Results 1 to 2 of 2

Thread: Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Mississauga, Canada
    Posts
    35,213
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Thumbs up Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

    قائداعظم شخصیت اور کردار

    1261 50645467 - Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

    شخصیت کردار سے بنتی ہے۔ قائداعظم نے اپنے عملی کردار سے ہی دنیا کی تاریخ میں عظیم مقام حاصل کیا۔ قائداعظم کی اپنے قومی مقصد کے ساتھ لگن اور وابستگی حیران کن تھی۔ ان کے جذبے اور عزم نے پاکستان کا معجزہ کردکھایا ۔ ان کی صحت کی خرابی ان کے عزم کو کمزور نہ کرسکی۔ ایک دفعہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی سے التجا کی کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور کام کے اوقات کم کردیں۔ قائداعظم نے جواب دیا۔ ’’کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ فوج میدان جنگ میں اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہو اور اس کے جرنیل نے چھٹی لے لی ہو۔‘‘ ''Have you ever heard of a General take a holiday, when his army is fighting for its very survival on a battlefield?" فاطمہ جناح نے اپنے بھائی سے کہا کہ آپ کی زندگی بڑی قیمتی ہے۔ قائد نے جواب دیا:۔ ’’جب میں دس کروڑ افراد کی بقا کے لیے تشویش میں مبتلا ہوں تو ایک فرد کی صحت کیا حیثیت رکھتی ہے۔‘‘ "What is the health of one individual, when I am concerned with the very existence of ten crore." قائداعظم کسی شخص سے غیرانسانی اور غیراخلاقی سلوک نہیں کرتے تھے۔ اگر ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا تو وہ معذرت کرلیتے۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنے سٹاف کو ڈانٹ دیا۔ مگر بعد میں اسے اپنے دفتر میں بلایا اور کہا:۔ ’’میں بوڑھا اور کمزور ہوں اور کبھی جذباتی ہوجاتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری بری عادت کو معاف کردو گے۔‘‘ "I am old and weak and sometimes I am impatient. I hope you will forgive my bad manners." 1934ء کے انتخابات میں حسین بالا جی نے بمبئی کی دونشستوں پر احمد جعفر اور قائداعظم کے مقابلے میں کاغذات نامزدگی داخل کرادیئے۔ بالا جی نے قائداعظم سے ملاقات کرکے پیش کش کی کہ وہ ان کے مقابلے سے دست بردار ہوکر ان کو بلامقابلہ منتخب ہونے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ مسلم لیگ احمد جعفر کو دوسری نشست پر کھڑانہ کرے۔ قائداعظم نے حسین بالا جی کو ڈانٹ دیا اور کہا ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میں اپنے ذاتی مفاد کے لئے تم سے سودے بازی کروں گا۔‘‘ قائداعظم نے احمدجعفر کو کہا ’’جب تم کسی سے وعدہ کرو تو سومرتبہ سوچو اور جب تم وعدہ کرولو تو پھر اسے پورا کرو۔‘‘ قائداعظم سپورٹس کی سرپرستی کرتے تھے۔ انہوں نے 1948ء میں کھلاڑیوں کو گارڈن پارٹی دی جس میں کابینہ کے وزیروں کو بھی شرکت کے لیے بلایا۔ مسٹر بیورے نکولس (Beverly Nichols)نے قائداعظم کی شخصیت کے بارے میں تحریر کیا: ’’جناح ایک وکیل، پارلیمنٹیرین ،سیاست دان ، ہندومسلم اتحاد کے سفیر، ماہر آئین اور قائداعظم، پاکستان کی سیاست کے بانی ومعمار ۔‘‘ "Jinnah the lawyer, the parliamentarian, the ambassador of Hindu-Muslim unity, the constitutionalist, finally the Quaid-i-azam, the architect and founder of the state of Pakistan." قائداعظم نے پاکستان کے کاز میں مصروفیت کی بناپر مقدمات لینے بند کردیئے ۔ ایک مقدمے میں ان کو دس لاکھ روپے فیس کی پیش کش کی گئی مگر انہوں نے مقدمہ نہ لیا۔ ان کے اے ڈی سی گل حسن نے بھاری فیس کی تصدیق کے لیے پوچھا تو قائداعظم نے کہا ’’فیس کی کوئی اہمیت نہیں بات اصول کی ہے۔‘‘ میں پورا وقت دے کر مقدمے سے انصاف نہیں کرسکتا تو فیس کیوں لوں۔ قائداعظم حساب کتاب میں پوری دلچسپی لیتے تھے۔ وہ بینک اور کمرشل اداروں کی سٹیٹمنٹ غور سے پڑھتے تھے۔ انہوں نے ٹاٹا سٹیل ملز میں سرمایہ کاری کررکھی تھی۔ اس کمپنی میں شیئرہولڈر کی حیثیت میں ان کا نام 26 ویںنمبر پر تھا۔ قائداعظم کھانے پینے کے معاملے میں بڑے محتاط تھے۔ وہ کم کھاتے تھے ۔ وہ شوربے کی بجائے خشک سالن زیادہ پسند کرتے۔ لنچ پر نان کا ایک ٹکرا لے لیتے۔ ناشتا بڑے شوق سے کرتے۔ ان کے ناشتے میں ابلا ہوا انڈہ، شہد اور جیم شامل ہوتا۔ ایک تو کھاتے تھے۔ آدھا توس انڈے اور آدھا شہد یا جیم کے ساتھ کھاتے۔ مہینے میں ایک دوبار سری پائے کھالیتے۔ قائداعظم کو آم پسند تھے۔ 15اکتوبر 1937ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک اجلاس لکھنو میں ہوا جس میں مسلم لیگ کے لیڈروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر نواب اسماعیل خان نے ٹوپی پہن رکھی تھی جو ان کو بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ قائداعظم ٹوپی سے متاثر ہوئے۔ نواب اسماعیل نے قائداعظم کو ٹوپی پہننے کی پیش کش کی۔ قائداعظم نے ٹوپی پہنی تو رفقاء نے بڑی تعریف کی۔ قائداعظم نے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر دیکھا تو ٹوپی ان کو پسند آئی۔ نواب اسماعیل کی درخواست پر قائداعظم ٹوپی پہن کر پہلی بار اجلاس میں شریک ہوئے۔ عوام نے قائداعظم کو ٹوپی پہنے دیکھ کر زبردست تالیاں بجائیں۔ یہ ٹوپی پورے ہندوستان میں ’’جناح کیپ‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئی۔ 1946ء میں بنگال اسمبلی کے انتخابات کے دوران ایم ایچ اصفہانی کے مخالف امیدوار نے 250روپے کے عوض انتخاب سے دست بردار ہونے کی پیش کش کی۔ اتفاق سے قائداعظم کلکتہ کے دورے پر تھے۔ جب اصفہانی نے قائداعظم کو اس پیش کش کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا : ’’مائی بوائے سیاست میں اخلاقیات نجی زندگی سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہے کیوں کہ اگر تم پبلک لائف میں کوئی غلط کام کرتے ہوتو تم ان ہزاروں لوگوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہو جو تم پر اعتماد اور انحصار کرتے ہیں۔ ‘‘ "My boy morality in politics is even more important than in private life, because if you do something wrong in public life, you hurt for more peple who depend on you." قائداعظم پارٹی کے اجلاسوں میں اپنے رفقاء کو کھل کر اظہار رائے کا موقع دیتے تھے۔ اختلاف رائے کو بھی صبر سے سنتے اور بعد میں دلائل دے کر رفقا کو اپنا ہم خیال بناتے۔ وکالت کے دوران مختلف ایجنٹ قائداعظم کے پاس آکر ان کو ترغیب دیتے کہ اگر وہ فیس کا کچھ حصہ ان کو دینے کے لئے راضی ہوجائیں تو وہ ان کے لئے مقدمے لاسکتے ہیں۔ قائداعظم ان کو کہتے کہ وہ بھوکا رہنا پسند کرلیں گے مگر کسی ترغیب اور لالچ میں نہیں آئیں گے۔ نامور مورخ ایچ وی ہڈسن (H.V.Hodson)قائداعظم کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’جناح کے مخالفین نے بھی کبھی ان پر کرپشن یا مفاد پرستی کا الزام نہیں لگایا۔ ان کو کوئی کسی قیمت پر بھی خرید نہیں سکتا تھا۔‘‘ قائداعظم اپنی ڈاک خود کھولتے تھے۔ ہرخط پڑھتے اور اس کا جواب دیتے۔ پارٹی فنڈ کے چیک اور منی آرڈر خود وصول کرتے، ان کی رسید اپنے دستخطوں سے بھیجتے اور مکمل حساب کتاب رکھتے ۔ اس لیے نہیں کہ وہ کسی پر اعتماد نہیں کرتے تھے بلکہ لیڈر کے طورپر جنون کی حدتک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے۔ قائداعظم صاف ستھری بااصول سیاست کے قائل تھے۔ وہ زندگی بھر مکروفن کی سیاست سے دور رہے۔ انہوں نے کبھی کارکنوں یا صحافیوں کو خفیہ سرگرمیوں پر مامور نہ کیا اور نہ ہی وہ سیاسی مخالفین کو خفیہ رپورٹ کی بناپر بلیک میل کرتے۔ وہ ورکنگ کمیٹی کے ارکان سے مسلسل رابطے میں رہتے اور ان سے پارٹی سرگرمیوں کی رپورٹ طلب کرتے۔ قائداعظم کے سیکرٹری کے ایچ خورشید لکھتے ہیں کہ ایک پارٹی اجلاس میں ان کو پارٹی فنڈ کے لئے چندہ دیا گیا۔ ہم رات کو دیر سے گھر پہنچے مگر قائداعظم اس وقت نہ سوئے جب تک میں نے اور فاطمہ جناح نے ان کی سامنے چندے کی پوری رقم گن نہ لی۔ قائداعظم ہرایک سے یکساں اور مساوی سلوک کرتے تھے۔ ایک دفعہ ان کے قریبی دوست سید واجد علی نے ان کو کھانے کی دعوت دی۔ قائداعظم نے کہا کہ اگر وہ ایک دوست کی دعوت قبول کریں اور دوسرے دوستوں کی قبول نہ کرسکیں تو ان کی حق تلفی بھی ہوگی اور وہ ناراض بھی ہوں گے البتہ قائداعظم نے واجد علی کی دعوت قبول کرنے کی بجائے ان کو بیوی کے ساتھ اپنے گھر چائے پر بلالیا۔ بیگم رعنا لیاقت کے مطابق قائداعظم ایک استقبالیہ میں شریک ہوئے۔ ایک قبائلی سردار نے آگے بڑھ کر ان سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی۔ قائداعظم نے کہا ’’اگر میں آپ سے ہاتھ ملائوں تو پھر مجھے یہاں پر موجود سب لوگوں سے ہاتھ ملانا پڑے گا اور اس لیے میرے پاس وقت نہیں ہے۔ 1941ء میں قائداعظم ایک مقدمہ کے سلسلے میں سندھ چیف کورٹ میں پیش ہوئے۔ انہیں سننے کے لئے سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے۔ چیف جسٹس نے کورٹ کلرک سے دروازے بند کرنے کے لیے کہا۔ اس پر قائداعظم کھڑے ہوئے اور مسکرا کرکہنے لگے کہ انصاف کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں ۔ عدالت نے اتفاق کیا بشرطیکہ مجمع خاموش رہے۔ زیارت میں ایک نرس قائداعظم کی تیماداری پر مامور تھی۔ اس نے قائداعظم کا ٹمپریچر چیک کیا۔ قائداعظم نے ٹمپریچر کے بارے میں پوچھا تو نرس نے کہا ’’میں ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر نہیں بتا سکتی۔‘‘ قائداعظم خود بااصول آدمی تھے لہٰذا نرس سے ناراض ہونے کی بجائے اس سے خوش ہوئے اور اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’’میں ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو مصمم ارادے کے مالک ہوں اور خوفزدہ ہونے سے صاف انکار کردیں۔ قائداعظم خوشامد کی بجائے اختلاف رائے کو پسند کرتے تھے۔ ایک سوشلسٹ لیڈر ابراہیم حبیب اللہ نے قائداعظم کے سامنے ان سے اختلاف کرتے ہوئے نہروکا دفاع کیا۔ قائداعظم نے کہا: ’’میں تم جیسے لوگوں کو پسند کرتا ہوں تم میرے ساتھ شامل ہوجائو۔‘‘ "I need men like you come and join me." سردار عبدالرب نشتر نے قائداعظم کے بارے میں اپنی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ تحریر کیا ہے۔’’جب ہم مانکی سے رخصت ہورہے تھے تو قائداعظم آگے آگے تھے اور پیر صاحب مانکی شریف سمیت پیران ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ جب قائداعظم موٹر میں بیٹھ گئے تو میں بھی ساتھ بیٹھا اور موٹر روانہ ہوگئی تو میں نے کہا قائداعظم مجھے ہنسی آتی تھی لیکن میں نے ضبط کرلی،۔ پوچھا کیوں؟ میں نے کہا’ جب ہم ان پیروں کے پاس جاتے ہیں تو بہت عزت واحترام سے ان کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن آج تمام پیر آپ کے پیچھے پیچھے آرہے تھے تو مجھے ہنسی آرہی تھی۔ ‘ فرمانے لگے ’تمہیں معلوم ہے اور ان کو بھی معلوم ہے کہ میں متقی ، پرہیز گار اور زاہد نہیں ہوں۔ میری شکل وصورت زاہدوں کی سی نہیں ہے۔ مغربی لباس پہنتا ہوں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ میرے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرمسلمان کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق میرے ہاتھ میں محفوظ ہیں اور میں اپنی قوم کو کسی قیمت پر بھی فروخت نہیں کرسکتا۔‘‘ (’’قائدِاعظم بحیثیت گورنر جنرل‘‘ سے ماخوذ)

  2. #2
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Mideast
    Posts
    5,915
    Mentioned
    213 Post(s)
    Tagged
    5074 Thread(s)
    Thanked
    176
    Rep Power
    10

    Default

    Umda

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •