Results 1 to 7 of 7

Thread: بھکاری

  1. #1
    The Prince's Avatar
    The Prince is offline میرا موبائل ہےناآپکے پاس۔
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Pakistan
    Posts
    839
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    35 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474843

    Default بھکاری

    بھکاری
    اللہ کے نام پر دے دے بابا۔ مولا کے نام پر دے دے بابا۔ تیرے بچے جیون ۔ تیری حیاتی سوہنی ہووے، تیریاں مراداں پوریاں ہوون۔
    پاکستان کے کسی بھی شہر میں ، کسی بھی بازار میں اس قسم کی آوازیں بکثرت سنائی دیتی ہیں۔فرق اگر ہوتا ہے تو شاید زبان کا کوئی اردو میں تو کوئی پشتو میں۔ کوئی پنجابی میں تو کوئی سندھی میں دعاﺅں کی پوٹلی کھولے ایک کے بعد ایک دعانکال رہا ہوتا ہے۔ان دعاﺅں کا مقصد ماسوائے اسکے اور کچھ نہیں ہوتا کہ بن مانگے اسکو کچھ روپے مل جائیں۔ یہ اور بات ہے کہ زبان سے تو کچھ نہیں مانگا جاتا لیکن یاتو ہاتھ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں یا کوئی کٹورا آگے گیا ہوتا ہے اور یا اگر زمین پر بیٹھے ہیں تو کوئی چادر پھیلائی ہوئی ہوتی ہے۔حالتیں مختلف ہوتی ہیں، انداز جدا جدا ہوتے ہیں لیکن سب کے خیالات ، انداز ایک ہی مرکز سے نکلتے ہیں۔ تان سب کی ایک سر پر مبنی ہوتی ہے اور پسند سب کو صرف ایک ہی آواز ہوتی ہے اور وہ پیسے کی جھنکاری کی آواز ہوتی ہے۔
    ہرکسی کا زندگی میں کبھی نہ کبھی اس سے سامنا ہوتا رہتا ہے، اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔اور ہر کوئی ان سے اپنے اپنے انداز میں پیش آتا ہے۔ دھتکارتے ہیں، نظر انداز بھی کرتے ہیں، ترس بھری نگاہوں سے بھی دیکھتے ہیں، انکی خواہش کو پورا کرتے ہوئے پیسوں کی جھنکار بھی سنا دیتے ہیںاور بعض جھنکار سنانے کے ساتھ تھوڑی سی بحث بھی کر لیتے ہیں۔لیکن بحث بھی انکی جسمانی حالت دیکھ کر کی جاتی ہے۔ دھتکارنے والے اور بحث کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی کرے بھی تو کیا۔ ہماری نگا ہ میں تو یہ لوگ شاید ہی پورے دن میں دو تین سو روپے سے زیادہ اکٹھا کرپاتے ہوں۔لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ شاید دس سے بیس فیصد لوگ ایسے ہوںجو اتنی کم مقدار پیسے کماتے ہوں ورنہ تو باقی سب کی آمدنی پانچ سو روپے سے زیادہ ہوتی ہے۔اور وہ واقعی آمدن ہوتی ہے۔کیونکہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ روٹی اور کپڑا بھی یہ مانگتے ہیں۔کھانے کے وقت میں کسی بھی ہوٹل کے سامنے اپنا ٹھیہ لگا لیتے ہیں۔کپڑوں میں موسم کے مناسبت سے مانگتے ہیں۔ساتھ میں کمبل یا لحاف سردیوں میں ضرور طلب کرتے ہیں۔ تو جو کچھ انھوں نے کمایا ہوتاہے وہ آمدنی میںہی شمار ہو سکتاہے۔
    اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ بھکاری ایک جگہ مستقل ٹھکانہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے بھکاریوں میں زیادہ تر معذور نظر آتے ہیں یا پھر کوئی چرسی یا ہیروئن پینے والا بیٹھا ہوتا ہے۔ اب وہ معذور کس حد تک معذور ہوتے ہیں یہ تو خدا ہی جانتا ہے۔لیکن ان میں سے شاید کوئی تین سے پانچ فیصد واقعی معذور ہوتے ہیں لیکن پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خود معذور ہوتے ہیں یا انکو بھیک مانگنے کی خاطرمعذور بنایا جاتا ہے۔ کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اپنی اسکی کٹی ہوئی ٹانگ کو سامنے رکھ کر لوگوںکے دلوں میں اپنے لیے رحم پیدا کرتا ہے اور ان سے بھیک لیتا ہے۔بدلے میں دعائیں دیتا ہے۔ تو کوئی اپنے کٹے ہوئے یا ٹیڑے میڑھے بازو کو دوسرے ہاتھ سے تھامتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ آتا جاتا ہے ، بغیر صدا لگائے یتیم صورت بنائے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ کوئی صدا لگا تا ہے ” آنکھوںوالو! آنکھیں بڑی نعمت ہیں“۔ تو جھٹ سے لوگ جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنے اپنے ظرف کے مطابق اسکے ہاتھ میں ریزگاری یا نوٹ رکھ دیتے ہیں مبادا انکی آنکھوں کو نظر لگ جائے۔
    میری ذاتی طور پر کئی بھکاریوں سے کافی دیر تک بات چیت ہوتی رہی ہے۔اپنے بچپن میں جب میں شاید پانچویں یا چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، ایک بھکاری کو تو باقاعدہ کھانا تک کھلاتا رہا۔ اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر اسکے منہ میں ڈالتا رہا ۔ اسکے منہ سے ٹپکتی رال کو صاف کرتارہا تھا۔ اور دنوں یا ہفتوں نہیں بلکہ دو تین سال تک اسکے ساتھ اسی طرح پیش آتا رہا۔ اسکا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے بہت سی باتوں کا پتہ چلا تھا۔
    اسکا نام رحمت تھا۔ اسکو شاید کبھی فالج ہوا ہوگا (بعد میں پتہ چلاتھا کہ حقیقت کچھ اور تھی) جسکی وجہ سے اسکے ہاتھ اور پاﺅں بیکار ہو گئے تھے۔ ہاتھوں کو تو پھرکسی حد تک حرکت دے لیتا تھا۔ لیکن ٹانگوں کو گھسیٹنا پڑتا تھا۔کسی اللہ کے نیک بندے نے اسکو ایک تین پہیوں والی سائیکل خرید کر دے دی تھی جسکو ایک ہاتھ سے تھامے دوسرے ہاتھ سے چلاتا تھا۔ صرف اسکواوپر بٹھانے کے لیے دوسرے کی مدد کی ضرورت پڑتی تھی۔کبھی کبھی اسکے ہاتھوں کی طاقت جواب دے جاتی تھی تو کوئی راہ گیر سائیکل کو کچھ فاصلے تک دھکا لگا دیتا تھا۔ اسی طرح کبھی خود چلاتے ہوئے تو کبھی دوسرے لوگوں کی مدد سے وہ اپنے گھر اور گھر سے اس مخصوص جگہ تک آتا جاتا تھا۔ ایک بات جو کم از کم مجھے عجیب لگتی تھی کہ جب وہ گھر کے قریب پہنچتا تھا تو ہمیشہ کسی نہ کسی طرف سے ایک لمبا تڑنگا آدمی اسکو فوراً گھر کے اندر لے جاتا تھا۔ تین چار دفعہ تو میں نے اس کو خود دیکھا تھا کیونکہ محلے کی کرکٹ ٹیم کبھی ایک محلے میں میچ کھیلنے جاتی تھی تو کبھی دوسرے میں۔اور میں بھی اس ٹیم کا ایک ممبر ہوتا تھا۔تو کئی دفعہ رحمت کے محلے میں بھی ہم میچ کھیلنے گئے تھے۔

    ایک دن دوپہر کا کھانا کھلاتے ہوئے میں نے اس سے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو پہلے تو بات کو ٹال گیا ۔ لیکن میرے اصرار پر بہت احتیاط سے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے جو بات بتائی اس وقت تو مجھے اس پر یقین نہ آیا۔ گھر آکر جب میں نے وہ بات اپنے والد محترم کو بتائیتو انھوں نے رحمت کی طرف میرا جانا بند کر دیا۔ بہت پوچھا تو بھی کچھ نہ بتایا۔ تو تین ہفتوں کے بعد جب والد صاحب نے تھوڑی نرمی برتی تو میں پھر رحمت کی طرف چل دیا۔لیکن اس بار تو اسکا حلیہ ہی بگڑا ہوا تھا۔چہرے پر زخموں کے نشانات تھے جو مندمل ہو رہے تھے۔سر پر دائیں جانب کان سے تھوڑا اوپر ایک عدد گومڑ ابھرا ہوا تھا۔بازوﺅں اور پنڈلیوں پر بھی زخموں کے نشانات تھے۔ میرے پوچھنے پر اس نے صرف اتنا کہا کہ یہ اس دن مجھ سے بات کرنے کی سزا تھی۔ اور دوبارہ اسکو اس جگہ پر آئے ہوئے صرف چاردن ہوئے ہیں۔کیونکہ اسے زیادہ باتیں کرنے سے منع کیا گیا تھا جب کہ وہ اصلیت بتا بیٹھا تھا۔
    اس نے جو بات بتائی تھی وہ یہ تھی کہ اسکو فالج نہیں ہوا تھا بلکہ اسکے چند سگے رشتہ داروں نے اسکو نا معلوم وجہ سے زہر دینے کی کوشش کی تھی۔ ڈاکٹروں کی محنت اور بروقت علاج سے گو اسکی زندگی تو بچ گئی تھی لیکن اسکا اثر اسکے پٹھوں پر مختلف صورتوں میںہوا تھا۔ اور اسکی حالت یوں ہوگئی تھی جیسے فالج کے شدید حملے سے گذرا ہو۔اسکو بات کرتے ہوئے بھی مشکل پیش آتی تھی کیونکہ اسکا منہ تھوڑا ٹیڑھا ہو گیا تھا اور اسکے منہ سے رال بھی ٹپکتی تھی۔اسنے بتایا تھا کہ اسکا علاج علاقے کے ایک بظاہر شریف نظر آنے والے شخص نے کرایا تھا۔ اسکے علاج پر اس وقت کے لحاظ سے کافی خرچ آیا تھا۔ چونکہ علاج کے بعد اسکی ظاہری حالت ایسی ہو گئی تھی کہ اب وہ کوئی کام کاج نہ کر سکتا تھاتو اس شخص نے کوئی دو تین مہینے تک اسکا بوجھ برداشت کیا۔ اسکو اپنے دوکمرے والے مکان میں جگہ دی۔ لیکن ایک دن کہنے لگا کہ اسکے پا س کوئی حرام کے پیسے نہیں ہیں جو وہ اس پر لٹاتا رہے۔رحمت نے اس شخص سے کہا کہ اسکی حالت سے تو وہ واقف ہی ہے کہ وہ کچھ کر بھی تو نہیں سکتا اور نہ ہی اسکا آگے پیچھے کوئی ہے۔تو اس شخص نے جس کا نام پرویز تھا ، اصلیت دکھا دی۔کہنے لگا کہ پھر اسکا تو ایک ہی حل ہے کہ وہ بھیک مانگے کہ اسکی ظاہری حالت دیکھ کر ہی لوگ اس پر ترس کھائیںگے اور اسکو بہت بھیک ملے گی۔ خود بھی کمائے ، کھائے اور اسکو بھی کھلائے۔رحمت کے بقول اسنے بہت سوچا لیکن کوئی اور راستہ نظر نہ آیا۔ مجبوراً اسکو یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ آج اس دشت کی سیاہی میں اسکو دس سال ہو گئے تھے۔
    اس شخص کے متعلق جو سائیکل کو آخری لمحے میں گھر کے اندر لے جاتا تھا رحمت نے بتایاکہ اسکا نام سلیم تھا اور وہ پرویز کا تنخواہ دار تھا۔جسکی ذمہ داری تھی کہ وہ رحمت پر اور اور جیسے مزید پانچ افراد پر نظر رکھے کہ کہیں وہ بھاگ نہ جائیں۔ میں یہ سن کر بہت حیران ہوا تھا۔ میںنے رحمت سے پوچھا کہ پانچ افراد کون ہیں اور کہاں ہیں؟ رحمت نے کہا کہ پرویز نے نے جانے کہاں کہاں سے ایسے افراد ڈھونڈ کر لائے ہیں جو ایک تو معذور ہوں اور دوسرا انکا کوئی والی وارث نہ ہو۔پرویز ان سب سے بھیک منگواتا تھا۔سلیم جیسے اس نے تین چار اور بندے ملازم رکھے ہوئے تھے جنکا کام رحمت اور دوسرے بھکاریوں پر نظر رکھنا ہوتا تھا۔میرے پوچھنے پر کہ سلیم تو کبھی بھی اسکے قریب نظر نہیں آیا تو رحمت نے جواب دیا کہ وہ قریب ضرور ہوتا تھا لیکن ہمیشہ کسی نہ کسی آڑ میں بیٹھا ہوتا تھا کہ کسی کو علم نہ ہو سکے کہ اسکا رحمت سے کوئی تعلق واسطہ ہے۔
    ایک دن رحمت نے بڑے کرب سے بتایا کہ اس پرویز جیسے نجانے کتنے لوگ اس ملک میں اپنے گھناﺅنے پنجے پھیلائے ہوئے ہیں۔جو ننھے معصوم بچوں سے لیکر ساٹھ ستر سال کے بوڑھوں تک سے مختلف طریقوں سے بھیک منگواتے ہیں۔اور خود ٹھاٹھ سے رہتے ہیں۔ رحمت نے پرویز کے متعلق بتایا کہ پرویز کبھی جو دو کمروں کے مکان میں رہتا تھا آج اسکا ایک کنال پر مشتمل شہر کے پوش علاقے میں ایک تین منزلہ بنگلہ ہے۔دس دس مرلہ کے دو گھر اور کوئی سات آٹھ دکانیں کرائے پر اٹھائی ہوئی ہیں۔اور یہ سب کچھ اس نے ہمارے بھیک میں مانگے ہوئے پیسوں سے بنایا ہے۔
    اس طرح کی اور بھی بہت سی باتیں رحمت نے بتائی تھی۔ جب میں نے ہوش سنبھالا ۔ کسی کو کچھ سمجھانے کے قابل ہوا تو جب کسی بھکاری کو دیکھا تو رحمت ایک دفعہ ضرور یاد آیا۔یاد اسلیے کہ انٹر کرنے کے بعد ہم نے وہ شہر چھوڑ دیا تھا اور اپنے آبائی شہر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔میںنے اکثر اوقات لوگوں سے بھکاریوں کے متعلق باتیں کیں۔ انھیں اپنے تجربے سے آگاہ کیا۔ لیکن کبھی کسی نے میری ایک نہ سنی۔بلکہ جواب میں صرف یہ ہی کہا کہ بھائی یہ لوگ بھی خدا کی طرف سے ایک امتحان ہیں۔ میں بھکاریوں تک سے باتیں کرتا رہا بلکہ اب بھی کبھی کبھی موقع ملے تو ضرور کرتا ہوں۔اکثر یہ محسوس ہوتا تھا کہ کچھ بھکاری بات کرتے کرتے ادھر ادھر ضرور دیکھتے تھے۔ بلکہ چند ایک تو بات کرتے کرتے اچانک بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ تو تب رحمت کی بات یاد آتی تھی کہ وہ خود اپنی خوشی سے یا مرضی سے بھیک نہیں مانگتے تھے بلکہ ان سے بھیک منگوائی جاتی تھی۔

    سوال یہ ہے کہ اگر عام عوام اس بات سے واقف نہیں تو پھر تو ٹھیک ہے لیکن ان کو اس بات کا علم ہے تو پھر وہ انھیں بھیک کیوں دیتے ہیں۔ وہ اس سماجی بیماری کا کوئی مستقل حل کیوں نہیں نکالتے۔وہ کیوں ووٹ مانگنے والوں کو نہیں کہتے کہ پہلے شہر کے رﺅسا کو غریب کرو جو بھیک کے پیسوں سے امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں پھر ووٹ مانگو۔لیکن نہیں۔ کیونکہ جب کتی (+++++) ہی چوروں سے ملی ہوئی ہو تو اللہ ہی مالک ہے۔ حکمران پرویز جیسے لوگوں کو کیفر کردار تک کیوں نہیںپہنچا سکتے۔ ان زبردستی کے بھکاریوںکے لیے کوئی دارلکفالہ قسم کا ادارہ کیوںنہیں بنایا جاتا جہاں بڑوں کو مخلتف ہننر سکھائے جا سکتے ہیں ، انکے ہننر کو استعمال کر کے انکے بنائی ہوئی اشیاءکو بازار میں فروخت کیا جا سکتا ہے اور آمدنی کا ایک حصہ انکے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکتا ہے۔کتنی ہی بڑی عمر کے بھکاری ایسے ہوتے ہیںجو پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ وہ بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو مختلف قسم کے فنون سکھائے جا سکتے ہیں۔ تا کہ کل جب وہ میدان عمل میںنکلیں تو اگر وہ سرکاری ملازمت نہ حاصل کر سکیں تو کم از کم محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال سکیں۔مخیر حضرات بھی یہ کار خیر انجان دے سکتے ہیں۔ زیادہ نہیںاگر ہر امیر آدمی صرف ایک ایک بھکاری چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا کے سر پر ہاتھ رکھ دے تو معاشرہ اس لعنت سے انتہائی قلیل عرصے میں پاک ہو سکتا ہے۔دنیا میں بھی انہیں کامیابی ہی نصیب ہو گی اور آخرت میں تو ہے ہی۔
    Mhbt zps0200a907 - بھکاری
    123 - بھکاری

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: بھکاری

    bohat umda tehreer likhi hai aisa b hota hai is duniya
    is samaaji bimari ka koi hal nahi nikaltay to wajah iski yehi hai ap ko hum ko sab ko mil k jidojehad karna hogi
    umda likha ap ne

    eq2hdk - بھکاری

  3. #3
    Cute PaRi's Avatar
    Cute PaRi is offline ♥Häppïnëss ïs Süċċëss♥
    Join Date
    Sep 2012
    Location
    ♥ündër möthër's fëët♥
    Posts
    9,560
    Mentioned
    132 Post(s)
    Tagged
    9855 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    1533321

    Default Re: بھکاری

    acha likha

    paspayi2 zps86d6ac40 - بھکاری

  4. #4
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default Re: بھکاری

    uff kitnay buray hotay hain log,pata nai kaisey itnay buray ban jatay hain,ALLAH aisey logon se har aik ko bacha k rakhay
    ap ne bohaat khubsurati se aik aham cheez ko tehreer kia hay,ye aik beemari hay jo buri tarah phaili hui hay
    suno hworiginal - بھکاری
    575280tvjrzkx7ho zps19409030 - بھکاریღ∞ ι ωιll αlωαуѕ ¢нσσѕє уσυ ∞ღ 575280tvjrzkx7ho zps19409030 - بھکاری

  5. #5
    Join Date
    Feb 2012
    Location
    in ppls heart ♥
    Posts
    1,711
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    14 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    7

    Default Re: بھکاری

    very nice

  6. #6
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Lost...
    Posts
    17,151
    Mentioned
    135 Post(s)
    Tagged
    11596 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    3865501

    Default Re: بھکاری

    tehreer
    Teri ankhon uworiginal - بھکاری

  7. #7
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Karachi,Pakistan
    Posts
    11,803
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474855

    Default Re: بھکاری

    i appreciated.. acha likha hai.. maushrey ke rawaiyon ke barey mein aur roop badalti haqeeqat ke barey mein...

    magar saath saath mein yeh bhi kahongi.. bhikarion ke itney roop hain ke un per ab koi believe nhi karta ke shayad waqi halaalt , pareshaniyaan ,majbooriyaan hain jo unhein bheek mangne par majboor krti hain...un bhikarion ki chaalbaazion ki waja se jo masoom afraad is peshe se wabasta hain unko bhi is waja se buhut kuch jhelna parta hai..

    again acha likha hai..
    Alhamdullilah

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •