Results 1 to 2 of 2

Thread: Pakeeza Seerat

  1. #1
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    اسلامی جمہوریہ پاکستان
    Posts
    3,460
    Mentioned
    273 Post(s)
    Tagged
    8176 Thread(s)
    Thanked
    90
    Rep Power
    1073759

    snow Pakeeza Seerat





    پاکیزہ سیرت

    جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا_جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا_ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے_دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے_انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا"بیت المال کس طرف ہے؟" آذاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے_
    میں نے پوچھا_بیت المال میں تمہارا کیا کام؟_
    بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا_میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں،اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں_
    ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں-
    آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا_مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں_


    قدرت اللہ شہاب کی تصنیف "شہاب نامہ" سے ایک اقتباس
    2v1u8md - Pakeeza Seerat

  2. #2
    Join Date
    Mar 2015
    Location
    Karachi
    Posts
    726
    Mentioned
    6 Post(s)
    Tagged
    59 Thread(s)
    Thanked
    1
    Rep Power
    3

    Default Pakeeza Seerat

    جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا، راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے، دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے۔ انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا۔ ’’بیت المال کس طرف ہے؟‘‘ آزاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے۔
    میں نے پوچھا۔ ’’بیت المال میں تمہارا کیا کام؟‘‘
    بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا۔ ’’میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس کھوتی پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جارہے ہیں۔‘‘
    ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھالیا تاکہ انہیں بیت المال لے جائیں۔
    آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا۔ مجھے تو چاہئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
    (قدرت اللہ شہاب کی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ سے اقتباس)



Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •