Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 11

Thread: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

  1. #1
    Join Date
    Jan 2013
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,031
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    4328 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    251262

    Default اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے


    یہ تو ہمار ا روز کا معمول تھا
    ہم سکول جا تے ہوئے بابا اکرم کو ضرور سلام کرتے ۔
    وہ ہمیشہ اپنے گھر سے منسلکہ بیٹھک پر صبح سویرے آکر بیٹھ جا تے ۔ ایک حقہ ان کا رفیق خاص ہوتا۔وہ ایک خوبصورت پایوں والی رنگین سوتی بان سے بنی چارپا ئی پر اکیلے بیٹھے ہوتے- ان کے سامنے دائیں اور بائیں جانب تین تین چارپائیاں مزید بچھی ہوتیں۔ وقت گذرنے کیسا تھ ساتھ ان چارپائیوں پر آکر بیٹھنےوالوں کی تعدا د بڑھتی جا تی۔
    جب ہم با با اکرم کو سلام کرتے تو وہ بہت پیار سے مسکراتے، ہلکا سا سر کو خم دیتے اور بڑی دبنگ آواز میں کہتے
    " وعلیکم السلام۔ ہاں بھئ بچو ۔ سکو ل کی تیاریاں ہو گئیں۔"
    ہم کہتے " جی بابا جی"
    "شاباش بچو۔ جیتے رہو" ان کا جواب ہوتا۔
    ہمارے کان روزانہ ان فقروں کو سننے کے عادی تھے۔
    بہت کم ایسا ہو تا کہ بابا اکرم اپنی بیٹھک پر صبح سویرے موجود نہ ہوتے۔ اور جب ایسا ہوتا تو ہم سمجھ جاتے ۔ آج بابا اکرم اپنی بیٹی سے ملنے ساتھ والے گائوں گیا ہے۔ اور دو دن کے بعد ہی واپس آئے گا۔ بابا اکرم کی ایک ہی بیٹی تھی جو ساتھ والے گائوں میں بیاہی ہو ئی تھی۔ بابا اکرم مہینے میں ایک آدھ دفعہ اپنی بیٹی سے ملنے ضرور جا تا۔
    یہ بابا اکرم کون تھا ۔ اس بارے میں ہما ری معلومات بہت محدو د تھیں۔ بزرگوں سے سنا تھا کہ پاکستان بننے کے ایک سال بعد وہ ہمارے گائوں آیا تھا۔ اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا ۔ بابا اکرم کا تعلق ہندوستان کے کسی گائوں سے تھا اور وہ پاکستان بننے کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگیا تھا۔
    بس اس سے زیا دہ ہم کچھ نہ جانتے تھے ۔
    بے شک ہم بابا اکرم کے بارے میں زیا دہ نہ جانتے تھے لیکن بابا اکرم کی شفقت اور محبت کے ہم گرویدہ تھے۔ انکے دبنگ مگر پیار کی چاشنی سے لبریز لہجے میں رچی بسی لفظوں کی مٹھاس ہم اپنے دلوں میں محسوس کرتے تھے۔

    " آج بابااکرم بیٹھک پر موجود نہیں ۔ لگتا ہے اپنی بیٹی کے پاس گیا ہوا ہے" شاہد نے گلی مڑتے ہی کہا تو سب لڑکوں کی نظریں بیٹھک کی طرف اٹھ گئیں۔
    " نہیں یا ر ۔ بابا اکرم تو پچھلے ہفتے وہا ں گیا ہو ا تھا" حفیظ نے یا د دلایا تو سب نے ہا ں میں ہا ں ملائی
    " پھر کیا مسئلہ ہے؟ " میرے پڑوسی شہر یا ر نے پریشانی کے لہجے میں کہا۔
    " چلو واپسی پر پتہ کرلیں گے " میں نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے سکول کی طرف قدم بڑھا دیے۔
    واپسی پر بابا اکرم کے بارے میں معلومات لینے کا کسی کو خیال نہ آیا ۔
    دوسرے دن بابا اکرم پھر غا ئب پائے گئے۔
    اب تو ہم لوگ بے چین ہوگئے۔ ارشد بابا اکرم کے گھر کے نزدیک ہی رہتا تھا اور ہم سے ایک کلاس آگے تھا ۔ اس سے پو
    چھا تو پتہ چلا بابا اکرم بیمار ہے اور اسی وجہ سے بیٹھک پر نہیں بیٹھ رہا۔
    ہم لڑکوں نے شام کو بابا اکرم کے پاس جا نے کا پروگرام بنا یا ۔ گھر والوں سے اجازت لے کر ہم شام کو بابا اکرم کے گھر پہنچ گئے۔
    انکی بیگم نے دروازہ کھو لا اور اتنے سارے بچے دیکھ کر پریشان ہو گئیں ۔ مگر جب ہم نے بتا یا کہ ہم بابا اکرم کی طبیعت کے بارے میں پتہ کرنے آئے ہیں تو بہت خوش ہوئیں۔ اور سب کو اندر بلا لیا۔
    بابا ایک چارپائی پرلیٹے ہوئے تھے ۔ ہمیں دیکھا تو پہلے حیران ہوئے مگر جب اماں نے بتا یا کہ یہ سب آبکی طبیعت کا پتہ کرنے آئے ہیں تو اتنے خوش ہوئے کہ اٹھ کر سب کو باری باری گلے لگایا۔ اور بیٹھنے کیلئے کہا۔
    پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ انکی آنکھوں سے اتنے موٹے موٹے آنسو گر نے لگے۔ جیسے تسبیح کے دانے گر رہے ہوں
    میں نے اس دن زندگی میں پہلی مرتبہ ان کو روتے دیکھا۔ پھر بے اختیا ر میری آنکھوں سے بھی جھڑی جا ری ہوگئی۔

    بابا اکرم تو تڑپ اٹھے اور ایک اٹھ کر میرے پاس آگئے ۔ " آپ کو کیا ہوا بیٹے۔ کیوں رورہے ہو"
    انہوں نے مجھے اپنے بڑے بڑے بازوئوں میں سمیٹتے ہوئے۔ تو میری منہ سے صر ف اتنا نکلا " بابا جی آپ جو رو رہے ہیں"
    بابا جی نے اپنے آنسو فورا پونچھے اور مسکراتے ہو ئے کہا " بھئ میں تو بیمار تھا اس وجہ سے رو رہا تھا۔ چلو خیر چھوڑو۔
    یہ بتائؤ ۔ اپنے گھر والوں کو بتا کر آئے ہو"
    " جی" سب لڑکوں نے کورس میں کہا تو با با مطمئن ہو گئے۔
    ہم نے با با سے بہت ساری باتیں کیں۔ امان جی ہما رے دودہ لے کر آئیں۔ جو سب نے پیا ۔
    اب با با جی کی طبیعت بہت بہتر لگ رہی تھی۔
    کہنے لگے " بچو میں آج آب کو ایک کہا نی سنا تا ہوں۔ پھر پتہ نہیں زندگی موقع دے یا نہ دے۔"
    ہم سب متوجہ ہوگئے۔
    بابا جی نے کہا نی شروع کی
    " بہت سال پہلے ایک بہت ہی خوبصورت گائوں میں ایک بچہ رہتا تھا۔ جو اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ اسکی سات بہنیں تھیںاور سب کی سب اپنے بھا ئی پر وارے جاتی تھیں۔ بچے کا باپ ایک بہت بڑا زمیندار تھا اور اسکے گھر روپے پیسے کی کمی نہ تھی ۔ چنا نچہ لاڈلا ہونے کی وجہ سےبچے کی ہر خواہش پوری کی جا تی تھی۔ جب بچہ سکول جا نے کی عمر تک پہنچا تو اسے گائوں کے سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔ تاہم بچے نے فرمائش کی کہ وہ سکو ل پیدل نہیں جا ئے گا بلکہ بگھی پر جا ئے گا۔ گائوں میں کسی کے پاس بگھی نہ تھی مگربچے نے یہ بگھی قریبی شہر میں دیکھی تھی۔
    چنانچہ بچے کیلئے ایک بگھی خریدی گئی اور وہ سکول آنے جا نے لگا۔ بچہ لائق تھا اور ہر کلاس میں ہمیشہ پہلے نمبر پر آتا تھا۔
    پانچویں پاس کرنے کے بعد بچے کو شہر کے سکول میں داخل کروایا گیا کیوں کہ گائوں میں صر ف ایک ہی پرائمری سکول تھا۔
    وہ بچہ بہت نازو تعم میں پل رہا تھا اور اسکی زندگی جنت کا نمونہ تھی۔
    اچانک انہی دنوں خبریں آنے لگیں کہ مسلمان اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا مطا لبہ کر رہے ہیں۔
    بچہ اگر چہ ابھی شعور کی منزلیں طے کر ریا تھا مگر وہ کچھ کچھ سمجہ رہا تھا۔ کہ مسلمان اور ہندو آپس میں ایک دوسرے کونا پسند کرتے ہیں۔
    تھوڑے ہی دنوں یہ باتیں شدت اختیا ر کرتی گئیں۔ بچے کے والد کے پاس بہت سے لوگ آتے تھے اور بہت دیر تک گفتگو ہوتی تھی ۔ پھر ایک دن اسکے گائوں میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔ بہت سارے لوگ ہاتھوں میں جھنڈے اٹھا کر نعر ے لگا تے تھے۔ بچہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہورہا تھا اور وہ بھی ان نعروں میں شامل ہوگیا۔
    اچا نک شور اٹھا کہ قا ئد اعظم محمد علی جناح پہنچ گئے ہیں۔ لوگو ں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔
    بھر جب قا ئد اعظم بولنے کیلئے آئے تو بچے کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ مگر نعروں میں وہ سب کے ساتھ شریک تھا۔
    یہ منظر اس بچے کی یاداشت ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔

    کچھ دن بعد پتہ نہیں کیا ہوا۔ کہ لوگ لڑنا شروع ہو گئے۔ روزانہ جھڑپوں کی با تیں ہوتیں۔ بچے کی حویلی میں بہت سے لوگ آگئے۔ اور صحن ان لوگوں سے بھرنا شروع ہوگیا۔ بہت سی عورتیں اور بچے بھی آنا شروع ہو گئے۔
    ان کا گھر گویا مہمان خانہ بن گیا۔
    پھر وہ رات بھی آئی جب اس بچے کا سب کچھ لٹ گیا۔

    بلوائیوں کے ایک ٹولے نے انکی حویلی پر حملہ کردیا۔ بچے کو جب جا گ آئی تو اس نے دیکھا کہ اسے اسکی ماں نے اسے اپنے کندھے سے لگا یا ہوا ہے اور دوڑ رہی ہے۔ اچانک اسکی مان گری اور اسکے سا تھ ہی بچہ بھی اچھل کر دور جھاڑیوں میں جا گرا۔
    پھر بچے نے اپنی ننھی منی معصوم آنکھو ں سے دیکھا کہ ایک سکھ نے اسکی ماں کے سینے میں چھرے کے کئ وار کئے ۔ اور پھر بھا گ گیا ۔
    بچہ تو جیسے سن ہو گیا۔
    پتہ نہیں کب وہ بچہ دوڑ کراپنی ماں کے پاس آیا۔
    اس نے دیکھا اسکی ماں مر چکی تھی۔۔۔"
    یہاں پہنچ کر با با اکرم کی گھگھی بندہ گئ۔
    میرے سمیت سب لڑکوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

    بابا تھوڑی دیر کے بعد پرسکون ہوئے اور دوبارہ کہابی شروع کی
    " اسکے بعد وہ بچہ کہاں کہا ں گیا یہ ایک لمبی داستان ہے۔ وہ اپنی بہنوں اور باب کو بہت تلاش کرتا رہا مگر بے سود۔
    اس دوران اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ کئی دن تک بھو کا پیا سا رہنے کا تلخ تجربہ حا صل کیا ۔
    زندگی کی تمام آسائشیں اب اس سے روٹھ چکی تھیں۔
    ہاں اسے قدم قدم پہ کچھ مہربان ملتے رہے۔ اور وہ صعوبتیں برداشت کرتا ایک دن نئے وجود میں آنے والے ملک کی مٹی کو چوم رہاتھا۔
    پتہ نہیں اس بچے کو کیسے احساس ہو ا کہ یہ مٹی بہت محترم ہے۔
    شاید اس لئے کہ یہ مٹی اسے پورا خاندان کھونے کے بعد ملی تھی۔
    بھر وقت کی گردشوں کیساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوتا گیا لیکن اپنی پہنوں اور باپ کی تلاش بھی جا ری رکھی ۔
    ۔
    بھر ایک دن یہ تلاش بھی ختم ہو گئی۔
    اسے بہت عرصے بعد اسکے آبائی گائوں کا ایک فرد مل گیا ۔
    کاش وہ اسے نہ ملا نہ ہوتا۔
    اس نے بتا یا کہ اس کا تو پورا خاندان ہی بلوائیوں نے مار دیا تھا۔
    ۔
    کیا آپ اس کے کرب کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ؟
    جب تک اسے یہ خبر نہ ملی تھی وہ ایک آس پر زندہ تھا۔اب تو اس کی یہ آس بھی ختم ہوگئی۔
    وہ بالکل بکھر گیا۔"

    بابا خاموش ہوگئے۔
    سب بچے دکھ کی ایک کربناک لہر اپنی اپنی رگ رگ میں محسوس کررہےتھے۔
    وہ لمحے بہت بھاری تھے۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔ سب کے پا س جیسے الفا ظ ہی ختم ہوگئے تھے۔

    جیسے صدیا ں گذر گئیں
    پھر اچانک ایک ٹوٹتی ہو ئی آواز میں سوال آیا
    "وہ بچہ اب کدھر ہوگا"

    با با جی بچوں کی طرح بلکنے لگے
    " وہ بچہ۔۔۔
    وہ بچہ--- تو کب کا مرگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں ایک بوڑھا جسم آپ دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
    میں آپ کے سا منے ہوں "

    "جی آپ"
    سب بچے جیسے حیرت سے چیخ پڑے۔
    " جی بچو ۔۔۔ وہ بچہ میں ہی تھا" بابا کے لہجے میں صدیوں کا کرب تھا۔
    "بچو ۔۔
    میں آج اپنے آپ کو بہت ہلکا بھلکا محسوس کر رہا ہوں۔ آج بہت عرصے بعد کھل کر رویا ہوں شا ید"

    آج دل کھول کے روئے ہیں تو یوں خوش ہیں فراز
    چند لمحو ں کی یہ ر ا حت بھی بڑی ہو جیسے


    "بچو۔۔ میں نے آج آپ کو اپنی کہا نی اس لئے سنا ئی ہے کہ آپ کو اندازہ ہو ۔ ہمارے پیارے ملک کی مٹی کتنی مقدس ، کتنی قیمتی ہے۔
    بچو ایک پوری نسل نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر آنے والی نسل کو خوشحالی اور آزادی کی تعمت سے سرفراز کیا ہے۔
    اس ملک کی مٹی میرے لئے میری آنکھوں کا سرمہ اس لئے ہے کہ میرا پورے خاندان کا لہو اس مٹی کے حصول میں صرف ہوا۔
    میرے بچو
    بڑے ہو کر اپنی پچھلی نسل کی قر با نی کو بھول نہ جانا۔
    اس وطن نے ہمیشہ آپ کو خوشیا ں دی ہیں ۔ بہا ر دی ہے۔ خوشبو دی ہے۔ پھول دیے ہیں۔
    اگر کبھی زندگی میں آپ کو یہ وطن کانٹے بھی دے تو انکی چبھن کو خا موشی سے سہ لینا۔ کیوں کہ اپنے وطن کے کانٹے غیروں کے بھولوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔"
    سب بچوں کی آنکھوں میں جلتی شمعوں میں جو عکس تھا اس میں بابا اکرم کیلئے عقیدت اور اپنے وطں کیلئے محبت کا نور جھلک رہا تھا۔

    تحریر : ایم نور
    آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو.حضرت علی
    Visit my blog
    http://www.homeopathypakistan.blogspot.com

    MY PAGE ON FB
    www.facebook.comhomeo

  2. #2
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    bohat khubsurat tehreer hai
    Pakistan k liye humaray abaa o ajdaad ne bohat qurbaniyaan di hain humain unko yaad rakhna chahiye aur unki qadar karni chahiye

    eq2hdk - اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    bht khoob

  4. #4
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    super threer

  5. #5
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    Jinzhou, Liaoning, China, Madinah Saudi Arabia
    Posts
    12,264
    Mentioned
    82 Post(s)
    Tagged
    7842 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    895521

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    tehreer
    images?qtbnANd9GcSD7qCu5RmanJAqGaixYtC w47jXo28t NBgcZ q5Z33lher5Bl - اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    Rehney Dey Is Dard Mein Zindaa
    Main Tanhaa Hee Sahee . . .

  6. #6
    Join Date
    Dec 2012
    Location
    pakistan
    Posts
    306
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    414 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    5

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    zaberdast threer

  7. #7
    Join Date
    May 2010
    Location
    IN UR DREAMS
    Age
    25
    Posts
    9,438
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    323 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474853

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    hmmm gr8.


    DREAMS BOY...

  8. #8
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    zabrdast likha janab
    suno hworiginal - اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
    575280tvjrzkx7ho zps19409030 - اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کےღ∞ ι ωιll αlωαуѕ ¢нσσѕє уσυ ∞ღ 575280tvjrzkx7ho zps19409030 - اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

  9. #9
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    super - اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

  10. #10
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: اپنے وطن کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

    Bohat achaa likha haiii





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •