“کسی کو پسند کر لینے سے آگے دل میں کیا چیز پیدا ہوتی ہے؟” جویریہ نے خاموش مجمع کے سامنے اپنے سوال کو سادہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔
“تجس” کرن نے کہیں سے جواب نہ آنے پر سینڈوچ کا آخری ٹکڑا ختم کرنے کے بعد گردن گھما کر جواب دیا۔
جویریہ
نے مسکراتی نظروں سے اپنے گروپ کی طرف دیکھا۔
“اور تجس کس جزبے کو ابھارتا ہے؟” اس نے سوال کیا۔
“شوق کو۔” کرن نے ٹشو پیپر سے ہاتھ پونچتھے ہوئے کہا۔
“شوق کس چیز کو جنم دتیا ہے؟” جویریہ نے سوال کیا۔
“ارادے کو۔” کرن نے گرم چائے کا پہلا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔
“ارادے سے آگے کیا ہوتا ہے؟” جویریہ نے سوالات کا سلسلہ دراز کیا۔ اب وہاں موجود سب لوگ ان دونوں کی جانب متوجہ ہو چکے تھے۔
“غالبا محبت۔” کرن نے دوسرا گھونٹ لینے کے بعد کہا۔
“محبت۔” جویریہ نے چونک کر کہا۔
“It has come late isn’t it”
مگر کرن کی بے نیازی دیکھ کر اس نے نیا سوال کیا، محبت کے بعد کیا ہوتا ہے؟”
“Lust” کرن نے چائے کا چوتھا گھونٹ لیتے ہوئے سکون سے کہا۔
“Lust” اس بار وہ سب ہی چونکے۔
“اوئے۔” جویریہ نے بھی چونک جانے کے بعد سنبھل کر کہا۔ “Lust سے آگے کیا ہوتا ہے؟” اب سب پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھے۔
“گناہ۔” کرن کو اب اس سوال جواب میں مزا آنے لگا تھا۔
“گناہ سے آگے کیا ہے؟” جویریہ نے ایک متوقع سوال کیا۔
“اذیت۔” کرن نے اس کا جواب پہلے سے ذہن میں سوچا ہوا تھا۔
“اور اذیت کس چیز کو جنم دیتی ہے؟” اب کی بار جویریہ کی بجائے سینئرز کے گروپ سے اسد نے پوچھا تھا اس کے لہجے میں اپنے سوال کا جواب جان لینے کی بے قراری تھی۔
“آزمائش۔” کرن اس سوال کا جواب بھی پہلے سے سوچ چکی تھی۔
“آزمائش کیا لاتی ہے؟” جویریہ نے سوال کرنے میں جلدی کی۔
“حساب۔”
“اف۔” جویریہ کو اس سوال کا جواب غیر متوقع لگا۔ “حساب سے آگے کیا ہے؟”
“Destination” جسے مقدر بھی کہہ سکتے ہیں۔” کرن کے کپ میں چائے کا ایک گھونٹ باقی رہ گیا تھا۔
“اس Destination سے آگے؟” جویریہ کو گو جواب نہیں آیا سمجھ میں۔
“اس سے آگے کچھ نہیں۔ یا تو بہت روشنی ہے یا بہت اندھیرا ہے۔” کرن نے آخری گھونٹ بھرتے ہوئے جواب دیا۔
“اس کیفیت سے آگے بھی کچھ یے؟” اسد نے بے صبری سے سوال کیا۔
“اس سے آگے تقدیر کی آخری حد ہے۔” کرن نے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا۔
(اقتباس: عنیزہ سید کے ناول "شبِ آرزو کا عالم" سے)