من کی آلودگی
انسانی زندگی میں عجیب عجیب طرح کی کمزوریاں آتی ہیں اور آدمی ان میں پھنسا رہتا ہے اور جب وہ اپنی اندرونی طہارت چاہتا بھی ہے اور پاکیزگی کا آرزو مند بھی ہوتا ہے۔ تو بھی اس سے کوئی نہ کوئی ایسی کوتاہی سرزد ہو جاتی ہے کہ وہ بجاۓ صفائی کے مزید زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں اور میرا پیغام تمام دنیا کے لیے ہے کہ جب تک اندر کی صفائی نہیں ہو گی اس وقت تک باہر کی آلودگی دور نہیں ہو سکتی ہے۔ آپ روز شکایت کرتے ہیں اور آپ آۓ روز اخبارات کے مدیران کے نام خط لکھتے ہیں کہ جی دیکھیں ہمارے گھر کے آگے گندگی پڑی ہوئی ہے یا ہمارے محلے میں گندگی ہے اور دل سے یہ آپ کی آرزو نہیں ہوتی کہ صفائی ہو۔ آپ نے اپنے اندر ابھی تک یہ طے ہی نہیں کیا کہ آپ نے اب صفائی کرنی ہے۔ یہ بات اس وقت طے ہو گی جب آپ کو پاکیزگی اور صفائی سے محبت ہو گی اور آپ نقلی خوشبوؤں کے سہارے زندگی بسر کرنے کی بجاۓ اندر کی آلودگی ختم کر دینے کا نہ سوچیں۔ آپ نے بہت سنا ہو گا کہ پاکیزہ لوگوں کے بدن کی خوشبو ایسی مفرح اور مسحور کن ہوتی ہے کہ ان کے قریب بیٹھنے سے بہت ساری آلودگیاں دور ہو جاتی ہیں چاہے انہوں نے کوئی خوشبو عطر نہ لگایا ہو۔ آپ بابوں کا طریقہ کار اختیار کریں یا نہ کریں یہ آپ کی اپنی مرضی ہے لیکن انہوں نے روح کی صفائی کے لیے جو ترکیبیں بنائی ہوئی ہیں ان کو آپ اپنا سکتے ہیں اور ان کو اپناۓ جانے کے بعد لوگوں کو بڑی آسانیاں عطا کی جا سکتی ہیں -


اشفاق احمد