خواب کی جادو گری رہتی ہے
نیند آنکھوں میں بھری رہتی ہے

جیسے رہتا ہی نہیں ہوں میں یہاں
اک عجب بے خبری رہتی ہے

ہم خیالوں میں سفر کرتے ہیں
ہمسفر دربدری رہتی ہے

دل ہے وہ آئینہ خانہ جس میں
اک عجب عکس گری رہتی ہے

خشک ہو جاتے ہیں پتے لیکن
شاخ امکاں تو ہری رہتی ہے

روح کے زخم کہاں بھرتے ہیں
عمر بھر چارہ گری رہتی ہے

ختم ہوتا ہے کہاں کار جہاں
اک نہ اک دردِ سری رہتی ہے