Results 1 to 3 of 3

Thread: 'Qateel Shafai"

  1. #1
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,042
    Mentioned
    303 Post(s)
    Tagged
    207 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    wink 'Qateel Shafai"

    آج مشہور شاعر " قتیل شفائی " کا یوم ِ پیدائش ھے

    اصل نام : اورنگزیب خان
    قلمی نام : قتیل شفائی
    ولادت : 24 دسمبر 1919 ء
    وفات : 11 جولائی 2001 ء

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (24 دسمبر 1919ء - 11 جولائی 2001ء) پاکستان اردو شاعر تھے۔
    قتیل شفائی صوبہ خیبر پختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    کلام کی خصوصیات


    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں ایک صف اول کے ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے

    اعزازت

    تمغہ حسن کارکردگی 94ء ، آدم جی ایورڈ ، امیر خسرو ایورڈ ، نقوش ایورڈ ۔ نیز انڈیا کی مگھد یونیورستی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورستی کی دو طالبات نے ایم کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری

    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا ۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دئیے گئے۔

    تصانیف
    ہریالی
    گجر
    جلترنگ
    روزن
    جھومر
    مطربہ
    چھتنار
    گفتگو
    پیراہن
    آموختہ
    ابابیل
    برگد
    گھنگرو
    سمندر میں سیڑھی
    پھوار
    صنم
    پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)

    کلیات
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)

    نمونہ کلام


    مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
    اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم
    ٭
    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے
    ٭
    آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
    آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
    لاکھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل
    حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ۔۔
    ٭
    تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
    جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    چلو اچھا ہوا، کام آگئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے
    ٭

    وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کر زندہ رہوں خدا نہ کرے

    رہے گا ساتھ تیرا، پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات ہے زندگی میری وفا نہ کرے

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    اگر وفا پر بھروسہ رہے نہ دنیا کو
    تو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے

    سنا ہے محبت اس کو دعائیں دیتی ہے
    جو دل پہ چوٹ کھائے مگر گلہ نہ کرے

    بجھا دیا نصیبوں نے میرے پیار کا چاند
    کوئی دیا میری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے

    زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
    قتیل جان سے جائے یہ التجا نہ کرے
    ٭

    پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
    سکوتِ مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

    ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں
    ہمیں پر رات بھاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

    ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا
    یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

    تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا
    یہ بازی ہم نے ہاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

    کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دنیا سے
    یہ کیسی رازداری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

    ہمیں بھی نیند آجائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
    ٭

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں

    ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش
    بوند تک بو نہ سکے جو کبھی صحراؤں میں

    اے میرے ہمسفرو تم بھی تھکے ہارے ہو
    دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    جس برہمن نے کہا ہےکہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہو گا
    مسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    مجھ سے کرتے ہیں قتیلؔ اس لئے کچھ لوگ حسد
    کیوں مرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں
    ٭

    غمِ دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے
    تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے

    کسی کی یاد میں جو زندگی ہم نے گزاری ہے
    ہمیں وہ زندگی اپنی محبت سے بھی پیاری ہے

    وہ آئیں روبرو ہم داستاں اپنی سنائیں گے
    کچھ اپنا دل جلائیں گے کچھ ان کو آزمائیں گے

    سرِ محفل ہمیں تو شمع بن جانا بھی آتا ہے
    تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے

    دبے پاؤں ہمیں آ کر کسی کا گدگدا دینا
    وہ اپنا روٹھ جانا اور وہ ان کا منا لینا

    وہ منزل جھانکتی ہے آج بھی یادوں کی چلمن سے
    بھلا سکتا ہے کیسے کوئی وہ انداز بچپن کے

    ہمیں گزری ہوئی باتوں کو دہرانا بھی آتا ہے
    تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے

    ہمیں آتا نہیں ہے پیار میں بے آبرو ہونا
    سکھایا حسن کو ہم نے وفا میں سرخرو ہونا

    ہم اپنے خونِ دل سے زندگی کی مانگ بھر دیں گے
    یہ دل کیا چیز ہے ہم جان بھی قربان کر دیں گے

    خلافِ ضبطِ الفت ہم کو مر جانا بھی آتا ہے
    تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے
    ٭

    پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
    پھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے

    پہلے مزاجِ راہ گزر جان جائیے
    پھر گردِ راہ جو بھی کہے مان جائیے

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میری سنیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاس
    یہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے

    شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہو
    آنکھوں میں جھانک کر ہمیں پہچان جائیے
    ٭

    ہجر کی پہلی شام کے سائے دور افق تک چھائے تھے
    ہم جب اس کے سحر سے نکلے سب راستے ساتھ لائے تھے

    جانے وہ کیا سوچ رہا تھا اپنے دل میں ساری رات
    پیار کی باتیں کرتے کرتے اس کے نین بھر آئے تھے

    میرے اندر چلی تھی آندھی ٹھیک اسی دن پت جھڑ کی
    جس دن اپنے جوڑے میں اس نے کچھ پھول سجائے تھے

    اس نے کتنے پیار سے اپنا کفر دیا نذرانے میں
    ہم اپنے ایمان کا سودا جس سے کرنے آئے تھے

    کیسے جاتی میرے بدن سے بیتے لمحوں کی خوشبو
    خوابوں کی اس بستی میں کچھ پھول میرے ہمسائے تھے

    کیسا پیارا منظر تھا جب دیکھ کے اپنے ساتھی کو
    پیڑ پہ بیٹھی اک چڑیا نے اپنے پر پھیلائے تھے

    رخصت کے دن بھیگی آنکھوں اس کا وہ کہنا ہائے قتیل
    تم کو لوٹ ہی جانا تھا تو اس نگری کیوں آئے تھے
    ٭

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو
    بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں +کوئی نظر نہ آئے مجھے

    وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا
    جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں+کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    میں اپنی ذات میں نیلام ہورہا ہوں قتیل
    غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
    ٭

    گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

    خود نمائی تو نہیں شیوہء اربابِ وفا
    جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

    بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہم
    شعلہء عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
    ٭

    حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
    ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
    وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا

    اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے
    اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا

    انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی
    اتنا تو کبھی کوئی سخنور نہیں گرتا

    حیراں ہے کوئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی
    تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا

    اس بندہء خوددار پہ نبیوں کا ہے سایا
    جو بھوک میں بھی لقمہء تر پر نہیں گرتا

    کرنا ہے جو سر معرکہِ زیست تو سُن لے
    بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا

    قائم ہے قتیل اب یہ میرے سر کے ستوں پر
    بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا
    ٭

    ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہہ لیا کرو
    یارو سکوت ہی کو صدا کہہ لیا کرو

    خود کو فریب دو کہ نہ ہو تلخ زندگی
    ہر سنگ دل کو جانِ وفا کہہ لیا کرو

    گر چاہتے ہو خوش رہیں کچھ بندگانِ خاص
    جتنے صنم ہیں ان کو خدا کہہ لیا کرو

    یارو یہ دور ضعفِ بصارت کا دور ہے
    آندھی اُٹھے تو اِس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    انسان کا اگر قدوقامت نہ بڑھ سکے
    تم اِس کو نقصِ آب و ہوا کہہ لیا کرو

    اپنے لیے اب ایک ہی راہِ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    لے دے کے اب یہی ہے نشانِ ضیا قتیل
    جب دِل جلے تو اُس کو دیا کہہ لیا کرو
    ٭

    تھک گيا ميں کرتے کرتے ياد تجھ کو
    اب تجھے ميں ياد آنا چاہتا ہوں
    چھا رہا ہے ساري بستي ميں اندھيرا
    روشني کو، گھر جلانا چاہتا ہوں
    آخري ہچکي ترے زانو پہ آئے
    موت بھي ميں شاعرانہ چاہتا ہوں
    ٭

    زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
    میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

    !قتیل شفائی
    ٭

    Qateel Shifaai 'Bargad'.pdf
    (-: Bol Kay Lab Aazaad Hai'n Teray :-)


  2. #2
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Jinzhou, Liaoning, China, Madinah Saudi Arabia
    Posts
    12,264
    Mentioned
    82 Post(s)
    Tagged
    7842 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    895521

    Default re: 'Qateel Shafai"

    thanks for sharing bro !
    images?qtbnANd9GcSD7qCu5RmanJAqGaixYtC w47jXo28t NBgcZ q5Z33lher5Bl - 'Qateel Shafai"

    Rehney Dey Is Dard Mein Zindaa
    Main Tanhaa Hee Sahee . . .

  3. #3
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,042
    Mentioned
    303 Post(s)
    Tagged
    207 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default

    Shukriyaah :-)
    (-: Bol Kay Lab Aazaad Hai'n Teray :-)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •