چاہتوں کے موسم میں
زخم جو بھی لگ جائے
عُمر بھر نہیں سِلتا
تم نے سُن لیا ہوگا
شہر کی ہواؤں سے
وہ جو اِک دیوانہ
آتے جاتے راہی کو
راستوں میں مِلتا تھا
اب کہیں نہیں مِلتا