Results 1 to 6 of 6

Thread: عشق حقیقی

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default عشق حقیقی


    "آفتاب ولایت سرکار عالم پناہ قبلہ قاری حافظ حاجی سید وارث علی شاہ" کے عشق کے بارے میں اقوال:

    ہمارا مشرب عشق ہے

    ہماری منزل عشق ہے

    ہمارا مسلک عشق ہے اور ہمیں عشق سے ہی سروکار ہے

    عشق میں ترک ہی ترک ہے ترک دنیا، ترک عقبی، ترک مولا، ترک ترک اور اپنا آپ فراق

    عاشق ہر چیز میں معشوق کا جلوہ دیکھتا ہے

    عاشق ہمیشہ غمگین رہتا ہے (الحزن رفیقی "الحدیث

    عاشق کا کام رونا ہے (ان الله تعالی یحب کل قلب حزیں "الحدیث

    عاشق وہ ہے جو محبوب کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھے (ارشاد نبوی ہے کہ "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہ میں اس کے والدین اور اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں"

    عشق تین حروف کا مرکب ہے ع سے مراد عبادت شین سے مراد شریعت کی پابندی اور قاف سے مراد قربانی کی رغبت کہ نفس کو ذوق و شوق سے قربان کرے

    عشق ایک بے نظیر معشوق ہے اور محبوب کی محبت کے اثرات اس میں کیمیا کی خاصیت رکھتے ہیں جس کو معشوق چاہے زنجیروں سے جکڑ دے

    ایک محفل میں رابعہ بصری، مالک بن دینار، شفیق بلخی، اور حسن بصری رونق افروز تھے
    رابعہ بصری نے پوچھا کمال عشق کیا ہے ؟
    حسن بصری بولے "اگر عاشق کو معشوق بلا میں گرفتار کرے تو عاشق جان تک دے دے"...
    مالک بن دینار بولے "عاشق جفائے معشوق کا اثر محسوس نہ کرے"...
    شفیق بلخی یوں گویا ھوئے "اگر عاشق کے معشوق ٹکرے ٹکرے بھی کر دے تو حرف شکایت زبان پر نہ لائے"...
    رابعہ بصری نے یوں لب کشائی فرمائی
    "عاشق وہ ہے جو اپنی ہستی سے گزر جائے"
    (وہ اپنے دعوے میں صادق نہیں جو مشاہدہ محبوب میں تکیلف کو بھول نہ جائے) مردہ ہو جائے، خود کو زندوں میں شمار نہ کرے
    موتواقبل ان تموتوا

    کمال عشق یہ ہے کہ عاشق معشوق ہو جائے

    معشوق کا ترسانا، حجاب کرنا،عتاب کرنا بھی رحم و فضل ہے

    عشاق کو الله کی طرف سے ہر آن ایک حال ہوتا ہے

    عاشق جو محبوب کی نسبت کہے وہ بجا اور درست ہے اور جو تعظیم کرے زیبا ہے جو شخص دربار میں داخل ہی نہیں ہوا وہ درباریوں کے آداب کیا جانے

    عشق اور چیز ہے علم اور چیز ہے اگر چھ علم کی حضور سرور کونین صلی الله علیہ وسلم نے بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے لیکن مکتب عشق میں اس کو حجاب اکبر بھی کہا گیا ہے اکثر علماء کے اقوال "جہلاء" کے لئے شہد کی مصال ہوتے ہیں مگر عشاق کے لئے سم قاتل ثابت ہوتے ہیں

    عاشقی ایک ملامت ہے دنیا و دین سے گزر جانا اور فراق میں مرنا یہ فراق ہی تو ہے ورنہ کچھ بھی نہیں

    جس نے جان کی قربانی نہیں کی وہ عاشق ہی نہیں

    لیلیٰ کے ہزاروں طالب تھے اور یوسف کے ہزاروں چاہنے والے لیکن عاشق مجنوں اور زلیخا ہی تھے، بس جس کا حصّہ ہوتا ہے وہی پاتا ہے

    جہاں عشق آجائے وہاں علم و عقل کام نہیں دیتے

    منزل عشق میں ذات صفت ہو جاتی ہے اور صفت ذات

    خیال میں معشوق کی صورت نقش ہو جائے یہی صورت بعد از مرگ
    قائم رہے گی اور اسی کے ساتھ حشر ہو گا

    عاشق جس خیال میں مرتا ہے وہ خیال اس کا حشر و نشر، قیامت، دوزخ و جنت ہے بلکہ کسرت جذبہء عشق میں خود وہی ہو جاتا ہے جو عشق نہیں رکھتا اس کو سمجھ نہیں سکتا اور نہ ہی اس راہ پر چل سکتا ہے

    معشوق جو کچھ عاشق کی نسبت کہے وہ مقام تسلیم و رضا ہے

    عاشق کو چارہ نہیں عاشق معشوق کی جو تعریف کرے وہ درست ہے-

    لیلیٰ را با چشم مجنوں باید دید- دوسرا وہ آنکھ کہاں سے لائے- موسیٰ اور چوپان کا یہی فرق عشق ہے

    لا الہ الا الله زبانی کہنا اور ہے، ضرب لگانا اور ہے

    بے دیکھے عاشق ہونا محال ہے دیکھ کر عاشق ہونا ممکن ہے

    عاشق کی سانس معشوق کی یاد سے خالی نہیں ہوتی، عاشق کی سانس بلا کسب عبادت ہوجاتی ہے

    عاشق معشوق کی یاد سے غافل نہیں ہوتا اس کی نماز یہی ہے یہی روزہ ہے

    عاشق کی دین و دنیا خراب

    عاشق دین و دنیا دونوں سے بے خبر و بے نیاز ہے

    عشق وہبی ہے کسب سے نہیں ملتا البتہ مزدور کی مزدوری ضایع نہیں جاتی

    منزل عشق سخت دشوار ہے اس لئے طالب اسے کم اختیار کرتے ہیں

    عاشق کا مرید بے ایمان نہیں مرتا

    عاشق کے مرید کا انجام خراب نہیں ہوتا

    عشق جس کو ملا پنجتن پاک سے ملا

    منزل عشق میں خلافت نہیں

    عاشق کے خیال پر دین و دنیا کا انتظام ہے

    جو عاشق کی زبان سے نکل جائے الله اس کو سچ کر دیتا ہے
    ترجمہ: کیا تمہیں اہل جنت کی خبر دوں- وہ کمزور جنھیں لوگ ضعیف جانیں اگر الله تعالی کی قسم کھائیں تو پوری ہو کیا تمہیں اہل نار کی خبر دن جو تند مزاج جھگڑالو اور متکبر ہیں )الحدیث(...

    عاشقوں کے نزدیک شیطان نہیں آتا

    عاشق کا گوشت درندے بھی نہیں کھاتے اس پر سانپ کا زہر اثر نہیں کرتا اور نہ شیر کھا سکتا ہے

    آدمی جب تک کافر عشق نہیں بنتا مومن مسلمان نہیں ہوتا

    جس کو اپنی خواہشات کی خبر ہے وہ عشق سے بے خبر ہے

    عشاق بے خود و غیر مکلف ہیں اور دنیا دار مکلف ہیں

    عشق سر دیتا ہے تب مہم سر ہوتی ہے

    معشوق کے ملنے نہ ملنے سے دنیا میں واسطہ نہ رکھے جو دل میں سما گیا اس پر قائم رہے

    بے غرض و بے لاگ جو محبت ہے وہ ایک آتش جگر سوز ہے اسی کو عشق کہتے ہیں یہ آگ جس دل میں پیدا ہوئی بدن چھوڑتے وقت اس کی صورت معشوق کی ہو جاتی ہے

    عاشق کو معشوق کی ہی ضرورت ہوتی ہے- ہم تم وہاں ایک ہی جگہ ہوں گے- خدا دور نہیں

    منزل عشق برتر ہے ذکر و اشغال سے جو کسب ہے

    میں مذھب عشق رکھتا ہوں اس ملّت میں سجادہ نشینی وغیرہ نہیں ہے- جو شخص

    بادءعشق سے سرشار ہے اور دام محبت میں گرفتار ہے خواہ خاکروب ہو یا چمار وہ مجھ سے ہے

    یار کا تصور عاشق کی زندگی ہے

    ہمارا مشرب عشق ہے عشق میں کسب نہیں خدا کی دین ہوتی ہے اور ہمارا کوئی خلیفہ نہیں عشق میں خلافت کیسی؟ جس کے دل میں عشق ہو

    عاشق کا منصب احکام یار کی تکمیل ہے

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عاشق شکایتیں کرتا ہے اور معشوق سنتا ہے

    جس کو اپنے دل کی خبر ہے وہ عشق سے بے خبر ہے

    عاشق صادق اس کو کہتے ہیں جو ایک ساعت بھی دید مطلوب سے خالی نہ رہے

    عشق کا پیش خیمہ بے انتظامی ہے

    معشوق کی جفا عین وفا ہے

    عاشق کو لازم ہے کہ سر کٹ جائے مگر شکایت نہ کرے کیوں کہ قاتل بھی غیر نہیں ہے

    عاشق صادق معشوق کے ہاتھوں میں بے اختیار ہوتا ہے جیسے میت غسال کے ہاتھوں میں

    عاشق کو لازم ہے کہ وہ معشوق کی فرمانبرداری کرے

    عاشق وصل کی حکایت اور ہر کی شکایت سے بے نیاز ہوتا ہے

    عاشق کو بجز یار کسی سے سروکار نہیں ہوتا

    عاشق کم اور مشائخ زیادہ ہوتے ہیں

    عاشق سب کو چھوڑتا ہے تب یار ملتا ہے

    جو جس کا عاشق ہوتا ہے اس کی پرستش کرتا ہے

    عاشق مثل آنکھ کی پتلی کے ہے وجود چھوٹا اور شہود بڑا

    جو جس کا عاشق ہوتا ہے وہ اس صورت میں مل جاتا ہے

    عاشق کا ایمان رضائے یار ہے

    عاشق سوائے معشوق کے کسی کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہی نہیں

    شرب عشق میں ایک صورت کے دیکھنا شرک ہے

    عاشق خیال یار میں خاموش رہتا ہے

    عاشق یار سے خبردار اور موجودات سے بے بے خبر رہتا ہے

    جن کا عشق کامل ہے ان کا شوق و جوش حیات و ممات اور وصال و فراق میں یکساں رہتا ہے

    عاشق وہی ہے جو ذات معشوق میں محو ہو جائے

    عاشق کی ایک ساعت کی غفلت بمنزلہ موت کے ہے

    عاشق غافل نہیں ہوتا اس کی یہی نماز، یہی روزہ ہے

    عاشق کے لئے جفاء عطا معشوق کا راز ہے

    عاشق نہ تعریف سے خوش ہوتا ہے اور نہ ملامت سے رنجیدہ وہ دونوں کو ایک ہی جانتا ہے

    مشرب عشق میں نفس کی بے جا خواہش کو پورا کرنا حرام ہے کیونکہ عاشق صادق کی تعریف یہ ہے کہ عاشق روح بلا نفس رہ جائے اور جب تک اس میں نفس ہے وہ عشق الہی کا مزہ نہیں چکھ سکتا

    مشرب عشق میں ماسواۓ محبوب کے کسی کو ایسی ملتفت نظر سے دیکھنا جو شخص منظور کے ساتھ انہماک پیدا کر دے غیرت عشق کے منافی ہے کیونکہ حقیقت میں ماسواۓ یار جملہ موجودات کے اثرات کو دل سے زائل کرنا اور فنا کر دینا ہی عشق ہے

    عشق وہبی ہے جو کسب سے حاصل نہیں ہوتا جہاں حضرت عشق آئے وہاں علم و عقل کا دخل نہیں

    من تو شدم تو من شدی" عشق کا کام ہے اور عشق پر کسی کا زور نہیں، بلکہ عشق کا سب پر زور ہے اور تمام عالم میں عشق کی نمود ہے

    عشق کی عبادت یہ ہے کہ ہر سانس غفلت سے پاک ہو

    معشوق سے سوال کرنا مسلک عشق کے منافی ہے لیکن صدمات ہجر اور اندوہ فراق سے مضطرب و بے قرار ہو کر اگر کوئی عاشق زار طلب محبوب کے لئے محبوب ہی سے سوال کرے تو اکثر عشاق نے اس کو بھی بایں شرٹ مبہ اور مکروہ تنزیہی گردانا ہے کہ مقصود ماسواۓ اس کے کچھ نہ ہو کہ معشوق ہم کو مل جائے یا معشوق کے ہم ہو جائیں
    عشق کی الٹی چال ہے جس کو پیار کرتا ہے اسی کو جلاتا ہے جس کو پیار نہیں کرتا اس کی باگ ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے

    آفتاب جب نورافشاں ہوتا ہے تو تارے مخلوق کی نگاہ سے کالعدم ہو جاتے ہیں، جس طرح کواکب کا وجود آسمان میں ہے اسی طرح عاشق کا وجود معشوق میں ہے

    من کان للہ کان الله لہ (الحدیث) عاشق معشوق ایک ہو جاتے ہیں

    مذھب عشق میں کفر اسلام ہو جاتا ہے- یہاں کفر و اسلام سے غرض نہیں- شریعت کو کچھ دخل نہیں

    عاشق کا خیال ایک اور مقصود واحد ہوتا ہے

    معشوق کی دی ہوئی تکلیف کہاں میسر ہے؟

    عاشق کامل کے لئے ہجر و وصال یکساں ہے

    یار کی بھیجی ہوئی بیماری سے ڈرنا اور بھاگنا غیرت عشق کے منافی ہے، بلکہ اقتضا ئے محبت یہ ہے کہ منشائے الہی کے آگے سرنگوں رہیں

    عشق میں کوئی غیر بھی نہیں اور بجز یار کسی سے سروکار بھی نہیں رہتا

    یہ عشق ایک بے اختیار چیز ہے اس کی کوئی تدبیر نہیں نہ اس کو کسب سے تعلق ہے

    ایک زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ عاشق ہجر کی شکایت کرتا ہے نہ وصل کی طلب

    عاشق کا گوشت درندوں اور زمین پر حرام ہے

    فقیر خدا کا عاشق ہوتا ہے اور عاشق کو چاہئے وہی کرے جو معشوق کی مرضی ہو

    عشق علم سے حاصل نہیں ہوتا یہ خدا داد چیز ہے، جس بیقرار دل کو چاہا اس کو عطا کر دیا

    ہمارے یہاں عشق میں لونڈی و غلام، میاں و بی بی سب ایک ہیں
    وصل فراق ہے فراق وصل ہے

  2. #2
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Jinzhou, Liaoning, China, Madinah Saudi Arabia
    Posts
    12,264
    Mentioned
    82 Post(s)
    Tagged
    7842 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    895521

    Default Re: عشق حقیقی

    laaaaaaaaaaa jawaab be misaal ...



  3. #3
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: عشق حقیقی

    mind blowing

  4. #4
    Join Date
    Sep 2012
    Location
    Bermuda Triangles
    Posts
    3,039
    Mentioned
    3 Post(s)
    Tagged
    3495 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    9

    Default Re: عشق حقیقی

    superb sharin

  5. #5
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    Lahore , Pakistan
    Age
    27
    Posts
    1,938
    Mentioned
    41 Post(s)
    Tagged
    6498 Thread(s)
    Thanked
    8
    Rep Power
    21474845

    Default Re: عشق حقیقی

    bay-misal

  6. #6
    Cute PaRi's Avatar
    Cute PaRi is offline ♥Häppïnëss ïs Süċċëss♥
    Join Date
    Sep 2012
    Location
    ♥ündër möthër's fëët♥
    Posts
    9,560
    Mentioned
    132 Post(s)
    Tagged
    9855 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    1533321

    Default Re: عشق حقیقی

    bhot acha

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •