غزہ ميں جاری تشدد اور امريکی موقف


محترم قارئين
السلام عليکم

میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت خطے میں کسی بھی اسٹیک ہولڈر کیطرف سے انکی کسی بھی کارروائی کو کنٹرول نہیں کرتی ۔ مزید برآں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اوباما نے کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر تمام فريقين پر زور ديا ہے اور امریکی وزیر خارجہ اس بحران کو حل کرنے ميں مدد کے لئے عنقريب خطے ميں جانی والی ہے۔

ميں معزز قارئين کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت اور سینئر عہدیداروں نے کئی دہائیوں سے ان مسائل کے جامع حل کی طرف تعاون پر مبنی ایک سیاسی عمل کے لئے ہميشہ کوششيں کرتے رہے ہيں۔ اس مقصد کے حصول کيلۓ امريکی ظاہری عزم اورکی گئی کوششيں دنیا سے چھپے ہوۓ نہیں ہیں۔ تاہم امريکی حکومت اس بات پر پختہ يقين رکھتی ہے کہ يہ ذمہ داری فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی ہی ہے کہ وہ باہمی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کيلۓ کوشش کريں۔

مزید برآں، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کيلۓ امریکی حکومت نے اقتصادی اور انسانی امداد میں اربوں ڈالر فراہم کيۓ ہيں۔ خطے میں ہمارے کۓ گۓ اقدامات فلسطین کے لوگوں کے ساتھ ہمارے طویل مدتی عزم کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکہ نے ہميشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی حمایت کرتے رہے ہيں جو لڑائی کے ادوار کے دوران فوری طور پر،پائیدار اور مکمل طور پر قابل احترام جنگ بندی کے لئے ایک جامع امن معاہدے کی حمایت کو يقينی بناتے ہيں۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu