اپنا گھر خود ہی ویرانتا رہتا ہوں
یعنی میں دشمن کی مانتا رہتا ہوں

مدت بعد جو مل جاتا ہے رستے میں
دیر تلک اس کو پہچانتا رہتا ہوں

اس کے آنے کی امید نہیں کوئی
پھر بھی اس کو امکانتا رہتا ہوں


آتا جاتا کوئی نہیں اجڑے گھر میں
خود کو ہی اکثر مہمانتا رہتا ہوں

ختم نہیں ہونے کا میرا کام کبھی
ریت کہاں، میں پانی چھانتا رہتا ہوں

وہ بھی مجھ پر اپنے سب غم وارتا ہے
میں بھی اس پر جاں قربانتا رہتا ہوں

خوب چمکتا ہے یہ کاروبار مرا
میں اچھا خاصا نقصانتا رہتا ہوں

جانے دیتا ہوں پہلے خود ہی اس کو
پھر اس کو نامی ارمانتا رہتا ہوں.