Results 1 to 3 of 3

Thread: ہم کبھی شہرِ محبت جو بسانے لگ جائیں

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel ہم کبھی شہرِ محبت جو بسانے لگ جائیں

    ہم کبھی شہرِ محبت جو بسانے لگ جائیں
    کبھی طوفان کبھی زلزلے آنے لگ جائیں

    کبھی اک لمحہء فرصت جو میسر آ جائے
    میری سوچیں مجھے سولی پہ چڑھانے لگ جائیں

    رات کا رنگ کبھی اور بھی گہرا ہو جائے
    کبھی آثار سحر کے نظر آنے لگ جائیں

    انتظار اس کا نہ اتنا بھی زیادہ کرنا
    کیا خبر برف پگھلنے میں زمانے لگ جائیں

    آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں تجھے دن میں ہم لوگ
    شب کو کاغذ پہ ترا چہرہ بنانے لگ جائیں

    ہم لکھاری بھی عجب ہیں کہ بیاضِ دل پر
    خود ہی اک نام لکھیں+خود ہی مٹانے لگ جائیں

    گھر میں بیٹھوں تو اندھیرے مجھے نوچیں بیدل
    باہر آؤں تو اجالے مجھے کھانے لگ جائیں


    ღ•๋● " TαnHA.D!L " ●๋•ღ


  2. #2
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: ہم کبھی شہرِ محبت جو بسانے لگ جائیں

    umdaa

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default Re: ہم کبھی شہرِ محبت جو بسانے لگ جائیں

    aap sabki muhabbt aur pazirai ka bht bht shukriya

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •