Results 1 to 3 of 3

Thread: Budha_Az Ahmed Nadeem Qasmi

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Budha_Az Ahmed Nadeem Qasmi



    بڈھا ۔۔۔از احمد ندیم قاسمی



    جب منڈيروں پر پھدکتي ہوئي چڑياں ايک دم بھرر سے فضا ميں ابھرا جاتيں اور کھرليوں کے قريب گٹھڑياں بنے ہوئے بچھڑۓ اپنے لمبے لمبے کانوں کے آخري سرے ملا کر محرابيں سي بنا ليتے تو جھکي ہوئي ديواروں کے سائے ميں بيٹھے ہوئے کسان مسکراتے اور خشک تمباکو کو ہتھيليوں سے ملتے ہوئے يا کھيس کے دھاگوں ميں بل ڈالتے ہوئے کہتے، بابا عمرو کھانسا ہے۔
    بابا عمرو کي کھانسي بہت گونجيلي تھي، يوں معلوم ہوتا تھا جيسے تانبے سے بنے ہوئے کنوئيں ميں يکبار چند پتھر گر پڑے ہيں۔۔۔۔۔وہ اپنے جھونپڑے کي چوکھٹ پر بيٹھا بکريوں کے بال بٹتا رہتا اور جب کھانستا تو پسليوں کو دنوں ہاتھوں سے جکڑ ليتا، اس زور سے تھوکتا کہ اس کي مونچھوں کے جيھکے ہوئے بال لوہے کے تنے ہوئے تار بن جاتے، خربوزے کے مرجھائے ہوئے چھلکوں کے گالوں پر چھريوں کا جال سا تنا جاتا، اور جھکي ہوئي بھوسلي بھووں کے نيچے سے ندي کنارے کے گول کنکروں کي سي آنکھوں پرپاني کي پتلي سي لہر تير جاتي، پڑوسن کے بچے تالياں بجاتے اور چلاتے، بابا عمرو کھانسا ہے۔۔۔۔۔۔بابا عمرو کے کانوں ميں ان چيخوں کي بھنک پڑجاتي تو بکريوں کے گولے پر بے تابانہ انگلياں پھيرتا، رسي ميں اتنے بل ڈالتا کہ وہ تن کہ ٹيڑھي ہوجاتي اور پھر پاس ہي بيٹھي ہوئي بلي کو گردن سے پکڑ کر اپني جھولي ميں بٹھا ليتا اور کہتا بابا عمرو کيا کھانسا، مداري نے پٹارے سے ڈھکنا ہٹا ديا، چھچھوندر کہيں کے ديکھوں گا ميري عمر کو پہنچ کر کيسے نہيں کھانستے، ميں بھي تو جب جواني ميں کھانستا تھا تو ايسا لگتا تھا جيسا کوئي طبلہ بجا رہا ہے
    اچانک پڑوس کي ايک لڑکي لپک کر گھر سے نکلتي اور جب بابا عمرو کو اپنے آپ سے سرگوشياں کرتے ديکھتي تو آگے بڑھ کر کہتي، بابا عمرو ميں آ گئي
    بابا عمرو چونک اٹھتا اور پھر اس کے لبوں پر ايسي جناتي مسکراہٹ نمودار ہونے لگتي جيسے ٹوٹے پھوٹے قبرستان ميں چاندني، کہتا ميں جانتا تھا ميري وليتو آئے گي، تو اتني دير تک کيا کرتي رہي وليتو بيٹا؟
    ہمارے گھر چاول پکے ہيں، نھني وليتو تالي بجا کر کہتي، ميٹھے چاول ۔۔۔۔۔۔۔لے آئوں تمہارے لئے بابا عمرو؟ہيں بابا عمرو؟
    چاول قابض ہوتے ہيں، وہ ہونٹ سيکٹر کر کہتا اور جب لڑکي کے صاف چہرے پر انکار کے صدمے کا احساس شفق کي پھوار سي چھڑک ديتا تو وہ انداز گفتگو بدل کر کہتا، پر وليتو تيري خاطر مٹھي بھر کھا لوں گا ميں بھي، وليتو بچي کا جي برا کروں، تو کہا جاؤںميں بڈھا کھوسٹ؟

    نھنی وليتو اچھلتي کودتي اپنے گھر ميں گھس جاتي، گھڑۓ کے ڈھکنے پر مونگ کي گھنگھنياں ڈالے پلٹتي اور بابا عمرو کے سامنے گھٹنوں پر ٹھوڑي رکھے بانہوں کو پنڈليوں پر لپيٹے بيٹھ جاتي، بابا عمرو چاولوں کے تصور کو منگ ميں بدلتے ديکھ کر يوں ہنستا جيسے نيا نيا رہٹ رک رک کر چل رہا ہو اور پھر اس کے قہقہے گونجيل کھانسي ميں تبديل ہوجاتے، پسليوں کو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر سامنے پڑوسي کي ديوار پر چٹاخ سے تھوک کر کہتا، يہ چاول کہاں سے آئے نھنو؟
    کرپالو کي دکان سے، ولیتو پلکيں جھپکا کر مسکراتي۔
    اور بابا عمرو کہتا ميں سمجھا وليتو نے ولايت سے چاول منگائے ہيں۔۔۔۔۔
    گاؤں بھر ميں مشہور تھا کہ بابا عمرو کا دل بھٹيارن کے توے کي طرح کالا ہے، اس بڈھے نے کسي سے محبت نہيں کي، يہ دوزخي ہے دوزخي !

    بابا عمرو نے محنت مزدوري کرکے جواني گزاري ، ادھيڑ عمر ميں شادي کي، چار مہنيوں کے بعد بيوي دق ميں مبتلا ہوگئي اور جب مري تو بابا عمرو کو خدا کا شکر ادا کرتے سنا گيا کہتے ہيں بيوي کو دفنا کر جب وہ گائوں ميں آيا تو سيدھا مسجد ميں جا گھسا اور شکرانے کے نفل ادا کئے اور ہاتھ اٹھا کر بلند آواز ميں دعا کي، ميرے اللہ تو بڑا پروردگار ہے اس لئيے شکايت فضول ہے، تو جو کرتا ہے، اچھا کرتا ہے، تيري مرضي يہي تھي، تو ميں کون ہوتا ہوں ناک بھوں چڑھانے والا، شکر ہے تيرا، شکر ہے، شکر ہے!!!
    مولوي جي نے نماز جنازہ کے رپوں کو جيب ميں ٹٹول کر کہا اسے کہتے ہيں توکل !!!
    اور کسان جو توکل کا مطلب نہيں جانتے تھے بولئے، "دل ہي کوئلہ ہوگيا کم بخت کا، کچھ آنچ ہوتي اس ميں تو جواني ميں بياہ کر ليتا، اب تک بچے جوان ہوتے، وہ کماتے يہ کھاتا اور اللہ کا نام جپتا، بے وقوف ہے، سودائي ہے، سڑي ہے، بھوت کا سايہ ہے بے چارے پر!"
    بابا عمرو نے زندگي بھر ميں تين چيزوں سے محبت کي، خدا سے، نھني وليتو سے اور بوڑھي بلي شکري سے، جواني ميں ايک لڑکي سے انس پيدا ہوا تھا، کہ وہ پرديس بياہ دي گئي اور محبت کي نوميدہ کلي بابا عمرو کے دل ميں گھٹ کر مرجھائي اور خاکستر بن کر رہ گئي۔
    کبھي کبھي مسجد کي ديواريں ليپ آتا، گليوں سے کنکر ہٹاتا رہتا، مسافروں کيلئے گھر گھر سے روٹي مانگتا، گائوں کي معاشرتي زندگي ميں اس کا صرف يہي دخل تھا کہ کوئي مرے تو جنازے کو کاندھا دے دے، کوئي بياہا جائے تو دعائے خير ميں شريک ہو کر مٹھي بھر تل اور شکر لے نھنے بچوں ميں بانٹ دے، گائوں کا کنواں صاف کيا جائے تو جگت پر آ کر بيٹھ جائے،رسي بٹتا رہے اور گنگناتا رہے، لا الہ اللہ۔ لا الہ اللہ۔ اسے نہ سرما کي راتوں ميں چوپال کي محفليں لبھا سکتي تھيں، نہ ساون کے دنوں ميں کھليانوں کي سنگيت سبھائيں، اس کي کھانسي گائوں والوں کو اس کے وجود سے منکر نہ ہونے ديتي تھي ورنہ وہ گائوں ميں رہ کر بھي گائوں ميں نہ تھا۔

    جب رات کا اندھيرا اپنے پوربي آنچل کو پوکے چشمے ميں بگھو ليتا اور کائنات کي نيندوں ميں انگڑائياں کنمنانے لگتيں، تو بابا عمرو آنکھيں کھولتا اور ديمک خوردہ دروازے کے رخنوں ميں دھندلے اجالوں کو مسکراتا ديکھتا تو آدھے گنجے سر پر ہاتھ پھير کے کلمہ پڑھتا، خرخراتي شکري کو بغل سے نکال کر پائنتي پر بٹھا ديتا، کونے ميں ايک گھڑے سے کوزہ بھرتا، وضو کرتا اور نماز پڑھتا، وہ کہا کرتا تھا، صبح کي نماز پڑھي تو سمجھو اللہ کي نگري ميں داخل ہوگئے، دوسري نمازوں کي توفيق ہو تو پڑھو، پر ہميں تو اللہ کي نگري کا ايک کونہ چاہئے، جيسے يہاں رہے ويسے وہاں بھي کہيں سمٹے پڑے رہيں گے بس صبح کي نماز قضا نہ ہو۔

    جب شفق کا سيلاب مدھم پڑجاتا اور منڈيريوں اور پيڑوں پر چڑياں چراچراتيں تو وہ کمر پر ہاتھ باندھے قريب کے کھيتوں ميں گھومنے نکل جاتا، کبھي کبھي شکري بھي اس کے ساتھ ہو ليتي، مينڈوں کے سوراخوں کو سونگھتي، نرم نرم گھاس پر لوٹتي اور پھر بابا عمرو کے پائوں سے لپٹ کر اس کے ٹخنوں سے اپنے ريشميں پنجے رگڑتي، بابا عمرو مسکرا کر کہتا، ہٹ جا شکري !۔۔۔۔۔۔۔۔اور جب شکري لپک کر کھيت کے پرلے پر پہنچتي اور لمبي تھر تھراتي مياؤں کرتي، تو بابا عمرو ہنس کر کہتا، شرير!
    واپس آ کر آٹا گوندھتا، روٹي پکاتا اور پياز، گڑيا وليتو کے ہاں کي دال سے کھانا کھاتا، پچھلي کمائي ميں سے کبھي کبھي ايک پيسہ نکالتا اور کرپالو کي دکان سے شکر بھي لے آتا، کھانے سے فارغ ہو کر رسياں بٹتا، فضا ميں تيرتي ہوئي ابابيلوں کو ديکھتا جو دور سے نھني مني قوسيں سي معلوم ہوتيں، رسي بٹتے بٹتے تھک جاتا تو
    شکري کوگود ميں بٹھا ليتا، گردن سے چمٹا ليتا، اس کے چاروں پنجے ہتھيلي پر جما کر اسے نچاتا اور پھر اس کي نيلي آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر گاڑ کر کہتا۔


    شکري تو بچي کچي شکر چاٹتے چاٹتے شرير ہوگئي ہے، ميائوں کرتي ہے؟ مسمي کہيں کي،ديکھ چڑياں نہ کھايا کر، ميں نے ديکھا ہے کہ جس روز تو نے چڑيا کھائي تجھے بد ہضمي ضرور ہوئي ہے، ميرے ساتھ ايک دو لقمے زہر مار کرليا اور اللہ اللہ کيا کر، سمجھي؟۔۔۔۔۔۔۔۔شکري آنکھوں کو نيم وا کرکے ايک بہت لمبي ميائوں کرتي اور اپنا جسم بابا عمرو کے مرجھائے ہوئے بازو سے رگڑتي، بابا عمرو خوش ہو کر ہنستا اور کھانستا نيا نيا رہٹ رک رک کر چلنے لگتا، تنابے کے کنوئيں ميں پتھر لڑھکنے لگتے، وليتو آنکلتي تو اس سے عجيب عجيب باتيں کرتا، نھنو تو نے مجھے را کے بار ياد کيا؟
    وليتو اسکےگھٹنہ پر ٹھوڑي ٹيک کر کہتي، دس بار، بيس بار، چار بار۔
    وہ ہنستا تو وليتو کہتي بابا عمرو ميں نے نئي گڑيا بنائي ہے، دکھائوں؟
    بابا عمرو ميري نئي گڑيا ہے نا؟وہ بولتي ہے، نا بابا عمرو وہ کہتي ہے بابا عمرو بڑا اچھا بابا عمرو ہے۔
    ٹھيک کہتي ہے، تمہاري گڑيا، بابا عمروکہتا، بابا عمرو سچ مچ بہت ہي اچھا بابا عمروہے، پر تو خود کيا سمجھتي ہے بابا عمرو کو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔بتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ب ابا عمرو کيسا ہے؟
    بابا عمرو بابا عمرو ہے بس! وہ کچھ سوچ کر کہتي عيد کب آئے گي؟
    ہيں بابا عمرو؟
    بابا عمرو انگليوں پر حساب کرکے کہتا بس کوئي دس دن کم پانچ مہينے بعد
    اور نھني وليتو ہونٹ سکيڑ کر کہتي، کل کيوں نہيں آتي بابا عمرو؟ ہم تو کل عيد منائيں گے۔
    کيوں نہيں؟کيوں نہيں؟بابا عمرو رسي بٹنا بھول جاتا، ابھي کيوں نہ مناليں، ميں اس ٹہنے پر جھولا ڈال دوں گا تمہيں، تم گھر سے پکانا حلوہ۔
    بس بس کرتا سوجي حلوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم پينگ بڑھانا ميں حلوہ کھائوں گا۔
    ميں بھي کھائوں گي حلوہ بابا عمرو وليتو بابا عمرو کے کاندھوں پر اپني کہنياں ٹيک ديتي ہے۔
    بابا عمرو کہتا ہے، اچھا تو پينگ بڑھائوں گا اور اگر ميرے ہاتھ چھوٹ گئے تو جانتي کہا گروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حلوے پر۔۔۔۔۔۔۔
    وليتو چہکنے لگتي اور پھر اچانک سنجيدہ ہو کر کہتي، بابا عمرو۔۔۔۔۔۔۔۔نئے نئے کپڑے بھي ہوں گے،ہے نا؟
    ہاں۔
    اور گڑياں۔
    ہاں۔
    اور پٹاخے؟
    ہاں ہاں
    اور پھلجھڑياں؟
    ہاں ہاں پھلجڑياں بھي۔

  2. #2
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Jinzhou, Liaoning, China, Madinah Saudi Arabia
    Posts
    12,264
    Mentioned
    82 Post(s)
    Tagged
    7842 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    895521

    Default re: Budha_Az Ahmed Nadeem Qasmi

    buhut umdah !
    images?qtbnANd9GcSD7qCu5RmanJAqGaixYtC w47jXo28t NBgcZ q5Z33lher5Bl - Budha_Az Ahmed Nadeem Qasmi

    Rehney Dey Is Dard Mein Zindaa
    Main Tanhaa Hee Sahee . . .

  3. #3
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,905
    Mentioned
    213 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    V good

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •