Results 1 to 4 of 4

Thread: Mazah

  1. #1
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,040
    Mentioned
    300 Post(s)
    Tagged
    207 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default Mazah


    کسی سنجیدہ شعر میں تحریف کرنا اور اسے مزاح کا رنگ دینا یا کسی سنجیدہ مصرعہ کو قطعہ میں استعمال کرکے تضمین کہنا… اور اس طرح قطعہ میں شگفتگی پیدا کرنا یہ ہنر بھی قابلِ تحسین ہے۔ اکثر شعرا نے ایسا کیا ہے اور یقینا وہ داد کے مستحق ہیں۔

    اب دیکھئے نا… علّامہ اقبال کا یہ شعر کس قدر سنجیدہ ہے…

    مانا کہ ترے دید کے قابل نہیں ہوں میں
    تو میرا شوق دیکھ ___ مرا انتظار دیکھ

    مصرعۂ ثانی میں تھوڑی سی تحریف نے صرف مفہوم ہی نہیں بدلا بلکہ اسے مزاح کا ایسا رنگ دیا کہ قاری مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا…

    مانا کہ ترے دید کے قابل نہیں ہوں میں
    تو میری کار دیکھ ____ مرا کاروبار دیکھ

    اسی طرح کا ایک اور شعر جس کے خالق حفیظ جونپوری ہیں۔ حفیظ کا شعر ہے…

    بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
    ہائے کیا چیز ____ غریب الوطنی ہوتی ہے

    تحریف کے بعد کا رنگ ملاحظہ کیجئے

    بیٹھ جاتا ہوں جہاں ’چائے بنی‘ ہوتی ہے
    ہائے کیا چیز ___ غریب الوطنی ہوتی ہے

    مرزا غالب کا ایک شعر… معنی کے اعتبار سے بے نظیر…

    رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

    مرزا غالب کی منطق کے مطابق رنج کی زیادتی نے ان کی مشکلوں کو آسان کر دیا

    مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہے…

    بیویاں مرتی گئیں ____ میں شادیاں کرتا رہا
    ’’مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں‘‘

    مومن خاں مومن نے ساری عمر عشقِ بتاں میں گزار دی اور جب عمر کے آخری حصّہ میں پہنچے تو خیال آیا کہ مسلماں ہو جائیں مگر اگلے ہی لمحے یہ بات بھی ذہن میں آئی کہ…

    عمر تو ساری کٹی عشقِ بُتاں میں مومنؔ
    آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

    آفرین ہے امیرالاسلام ہاشمی کو کہ انہوں نے مصرعۂ اولیٰ کی تبدیلی سے شعر کے مفہوم کا زاویہ تبدیل کر دیا…

    نائی آئے گا _ تو یہ کہہ کے گریزاں ہوں گے
    ’’آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے‘‘

    جگر مراد آبادی کا مشہور شعر ہے…

    جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر
    عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

    کس قدر سنجیدہ شعر میں مرزا عاصی اختر نے مصرعۂ اولیٰ میں تحریف کرکے اسے ایسا شگفتگی کا رنگ دیا کہ قاری کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آنا لازمی ہے…

    آپ کے گھر سے میں کھا کے مار آ ہی گیا
    ’’عمر بھر کی بے قراری_ کو قرار آ ہی گیا‘‘

    ایک تضمین ملاحظہ کیجئے۔

    داغِ فراق ____ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
    اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

    اب ذرا یہ دیکھئے کہ لفظ ’’شمع‘‘ کو شاعر نے کس معنی میں لیا ہے۔

    لڑکی کہاں سے لاؤں میں شادی کے واسطے
    شاید کہ اس میں __ میرے مقدّر کا دوش ہے

    عذرا ‘ نسیم ______ کوثر و تسنیم بھی گئیں
    ’’اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے‘‘

    ♥صف شکن
    (-: Bol Kay Lab Aazaad Hai'n Teray :-)


  2. #2
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: Mazah

    very nice share

  3. #3
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    City Of Light
    Posts
    26,767
    Mentioned
    144 Post(s)
    Tagged
    10310 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474871

    Default Re: Mazah

    nice



    3297731y763i7owcz zps9ed156a3 - Mazah

    MAY OUR COUNTRY PROGRESS IN EVERYWHERE AND IN EVERYTHING SO THAT THE WHOLE WORLD SHOULD HAVE PROUD ON US
    PAKISTAN ZINDABAD











  4. #4
    Join Date
    Aug 2012
    Location
    Baazeecha E Atfaal
    Posts
    12,040
    Mentioned
    300 Post(s)
    Tagged
    207 Thread(s)
    Thanked
    219
    Rep Power
    18

    Default

    Shukriyaah :-)
    (-: Bol Kay Lab Aazaad Hai'n Teray :-)


Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •