے چھپتے چھپاتے ، گھر کی ایک کھڑکی نا چھوڑی چھلانگ لگا کر جانے میں اور بندر کی طرح کود کر آنے میں ۔۔۔ بہت خوش مزاج اور لڑکیوں کوجھوٹ موٹ کی تعریف کرکے اپنی طرف کرنے میں ماہر اور

    دوستوں کا موج مستی سے دل جیت لینا خوب آتا تھا ۔ ایک روز کی بات ہے وہ ایک لڑکی سے کہہ رہا تھا سیل پر


    بڑے اچھے لگتے ہے

    یہ باتیں یہ ملاقاتیں یہ آنکھیں

    اور ۔۔۔


    لڑکی نے شرما کر پوچھا اور۔۔ اور ۔۔ تو اچانک ابا حضور کو سامنے آتا دیکھ کرزباں سے نکل گیا اور ابا حضور، پھر گھبراہٹ میں فون کاٹ کر جناب چھپ گئے کہ کہیں شامت نا آجائے لڑکی کے

    چکر میں ۔ ابا حضور کی آواز نے چونکا دیا ارے نالائقوں کہا مر گئے سب کہ سب کمبختوں کب سے پکار رہا ہوں، گھر میں ان کا ابا حضور کا دیا ہوا یہی نام تھا۔ اماں کا تو دل ہی کانپتا تھا اس عمر میں بھی۔ مجال ہے اگر زرا سی بھول ہوجائے تو ابا جی ڈھول بجانا نہیں بھولتے۔ سن رہی ہو بیگم تمہارے دونوں شہزادوں تک میری آواز نہیں پہنچ رہی ہے ۔زرا چھڑی لانا جی جی اندر روم میں دروازہ بند ہوگا میں دیکھتی ہو ابھی آجائنگے جی۔ فیضان کتاب کے صفحوں پر الجھا ہوا تھا تو ریزو واپس آکر دروازہ بند کرکے ٹیپ لگا کر کل کے برتھ ڈے پارٹی میں ڈانس کرنے کی پرکیٹس پر لگا ہوا تھا ۔ایسے میں فیضان نے کہا ریزو بھائی آپ نے سنی اباحضور کی آواز؟ فیضان جو محو رقص تھا بولا کس کی یاد دلا دی سارا ڈانس بھول جاؤنگا میرے دوست سب ہنسے گے مجھ پر چپ اور پڑھ تو ایک دم خاموش ۔۔۔۔

    اچھا بھائی فیضان نے ڈھنڈی آہ بھر کر کہا ، اسی اثناء میں زور زور سے دروازہ بجا تو ریزو نے شرافت سے کتاب اٹھا کر دروازہ کھولنے کی ایکٹنگ کی کہ کہیں ابا حضور سچ میں نا آگئے ہوں سیل کی بات تو نہیں سن لی اس شک میں مگر ماں کو دیکھ کر چہرہ کھل اٹھا اور لاڈ سے کہا امی آپ ۔؟ ارے بیٹاکب سے تمہارے ابا حضور پکار رہے ہے ۔ دونوں بھایئوں نے ایک ساتھ کہا کیوں۔۔ اور ماتھے پر آگئے پسینے ، اب چلے دیکھتے ہے ماجرا کیا ہے۔ جاتے جاتے فیضان نے ریزو سے کہا ابا نے کیوں بلایا ہوگا۔ ارے تجھے پیار کرنے بلا رہے ہونگے میرا لاڈلا بیٹا آ کیک کھا لے دوست کا برتھ ڈے کا ایک کک پچھے سے مارتے ہوئے۔ ضرور ڈانٹنے کے لیے بلا رہے ہونگے بڑے اچھے لگتے ہے فلم کا رومنٹک سونگ سیڈ سونگ نا بن جائے کہیں

    چاہا کیا کیا ملا

    بے وفا تیرے پیار میں

    دل ہی دل میں کئی خیالات آنے لگے کہ کہیں انھوں نے بھائی آپ کو کھڑکی سے آتا تو نہیں دیکھ لیا ؟۔ گھبراہٹ سے پسینے آنے لگے ۔ ابے تو چپ ہوجا ورنہ بہت پیٹونگا ۔ ڈرے ہوئے کو ڈرا رہاہے کم بخت روتی شکل بنا کر چپ ۔ جیسے تیسے کرکے حاضری دے

    ہی دی ۔ جی ابا حضور ۔۔۔۔

    ارے کم بختوں نالائقوں کہاں مر گئے تھے۔؟ آواز سنائی نہیں دیتی جی ۔۔ جی ۔۔ وہ وہ ابا حضور ہم لوگ پڑھ رہے تھے ہے

    تو کیا احسان کر رہے تھے۔؟بد بختوں ایک آواز پر حاضری نا دی نا تومار مار کہ چھڑی کہ ساتھ تمہارے بھی دو ٹکڑے کردونگا۔۔۔ جی ابا حضور ہانپتے کاپنتے دبی دبی آواز میں صرف جی جی نکل رہا تھا ۔ میری بات کان کھول کر سن لو کل مسجد میں محاضرہ ہے شام میں تو خبردار کسی نے آنے سے انکار کیا یا کوئی بہانہ بنایا ۔۔۔ بیچارے جی جی کرکے اب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے امتحان کا بھی بولنے کی ہمت نا تھی تو یہاں برتھ ڈے پارٹی کا کیا خاک بولتے۔۔۔؟اللہ خیر کریں ، اوپر سے دوست اور احباب کیا کرے گے بیچارے اب جیسے انھیں کوئی سانپ سونگھ گیا ہو ۔۔۔ اب منہ لٹکا کر روم میں پہنچے رمضان نے لاتیں گھونسےکاٹ نوچ کرغریب فیضان کو مارکر اپنا غصہ نکال رہا تھا ارے ارے بھائی لگ رہی ہے بھائی میں نے کیا کیا ہے فیضان سے التجا کی ریزو روتا منہ بنا کر اور سارا غصہ فیضان پر نکال کر سوچنے لگاکہ اب ابا کے چنگل سے کیسے نکلے۔ فیضان بیچارہ پھر بھی بھائی کی حالت سمجھتے ہوئے ارے بھائی آپ چلے جاؤ ہمیشہ کی طرح میں رمضان بن کر مار کھا لونگا ۔۔۔بیچارہ بھائی ہو تو ایسا بلی کا بکرہ اور سیدھا سادھا ۔۔۔ ارے اس وقت ابا نے بہت سختی سے منع کیا ہے نا گیا تو وہ تجھے مار ہی ڈالے گے ۔ ابا حضور کی وجہ سے دوستوں سے آنکھ نہیں ملا سکتا سب کہتے ہے کیا لڑکی کی طرح گھر میں بیٹھا رہتا ہے ۔ ادھر اُ دھر بلاتے ہے کہیں جا نہیں سکتا جینا حرام کردیا ابا حضور نے اب کچھ ترکیب کرتے ہے ۔۔۔ اپنے دوستوں کو فون لگایا اور کہا سب کہ سب آجانا ٹائم پر گھر اور کیمیاء کہ سر کو مار ڈالتے ہے ارے بھائی کسی کی جان لینا بڑا گناہ ہے ابے چپ میرا مطلب ہے وہ لوگ آکر جھوٹ بولے گے

    تجھے تو پتہ ہے نا ابا کسی کے جنازہ میں جانا حضور کی سنت مانتے ہے کبھی نہیں روکے گے ہمیں ۔۔عی ن وقت پر دوست ہی کام آتے ہے اور آ بھی گئے ٹائم پر اور اچھا خاصہ ڈرامہ بنایا مگرمچھ کہ آنسو لئے اور پھوٹ پھوٹ کے ایسا روئے استاد کیماء کہ لئے جس کی شکل سے بھی نفرت کرتے تھے ان کہ آنسو دیکھ کر آبا حضور کو رحم آگیا اور اباحضور نے جب کہا میں بھی آتا ہوں تو چکر آنے لگے ایسے تیسے ابا کو دوستوں نے منا لیا کہ آپ محاضرہ میں جائے اور انھیں یہاں آنے دیں ۔۔ تاکہ آپ کہ دوستوں کہ سامنے آپ کو شرمندہ نا ہونا پڑے آخر آپ مولوی ہو مسجد کہ آپ کے

    بغیر محاضرہ ادھورہ رہے گیا تو سب کیا کہے گے۔۔۔ اب رضامندی تو مل گئی لیکن سیدھے سادھے لباس میں جائے تو کیسے ۔ ؟ نکلے تو سادہ لباس میں لیکن رمضان نے فیضان کو سیکھایا ہوا تھا باتھ روم کی کھڑکی کھول کر نکلے دونوں فرشتے کھڑکی میں سے کودے اور اچھے ٹپ ٹاپ لباس میں کھڑکی سے سیٹی بجاتے اتر کر چلے دیئے ۔۔۔ ابا حضور بھی خوش یہ دونوں بھی خوش اور ان کے چمچے دوست بھی خوش خوب انجوئے کیا ۔۔۔ اب گھر جانے جلدی مگر رمضان کا موڈ نا بنا تو اس نے فیضان کو بھیج دیا اور کہا کھڑکی کھلی رکھنا میں آجاؤنگا ابا حضور کو ویسے بھی چار دوست مل جاءے تو کہاں آتے ہے گھر جلدی۔ اب فیضان تو چلا گیا اور ریزو خوب موج مستی ڈانس کرکے آنے لگا تو دیکھا تو ابا حضور بھی آرہے ہیں ۔ابا نے دیکھ لیا تو گئے کام ریزو نے خود کلامی کی ،اور گلی کے کونے میں چھپ گیا۔اب جب ابا گھر میں داخل ہوئے تو کھڑکی میں سے کود کر اندر تو آگیا لیکن روم تک بھاگتے ہوئے ابا جی نے دیکھ ہی لیا ۔ تو ہانپتے کانپتے زور سے ایک لات ماری فیضان کو کے اٹھ ابا نے دیکھ لیا ہے۔ بیچار زور دار گرما گرم لات کا مزہ چکھ کر بھی کچھ نا بولا ارے میں سوتا ہو تو باہر نکل کر چل کر اندر آنا ابا حضور کو ایسا لگنا چاہئے تو نیند میں چل رہا ہے جی بھائی بہچارہ آنکھ مسلتے ہوئے بھائی کی جان بچانے نکل گیا باہر اپنا حشر بھول کر فیزی لمبے ہاتھ کئے روم سے باہر نکل کر آنکھیں بند کیے چل رہا تھا ایکٹنگ کئے ہوئے ایک آنکھ سے ادھر اُدھر کا ذائقہ لیتے ہوئے تو ایکدم سامنے ابا حضور آ گئے ارے نالائق کہا جا رہا ہے اتنی رات کو ۔؟ نشیلی آواز میں فیزی بھائی کی سکھائی ہوئی بات پر عمل کرتے ہوئے کہنے لگا نیند میں محاضرہ سننے جا رہا تھا ۔ تڑخ تٹرخ زور دارطمانچہ لگا دی ئے گال پر کہ زمین پر ہی لیٹ گیا اور کان میں سے سیٹیاں بچنے لگی ارے اٹھ نالائق اٹھا تو ڈر سے تو کہیں پر نگاہیں کہی پر نشانہ ہوگیا۔دوسری ہی طرف کا رخ لے لیا پھر سے زور دار تڑخ ملا تو ہوش ہی اڑ گئے تو رمضان ہے نا ۔؟ جی ابا خود کو سنبھالتے ہوئے آہ چل روم میں جا تو گول گول گھومتا ہے تو پھر زور دار طمانچہ اب جاتا ہے کیا چھڑی لاؤ ۔ گھبرا کہ فیضان روم میں روتی شکل لے کر جاتا ہے، ریزو جو مزے سے آرام کررہا ہوتا ہے فیضان کی شکل ۔دیکھ کر اس کی ہنسی نہیں رکتی کیا بھائی آپ کہ دوستوں کی وجہ سے میں مار کھاؤ ۔ ارے تو تجھے کس نے بولا تھا اور اکٹنگ کرنے ہا ؟ بھائی ابا حضور کہ سامنے بڑوں بڑوں کی بولتی بند ہوجاتی ہے میں تو پھر بھی بچہ ہو بھائی ابا نے بہت کس کہ تمانچے مارے دن میں تارے نظر آنا وہ محاورہ سنا تھا آج دیکھ بھی لیا بھائی میرے گالوں پر سرخی آگئی ہے کرے کون اور بھرے کون


    چل اب بہت بول لیا بیٹا چپ کر کے سو جا۔ صبح اٹھ کر پھر کالج کی تیاری کہ دوران ریزو اپنا سیل گھر میں ہی بھول گیا ۔ اور سیل پر آجاتا ہے ریزو کی ایک فرینڈ کی کال فون کی رنگ سن کر اباحضور روم کی طرف آتے ہے اور کال اٹھا لیتے ہے ۔ سامنے سے آواز آتی ہے ہائے ریزو ۔ کیسے ہو ڈرالنگ ۔ ابا حضور غصہ میں لا حول ولا قوۃ بے حیائی کا زمانہ آگیا ہے! جی آپ کون لڑکی بیچاری رونگ نمبر تو نہیں لگ گیا سمجھ کر بولتی ہے ۔ پہلے یہ بتا بے ہودہ لڑکی تیرے گھر والوں نے تجھے یہ تعلیم دی ہےکہ کسی بھی لڑکے کو کال کرکے ڈائرکٹ ڈارلنگ بولوں تجھے شرم نہیں آئی وہ وہ میں میں فون کرکے لڑکی پرے ہوش میں آجاتی ہے کہ ہو نا ہو ضرور ریزو کہ ابو ہونگے ۔ اب لڑکی کی

    کال تھی ظاہر ہے ابا حضور سے آنی ہے ریزو کی شامت ۔ ابا حضور نے خوب کلاس لی مار مار کہ چھڑی ٹورڈ دی ریزو بے خبر تھا اس دفعہ پوچھنے پر کس کا فون ہے یہ فوراَ کہا میرا ہے اور پھر دھلائی بھی اچھے سے ہوئی اب ابا نے سیل بھی چھین لیا۔

    لا حول پڑھ کر

    اب استادوں کہ استاد رمضان بھائی کو گرما گرم مار پڑی تو ایک سونگ پھر یاد آگیا

    تیری میری میری تیری پریم کہانی ہے مشکل

    دوطمانچوں کی بجائے ہم کتنی مار کھائے ؟

    ریزو نے پہلی دفعہ باپ کی مار کھائی تو بھائی کہ درد کا احساس ہوا پہلی بار بھائی کو گلے لگا کر وہ روم میں بہت رویا ۔ دوست خریت کے لیے فیضان کے سیل پر مگر ریزو کا کسی سے بات کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ریزو نے اس معاملے کو دل پر لے لیا اور پھر اسے اپنا ہر فعل یاد آنے لگا اپنے بھائی کہ بھولے اور معصوم سے دل پر اس کی زیادتی یاد کی اتنے سختی سے ابا حضور نے آج پیٹا تھا کہ ساری چربی اتر گئی ۔ صبح تیز بخار میں تپ رہا تھا فیزی نے اٹھا یا تو اتنا تیز بخار دیکھ کر پریشان ہوگیا اور امی جان سے کہا تو امی نے روتے ہوئے ابا حضور سے کہہ ہی دیا آج کیوں کہ ایک ماں خود پر ہزار ستم سہہ سکتی ہے لیکن اپنے بچوں پر ستم سہے نہیں جاتے ۔ امی نے پہلی بار اپنی زبان کھولی کہ میرے لال کو آپ نے کیسا مار دیا ہے ہنستا کھیلتا میرا بچہ کل سے بستر پر پڑا ہے اور کچھ کھا پی بھی نہیں رہا سخت تیز بخار ہوگیا ایسے کیسے باپ ہے آپ ؟ اچھا ہوا اللہ نے مجھے ان کہ بعد کوئی اولاد نہیں دی ورنہ۔۔۔۔۔ اور وہ رونے لگیں ۔ ابا حضور کو بھی بیوی سے بولے گئے لفظ اثر کر گئے اور وہ اپنی سنگ دلی پر افسوس کرنے لگے ۔ کہ بچوں کی عمر ہی ہے کھیلنے کودنے کی جوان بیٹوں پر مجھے ہاتھ اٹھانا نہیں چاہیے تھا سچ کہہ رہی تھی بیگم ابا حضور سوچ ہی رہے تھے کہ گھر کی بیل بجی جیسے ہی فیضان نے دروازہ کھولا ڈر گیا سامنے آفت بن کر چار دوست کھڑے تھے ۔ ریزو کہ بخار کا سن کر تیمارداری کرنے آگئے تھے ۔ نئے دور کا لباس نیا اسٹائل لڑکیوں سے ہائے ہیلو ہنس ہنس کہ ایک گفتگو کر رہا تھا ۔ ایک اور جانے انجانے سگریٹ بھی جلانے والا تھا تو فیزی نے منع کردیا کہ مروائےگا کیا ۔۔؟ ابا حضور گھر پر ہیں، ڈاکٹر کو بلایا گیا ریزو کی نظر مگر ابھی تک اپنے دوستوں پر تھی ۔ ادھر فیزی کہ پسینے آنے لگے کہ کرے تو کیا کرے اچانک دوست آگئے بنا بتائے آج خیر نہیں ان کہ جاتے ہی اور کیا بھروسہ ان کہ ہوتے ہوئے ان کہ سامنے نا مارے ابا حضور کچھ بھی کر سکتے ہے یہ سوچ کر اسے چکر آگئے اور وہ گر گیا دوست جو اپنی موج مستی سے باز نہیں آرہے تھے وہ بھی گھبرا گئے ایک تو تھا ہی اب دوسرا بھی ۔ معاملہ گڑ بڑ ہے ۔ اتنے میں اماں جی اور رونے لگی میرے بچوں کو بچا لو جی کیا حال کردیا ان کا زرا دیکھو تو ان کہ دوستوں کو کتنے ہنس مکھ لگ رہے ہیں اتنے میں ایک دوست کہ والد کال کرتے ہے اسے وہ اپنے والد سے مخاطب ہوتا ہے کامون ڈیڈ میں کوئی بچہ تو نہیں ہو جو جلدی گھر آجاؤ۔ مجھے میری زندگی جینے دو پلیز ریزو کہ ڈیڈ کی طرح نا بنو آج ان کہ دونوں بیٹوں کا یہ حال ان کی ہی وجہ سے ہوا ہے اچانک ابا حضور کہ کانوں تک یہ بحث بھی سننے میں

    آجاتی ہے اب ان کہ غضب کا کون نشانہ ہونگا اللہ خیر کرے

    ڈاکٹر کہ جانے کے بعد زور سے چیختے ہیں ارے نالائقوں کم بختوں ، بد نختوں بے شرموں اتنی زور دار چیخ سن کر سب کو سانپ سونگھ لیتا ہے اور آنکھ پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہے چاروں دوستوں کی اور فیزی پورے ہوش میں آکر ڈر کہ کھڑا ہوجاتا ہے جی آبا حضور اور ریزو بھی دھیمے سے آنکھ کھول دیتا ہے ۔ سامنے چار دوستوں کو دیکھ کر دنگ ہوجاتا ہے اور ہمت کرے کھڑا ہ ہو ہی جاتا ہے۔

    دونوں آنکھ نیچی جی ابا حضور

    ارے کم عقلوں تم دوست ہو یا دشمن ؟ بیگم بھی چیخ سن کر کانپنے لگتی ہے اللہ خیر کرے اب ان پر یہ ٹوٹ پڑے تو بڑی بے عزتی ہوجائے گی میرے لاڈلوں کی دل ہی دل میں دعایئں مانگتی ہے ۔ سب ڈر کہ کاپتے ہیں ۔ دوست بھی ڈر جاتے ہے اتنی پیور اردو میں گالیاں جو کبھی سنی نہیں تھی سن کر کہ واقعی اب یہ آدمی ہم سب کا شامی کباب بنا کر کھا جائےگا ۔ آہستہ سے ایک کان میں بولتا ہے بھاگ کیا ابے بھاگ ورنہ یہ پٹے گا تو تینوں اس کہ ساتھ اوپر سے ڈر کر بھاگتے ہیں لکن سیڑھیوں پر سے گر جاتے ہیں ڈھڑم ٹڑم بیچارے کر ارے میری کمر ابے تونے بولا تھا چل یہ


    کون سے ٹیپو سلطان کہ گھر لے آیا ارے میرا پیر ارے یار یہ ٹیپو سلطان کا بھی باپ ہے چل بھاگ ورنہ اس کے بیٹوں کہ بازو میں سلا دیگا یہ۔ فیضان اچھا ہوا بھاگ رہے ہے ورنہ آج تو چھڑی نکال ہی لیتے ریزو بچارہ پھر سے ایسی حالت میں کوئی سونگ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے ایک شعر یاد آجاتا ہے

    وہ آئے ہمارے گھر خدا کی قدرت ہے

    کبھی ہم ان کو تو کبھی اپنے باپ کو دیکھتے ہے۔

    ابا حضور اتنے میں چھڑی لئے ان دوستوں کے پچھے کم بختوں کہاں بھاگ رہے ہو، روکو ۔ دروازہ بند ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں جا پاتے ایک بولتا ہے، ہاتھ میں چھڑی دیکھ کر اب ہم گئے اب یہ جلآد چھوڑے گا نہیں ہمیں، ضرور اس نے اپنی برائی سب سن لی ہونگی، جب میں کر رہا تھا۔ اب کسی کا سیل بجتا ہے تو ابا حضور پاس جا کر چھین لیتے ہے۔ چاروں فون لاؤ ۔ اتنے میں ریزو کا ہاتھ تھامے فیضان بھی اترتا ہے۔ اور والدہ بھی، کہ اب پتہ نہیں کیا حشر کرے ان کا، سب کہ سیل لیکر ایک ٹیبل پر رکھ لیتے ہے، اور سامنے صوفے پر بیٹھنے کا کہتے ہوئے، پھر زور سے

    چلاتے ہے لا حول ولا قوۃ سب اپنی جگہ ہرہی ہل جاتے ہیں ۔ پھر اپنے دونوں بیٹوں کا ہاتھ تھام کر کہتے ہیں ۔ سب کہ فیوز اڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ سب کشمش میں تھے کہ ابا حضور ان کا کیا حشر کرےگے ۔ ایک دم دہشت زدہ محول میں لاحول کی گونج سن ایک رونے لگتا ہے مجھے معاف کرد و انکل میں آپ کہ گھر کبھی نہیں آؤنگا ، تو دوسرا کہتا ہے ریزو فیزی سے دوستی ہی چھوڑ دونگا ایک پاؤ پکڑ لیتا ہے، پلیز آپ مجھے نا مارو۔ ٖفیضان رمضان بھی رونے لگتے ہے ابا حضور انھیں جانے دو۔ دوبارہ ہم کوئی غلطی نہیں کریں گے۔ اب ابا حضور زور سے چیختے ہے ارے چپ، چپ

    سب کہ سب چپ، کم بختوں مجھے بھی بولنے دوگے، ارے میری بھی سنو نالائقوں ، سب ایک دم سُن ہوکر سنتے ہے ۔ ارے تم لوگوں کو کیا لگ رہا ہے ؟ میں تم لوگوإ کو ماروگا ؟ ارے نالائقوں تم کو دیکھ کر مجھے میرے بچوں کی شرافت پر ناز ہوا ہے آج، تم لوگوں نے میری آنکھیں کھول دی، میں یہ چھڑی تمہیں مارنے نہیں ٹوڑنے لایا ہو بد بختوں ، میں نے کبھی اپنے بچوں سے ایک ایسا لفظ نہیں سنا، جب یہ نالائق ڈاٰیڈ ڈایڈ کر کے زبان چلا رہا تھااپنے والد سے ، اور یہ بے ہودہ میری ہی برائی میرے ہی گھر میں کر رہا تھا ۔ لیکن بیٹا سب سچ کہا تونے ، میرا رمضان اور ٖفیضان میرے بچوں نے کبھی شکایت نہیں کی، کبھی اف نہیں بولا، آج مجھے احساس ہوگیا کہ میرے بچے ہیرا ہے ہیرا، مجھے فخر ہے دونوں پر، اور تم چاروں نالائق ہو، پھر دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے یہ بے جا سختی انھوں نے دل ہی دل میں رکھ کے بیمار ہوگئے، میری مار کھائی، لکن اف بھی نہیں کہا کبھی ، آج کہ بعد میں بھی وعدہ کرتا ہو میں اپنے شہزادوں کو اس سختی سے آزاد کردونگا، کبھی ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا، سب سن کر اپنے اپنے پسینے پونچھتے ہیں۔ ارے بیگم زرا نوجوانوں کی خاطر واطر کرو ۔ رمضان اپنے والد کو گلے سے لگا لیتا ہے۔ تو فیضان بھی ڈرتے ڈرتے گلے لگ کر خوش ہوتا ہے ۔ بیگم بھی خوشی خوشی جی ابھی لاتی ہو۔ سب کہ ہوش واپس اپنی جگہ آجاتے ہے ،ارے بال بال بچے یار، ہاں یار، خیراب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔ رمضان بھی اپنے دوستوں کہ ساتھ خوب گپے مارتا ہے۔ پھر سب مل کر شام کا ناشتہ کرتے ہیں ہنسی خوشی ، اتنے میں رمضان کا سیل جو ابو کہ پاس تھا بجتا ہے اور وہ اٹھا لیتے ہے پھر سے وہ لڑکی ہائے ریزو ڈارلنگ ، تو پھر سے زور سے چیخ کی گونج آتی ہے' لا حول ولا قوۃ کی آواز' سے سب سہم جاتے ہیں۔ لیکن تعجب کرتے ہے ، جب ابا حضور سیل دیتے ہوئے ریزو سے کہتے ہے، یہ لے ڈرلنگ سے بات کر لے، بار بار کال کر رہی ہے، اور اپنا سیل اپنے ہی پاس رکھا کر لڑکے ۔

    سب زور زور سے ہنستے ہیں ۔

    ایک بٹہ دو ، دو بٹے چار

    چھوٹی چھوٹی باتوں سے بٹ گیا سنسار

    از ریشم

  2. #2
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    9,092
    Mentioned
    95 Post(s)
    Tagged
    8378 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429513

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    nice


  3. #3
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    pakistan
    Posts
    3,290
    Mentioned
    2 Post(s)
    Tagged
    2597 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    541177

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    nice

  4. #4
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    اسلامی جمہوریہ پاکستان
    Posts
    3,461
    Mentioned
    276 Post(s)
    Tagged
    8176 Thread(s)
    Thanked
    90
    Rep Power
    1073759

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    kho0Ob.................
    2v1u8md - ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

  5. #5
    Join Date
    May 2012
    Location
    !!!KiSii Kii DuAouN meii!!!:):)
    Posts
    10,485
    Mentioned
    83 Post(s)
    Tagged
    10415 Thread(s)
    Thanked
    28
    Rep Power
    2184012

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    wahhh... bhtttttt xabardast....
    ---------------- -----------------

    sigpic16201 13 - ایک بٹہ دو، دو بٹے چار


    -------------------------------------------------------------
    some people are worth
    melting for....!!!
    ..(olaf)..
    ------------------------------------------------------------------------


  6. #6
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    mazay ki story likhi hai aik sabaq amoz story hai
    walid sahab ko darling keh diya yeh mazay ka part tha
    keep writing

    eq2hdk - ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

  7. #7
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Karachi,Pakistan
    Posts
    11,803
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474855

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار



    wah maza agaya
    Alhamdullilah

  8. #8
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,045
    Mentioned
    303 Post(s)
    Tagged
    208 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    Kamaal Ast .... Behtreen
    (-: Bol Kay Lab Aazaad Hai'n Teray :-)


  9. #9
    Join Date
    Sep 2012
    Location
    Abbottabad
    Posts
    73
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    413 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    khob.................

  10. #10
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Desert
    Posts
    1,138
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    1957 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    6

    Default Re: ایک بٹہ دو، دو بٹے چار

    hahahah buhat lutaf aaya parh kar ... hum bhi jurwan hain aur inn main kuch batain hum par sadar aati hain leekan masoom donoon he naheen hain

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •