Results 1 to 2 of 2

Thread: Tabdeeli Insan Ke Andar Paida Hoti Hai

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Tabdeeli Insan Ke Andar Paida Hoti Hai

    تبدیلی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے


    یہ ایک مشہور جرمن فلاسفر کے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ ہے جو اپنے ہمسائے کے مرغے کے شور و غل سے بہت تنگ تھا۔ جب بھی یہ مرغا شور مچاتا اس کی ساری سوچیں درہم برہم ہو کر رہ جاتیں اور اس کے تحقیقی کاموں میں خلل پڑتا۔ ایک دن جب اس فلسفی کا اس شور و غل سے جینا تک محال ہو گیا تو اس نے اپنے ملازم کو کچھ پیسے دیکر بھیجا کہ جا کر ہمسائے سے یہ مرغا ہی خرید لے اور اسے ذبح کرکے پکائے تاکہ وہ ناصرف کہ اس ساری کوفت کا بدلہ مرغے کے لذیذ گوشت کو کھا کر لے سکے بلکہ مرغے کے شور و غل سے بھی نجات پا سکے۔


    اُس دوپہر کو اس فلسفی نے اپنے ایک عزیز دوست کو بھی اپنے گھر دعوت پر بلا لیا تاکہ دونوں مل کر مزیدار کھانا کھائیں۔ دوست کے آنے پر اس فلسفی نے بتانا شروع کیا کس طرح ہمسائے کے مرغے نے اس کا جینا محال کر رکھا تھا۔ جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ آج وہ مرغا ہی خرید کر پکا لیا ہے۔ گزرے تو محض چند ہی گھنٹے ہیں مگر وہ بہت ہی سکون اور راحت محسوس کر رہا ہے۔ بلکہ آج صبح سے تو اس نے اپنے تحقیقاتی کاموں پر جس توجہ سے کام کیا ہے وہ توجہ مہینوں سے حاصل نہیں ہو پا رہی تھی، گویا اس نے آج صبح سے کئی مہینوں کے برابر کا کام کیا ہے۔
    ابھی فلسفی اور اسکا دوست بیٹھے یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ملازم کھانا اُٹھائے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور فلسفی سے بولا، جناب والا، میں بہت معذرت خواہ ہوں کہ میں نے آج صبح ہمسائے سے مرغا خریدنے کی بہت کوشش کی مگر وہ بیچنے پر آمادہ ہی نہیں ہوا، اس لیئے میں نے بازار سے جا کر اور مرغا خریدا اور آپ لوگوں کیلئے پکا یا ہے۔

    فلسفی نے حیرت سے اپنے ملازم کی باتیں سنیں اور غور کیا تو واقعی ہمسایوں کا مرغا تو اب بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اذانیں دے رہا تھا۔
    شیخ طنطاوی رحمۃ اللہ علیہ اس قصے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: میں نے جب اس فلسفی کے معاملہ پر غور کیا تو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ، یہ شخص اس مرغے سے بہت پریشان تھا کیونکہ یہ بہت شور مچاتا تھا، اور پھر یکا یک ہی یہ شخص بہت خوش بھی ہوگیا حالانکہ یہ مرغا تو ابھی تک زندہ تھا اور حالات و واقعات میں کوئی تبدیلی پیش نہیں آئی تھی۔ گویا تبدیلی خود انسان کے اپنے اندر پیدا ہوا کرتی ہے۔ یہ انسان کی اندرونی کیفیت ہی تھی جس نے اس فلسفی کو اس مرغے سے پریشان کر رکھا تھا اور پھر یہی انسانی اندرونی کیفیت ہی تھی جس نے اُسے خوش کر دیا تھا۔ اگر یہ خوشی خود ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہی ہے تو کیوں ہم اسے دوسروں سے مانگتے پھرتے ہیں۔ اور اگر یہ خوشی اتنی ہی قریب ہوتی ہے تو پھر ہم کیوں اسے اپنے آپ سے دور کر رہے ہوتے ہیں؟
    ہم مرغے کو صرف اس لیئے ذبح کر ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے شور سے راحت پا سکیں۔ اگر اس مرغے کے ذبح ہونے کے بعد اس کی جگہ ایک سو اور مرغے آ گئے تو پھر ہم کیا کریں گے، کیونکہ یہ دنیا ایک آدھ سے نہیں ایسے کروڑوں مرغوں سے بھری پڑی ہے۔

    کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہم صرف اسی ایک مرغے کو ہی اپنے دماغ سے اتار پھینکیں کیونکہ ہم زمین پر موجود سارے مرغوں کو تو کرہ ارض سے باہر پھینکنے سے رہے۔ اگر ہم سارے مرغوں کے منہ بند کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو اپنے کانوں کو بند کر لینے کی عادت کیوں نہیں ڈال لیتے؟ ہم اپنے احساسات کو نا پسندیدہ عناصر سے متاثر ہونے سے عاری کیوں نہیں کر لیتے؟ ہم اپنے گرد ایک غیر مرئی سی دیوار ہی کیوں نہیں کھڑی کر لیتے جو ہمیں ہمارے نا پسندیدہ محسوسات کے ہاتھوں زخم آلود ہونے سے بچاتی رہے؟

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Tabdeeli Insan Ke Andar Paida Hoti Hai

    nyc





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •