دل دریا سمندر ازواصف علی واصف

خوف پیدا ہونے کے لیے خطرے کا ہونا لازمی نہیں۔ خوف انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے، حالات سے بھی اور خیالات سے بھی۔انسان جب اپنی کسی خواہش کا جواز ضمیر میں نہیں پاتا تو اس کا خوفزدہ ہونا لازمی ہے۔ خوف ناروا خواہش کا اوّلین سگنل ہے۔

زندگی میں ایک ایسا مقام آتا ہے جب انسان محسوس کرتا ہے جیسے اس کی آرزوئیں اس کا حاصل، لا حاصل ہوں۔ اسے ناکام ارادوں پر خوشی ہونے لگتی ہے اور کامیاب آرزووں کے انجام سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ کامیاب آرزو گناہ ہو سکتی ہے مگر ناکام آرزو کبھی گناہ نہیں ہو سکتی۔ نیکی کی آرزو ناکام ہو، تب بھی نیکی ہے۔ بدی کی آرزو بدی ہے، بدی کا سفر بدی ہے اور پھر اس کا انجام تو خیر بدی ہے ہی سہی۔