Results 1 to 8 of 8

Thread: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

  1. #1
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    الحمدللہ رب العالمین
    والسلام علیٰ رسولہ محمد وّاٰلہ واصحابہ اجمعین
    امَّ بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    معززقاریئن کرام اللہ تعالی نے قرآن مجید کہ زریعہ علم و ہدایت کی وہ دولت عطا کی ہے ۔جس میں انسان نیکی اور بدی کی راہ سے بخوبی
    واقف ہوجاتا ہے۔
    وانزل قرآن للھدایہ ، قرآن پاک ہدایت کے لئے ہی نازل ہوا ہے ۔ لیکن انسان اپنے اعمال کا خود ہی مختار ہے گنہگار اور گمراہ شخص کے لئے
    صرف دوذخ ہے ۔ اللہ لا یھدی قوم الفاسقین ، اللہ تعالی فاسق قوم کو کبھی ہدایت نہیں دیتا، اللہ کے جو نیک بندے ہے وہ اللہ کی راہ پر چل کر صراطِ مستقیم
    کی راہ اختیار کرتے ہیں ، اور وہی جنتی کہلاتے ہیں ۔جو لوگ غفلت میں ہے وہ زمانے کی تحقیق اور مال ومتاع میں گزر بسر کرتے ہیں ۔
    زمانے کی تحقیق سے مراد کے اپنی خواہشات کی پروی کرتے ہے۔

    ایک مسلماں دولت کمانے کے لئے دین و دنیا نماز و روزہ اور اپنے گھر کی بجانب بھی فرض بھول جاتا ہے۔ بس یہی اس کا عمل ہوتا ہے ۔ جہاں تک ہو سکے خوب دولت کما لوں ۔ اور وہ دولت کمانے اپنے دن رات ایک کردیتا ہے ، اپنی آخرت بھولا کر دولت کے نشے میں آندھا ہوجاتا ہے ۔ انسان اپنی فطرت سے مجبور ہوکر شہرت اور کامیابی کے لئے ہی زندگی گزر بسر کر رہا ہے کہ میں دنیا کا مشہور ترین آدمی کہلاؤ اور ہر جگہ میری واہ واہ ہو۔
    شہرت کا جنون اس قدر اس قدر ہوتا ہے کہ وہ اہنے دین اور اہل وعیال ،کے فرائض انجام دینے اس کے پاس وقت نہیں ہوتا۔
    اسے کہتے ہے اپنے عمل کی اختیاری اور غفلت میں رہنا ، کہ ہم خود کو مسلمان ہونے کا دعوہ تو کر رہے ہے لیکن ہم خواہشات کی رہنمائی میں
    راہ نجات کا راستہ بھول گئے ہیں ۔ایک یہ مسلمان ہے جو دولت مند کو دیکھ کر کہہ رہا ہے اے کاش میرے پاس بھی دولت ہوتی تو میں آج بڑی
    سی کار میں اپنے بیوی بچوں کو گھماتا ، بڑا سا بنگلہ خرید کر اس میں سب کے لئے آرائش کا سامان رکھتا ،اور اپنی خواہش کہ لئے وہ دنیا کی دیکھا دیکھی
    میں راہ حق سے بھٹک جاتا ہے ۔ بنا سوچے سمجھے طموحات کہ نشے میں اور اپنے مقاصد تک پہچنے کے حرص وہ نجات کی راہ چھوڑ کر گناہ کہ دلدل میں دھستے جاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے جو دولت تھی وہ بھی نہیں رہتی ، گر کوئی اس میں کامیاب ہو بھی جائے تو اسے سکوں کی نیند نصیب نہیں ہوتی ۔
    گناہوں کے بوجھ سے وہ بے شمار قلق کا شکار رہتا ہے ۔ اور راہ نجات اور نیکی کی تصدیق کا عمل وہ کھو دیتا ہے ۔
    اسی وقت اس شہرت اور دولت کی بھیڑ میں ایک مؤمن ہوتا ہے ، جو بخوبی عمل شیطان کہ وسواس سے واقف ہوتا ہے اور جواب دیتا ہے
    یا اللہ مجھے بس میرے آخری وقت میں شہادت نصیب ہو ، میری زباں پر لاؒ الہ اِلاّ اللہ مًحمدّ رَّسُوْلُ اللہ کی شہادت ہو ۔

    شیطان پھر بھی کوشش کرتا ہے دیکھ دولت مند کتنے آرام سے عیش کی زندگی گزار رہا ہے ،بچے اچھی اسکول میں پڑھ رہے ہیں ،اور گھر میں کتنے نوکر چاکر بھی ہیں ۔ لیکن مؤمن بندہ یہی کہتا ہے کہ میں اللہ کی رضا میں خوش ہو ،جہاں تک میرا فرض ہے کہ میں اپنی پانچ وقت نماز کا پابند رہواور حق اور ایمان سے دین کی راہ پر چلو ۔ مشکلات میں صبر سے کام لوں ،اور اللہ کہ
    نزدیک ایک محبوب بندہ کہلاؤ ، وہی میرا سب سے بڑا سرمایا ہے ۔ اور ایسے ہی نفس کی مخالف کرتے ہوئے اپنے ثابت اقدام سے راہ حق کی طرف ملتزم رہتا ہے ۔
    شیطان دنیا کی رونقیں دیکھا کر کہتا ہے تیری سچائی اور ایمان داری نے تجھے دیاکیا ہے ۔۔؟
    تو زرا سی کوشش کرلے تھے اپنی ساری پریشانیوں اور تنگ دستی سے نجات مل جائے گی ، دیکھ اپنی حالت کو ترس آتا ہے مجھے تجھ پر ، مؤمن بندہ مسکرا کر جواب دیتا ہے
    میرے رب نے مجھے اس آزمائش کے لئے چنا ہے ، یہ میری خوش نصیبی ہے ، تجھے کیا پتہ شاید اسی میں میری بہتری ہے ، اس کی مصلحت وہ جانے اور میں اس کی رضا میں ، میں خوش ہو
    اور پھر وہ شیطان ملعون پر لعنت بھیج کر وضو کرکے اللہ کی بارگاہ میں سر جھکا کر شکر ادا کرتا ہے ۔ اور مانگتا ہے اللہ سے کہ یا اللہ تیرا ذکر ہی میرے دل کو اطمئنان دیتا ہے تیری رضا ہی
    میری سب سے بڑی دولت ہے ، اور میں پناہ مانگتا ہو اس شیطان سے ، مجھے تیری آزمائش میں حوصلہ اور صبر عطا کر۔
    سبحان اللہ مؤمن بندے کی پہچان اس کہ صبر اور شکر سے ہی ہوتی ہے۔
    اور جو لوگ اونچا مکان اونچی دکان اور نرم و ملائم بستر اور لذیذ پکوان کھانے والوں کو دیکھ کر خود ہی سوچ لیتے ہیں ، یہی ہماری اصل راہِ زندگی ہے
    جس پر چل کر ہمیں ہمارا مقصد ملے گا، دکھوں سے نجات پاکر ہم ایک کامیاب انسان بن سکتے ہیں ۔

    کبھی تجارت اور شہرت کو لیکر یہ لوگ کاش کا لفظ دہراتے ہیں ، کہ کاش ہمارے پاس اتنی دولت ہوتی ، کاش شہرت ہمارے نام ہوتی کاش و کاش اور ایک کاش ۔۔۔۔۔ تو یہ ضائع کا راستہ ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں اور نا ہی نجات حاصل ہوتی ہے ،
    اور جوانسان اپنے نیک عمل سے اپنی نماز سے اور اپنے قرآن پاک سے اپنے رب سے ،دور ہوکر یہ چزیں حاصل کرنے کی طموحات کے سفر میں کھوجاتے ہے قرآن اور دین کے احکام کو فراموش کرنے کتراتے نہیں ۔ ان ہی فانی چیزوں کا گماں ان کا ایمان کمزور کر دیتا ہے ۔

    اور جب راہ نجات کا وقت آتا ہے تو ان چیزوں سے جنت نہیں ملتی ،اللہ کی رضا نہیں ملتی ،آخرت کا سفر طئے کرنے کے لئے نادم ہوکر انھیں اپنے اعمال کا گڑہ خود ہی کھول کر رونا پڑتا ہیں۔ اور رو رو کر وہ اللہ کی بارگاہ میں معافی مانگتا ہے اپنے گناہوں کی کہ یا اللہ مجھے بخش دے ، میں غفلت میں تھا کھویا تھا ،آج مجھے راہ نجات عطا کر مجھے راہ حق کی طرف رجوع کردے میرے دین کو سوار دے میرا ایمان دین کی روشنی سے منّٗور کردے ۔

    رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک پکا مومن کمزور مومن سے زیادہ اچھا اور زیادہ محبوب ہے اور ہر ایک میں خیر ہے۔ جو چیز تم کو نفع دے اس میں حرص کرو، اللہ کی مدد چاہو اور تھک کر نہ بیٹھ جائو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو یہ نہ کہو کاش میں ایسا کرلیتا ۔ البتہ یہ کہو یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے اس نے جو چاہا کردیا، یہ لفظ ’’ کاش ‘‘ شیطان کہلواتا ہے ‘‘۔ (عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ )

    یہ دینا ایک آزمائش کا گھر ہے، ہم اپنی عارضی ضرورتوں میں مصروف رہ کر حق اللہ کہ فرائض فراموش کر رہے ہیں ، اپنی آخرت کھونے والوں کے لئے اپنےاعما ل کی اصلاح ضروری ہے اور حق اور باطل کی پہچان ضروری ہے۔
    اس کے لئے ہمیں خود کو ملتزم کرنا ہے راہ نجات پر چل کر لیکن افسوس ہم یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ ہمارے لئے نجات کی راہ کیا ہے ؟
    ہمیں ہماری طموحات نے روکا ہے ۔ اللہ کے بندہ ہونے کا دعوہ کر رہے ہے ۔ پیارے نبیﷺ کہ ہم امتی خود کو مانتے بھی ہیں ،لیکن کس فخر سے کیا ہم سے پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی ہوتی ہیں؟
    کیا ہم نے اپنے نفس پر قابو پایا ہیں؟ کیا ہم نفس کہ مخالف کھڑے ہونا جانتے ہیں ۔؟
    راہ نجات کا راستہ قرآن مجید میں صاف صاف درج ہے
    قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہے

    "ياأيها الذين آمنوا اركعوا واسجدوا واعبدوا ربكم وافعلوا الخير لعلكم تفلحون "

    جو لوگ اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں نماز پڑتھے ہے سجدہ کرتے ہے اور اللہ تعالی کی عبادت اور عمل خیر کرتے ہیں وہی مؤمن اور جنت کے فائزین ہیں
    انسان کے اعمال حق اور باطل کہ پہچان سے مبنی و مقصود ہدایت سے ہے ۔ جو ایمان لاتے ہیں وہ اچھے اعمال کی خو دہی مثال بنتے ہیں ۔

    اسی طرح اعمال حسنہ کا تعلق بھی یا تو خدا کے حقوق سے ہے یا بندوں کے حقوق سے اس وجہ سے وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ یہ ساری باتیں حقوق اور فرائض کی طرح ادا بھی کرتے ہیں ۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لاکر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سر جھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا:۔ ’’تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ اللہ تعالیٰ نے جنت یا جہنم میں لکھ دیا ہے اور اس کا اچھا ہونا یا برا ہونا بھی اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے‘‘۔ ایک شخص نے کہا ’’ اے اللہ کے رسول، ہم اپنے متعلق لکھے ہوئے پر اعتماد کیوں نہ کرلیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’جو شخص خوش نصیبوں میں سے ہوگا وہ عنقریب خوش نصیبوں کی طرح عمل کرے گااور جو شخص برے لوگوں میں سے ہوگا وہ عنقریب برے عمل کرنے والوں میں شامل ہوگا‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’عمل کرو، نیک لوگوں کے لئے نیک اعمال آسان کردیئے جائیں گے اور برے لوگوں کے لئے برے اعمال آسان کردیئے جائیں گے‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:۔ (ترجمہ)’’جس نے صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا اور نیکی کی تصدیق کی ہم اس کے لئے نیکیوں کو آسان کردیں گے اور جس نے کنجوسی کی اور لاپرواہی کی اور نیکی کو جھٹلایا ہم اس کے لئے برائیوں کو آسان کردیں گے‘‘(سورئہ الیل 92 : آیات 5-10)۔ (عن علی رضی اللہ عنہ )
    قرآن مجید کی ایک مختصر سی آیت ہے اور اس آیتہ کریمہ میں اللہ عزوجل نے راہَ نجات کا بہترین ذکر بیاں کیا ہے
    '''عصر' کے معنی زمانہ کے ہیں۔
    سورة العصر
    مکّيّة________ اٰيات:٣
    بسم الله الرحمن الرحيم


    • وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(١۔٣)


    • ترجمہ آیات ١۔٣



    • زمانہ شاہد ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے بجز ان کے جو ایمان لائے اور
    • انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ ١۔٣



    • یہ سورت جامع اور مختصر کلام کا ہے بے نظیر نمونہ ہے ۔ اس کے اندر چند جچے تًلے الفاظ میں معنی کی ایک دنیا بھر دی گئی ہے ، جس کو بیان کرنے کا حق ایک پوری کتاب میں بھی مشکل سے ادا کیا جاسکتا ہے ۔ اس میں بالکل دو ٹوک طریقے سے بتا دیا گیا ہے کہ انسان کی فلاح کا راستہ کون سا ہے اور اس کی تباہی و بربادی کا راستہ کون سا ، امام شافعی نے بہت صیحیح کہا ہے کہ اگر لوگ اس سورت پر غور کریں تو یہی ان کی ہدایت کےلئے کافی ہے۔ صحابہء کرام کی نگاہ میں حصن الدرامی ابو مدینہ کی روایت کے مطابق اصحاب رسول میں سے جب دو آدمی ایک دوسرے سے ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ایک دوسرے سورہ عصر نا سنا لیتے ۔حوالہ طبرانی


    غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ قرآن کا بھی اصل مقصد اسی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنا، اور انسان کی شخصی و اجتماعی زندگی کو آخرت کے نصب العین کے تحت منظم کرنا ہے۔ گویا جو بات قرآن کی ایک سو چودہ سورتوں میں سمجھائی گئی ہے وہ اس سورہ کی تین آیتوں میں سمو دی گئی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ''اگر لوگ تنہا اسی سورہ ___ العصر___ پر غور کریں تو ان کے لیے کفایت کرے۔'' '''وتواصو بالحق و تواصو بالصبر' سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر حق اور صبر کی صفات موجود ہیں اور یہ ان پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ان کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ مضمون آیت کے اندر مضمر ہے اور اس کی تفریح نہیں کی گئی ہے۔ اس کی وجہ اول تو یہ ہے کہ 'اٰمنو و عملوا الصّٰلحٰت' کے اندر یہ بات موجود تھی،۔ ثانیاً وعظ بے عمل کی برائی اس قدر واضح ہے کہ اس مدح کے محل میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ لوگ دوسروں کو حق و صبر کی نصیحت کریں گے اور خود ان اوصاف سے محروم ہوں گے۔



    ۴۔ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:<إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ >۔[8]



    "اور بیشک جو لوگ ایمان لائے ہیں ، اور انھوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین خلائق ہیں " ۔
    (٨٦)۔ عَنْ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوء َكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَی شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِی إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِی إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِی إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِکِتَابِكَ الَّذِی أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيّكَ الَّذِی أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَی الْفِطْرةِ وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَکَلَّمُ بِهِ۔ (بخاری، رقم ٢٤٧)

    اسلام اور ایمان کیا ہے؟ اورایک سچے مسلمان اور مؤمن کی شخصیت کیسی ہوتی ہے؟ خدا کے ساتھ اُس کا کیا تعلق ہوتا ہے ؟ اور وہ اُس کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتا ہے؟ یہ حدیث ان سب سوالوں کا جواب دیتی ہے۔

    مسلمان اور مؤمن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات اور اپنے سب معاملات کو خدا کے حوالے کر دے، وہ ہر معاملے میں اسی کا سہارا لے اور اسی پر اعتماد کرے اس حال میں کہ اس کا دل خدا کی محبت سے لبریز اور اسی کی عظمت سے ترساں ہو۔ وہ جانتا ہو کہ خدا سے بھاگ کر کہیں کوئی جائے پناہ نہیں ،مگر اسی کے پاس اور وہ اللہ کی کتاب اور اُس کے رسول پر دل کی گہرائی سے ایمان رکھتا ہو۔

    اگر کسی شخص کے ہاں یہ سب کچھ موجود ہے تو پھر وہ واقعی اسلام اور ایمان کی دولت سے بہرہ یاب ہے۔

    راہ نجات کوئی دنیا دولت اور شہرت نہیں دے سکتی جو وقت اللہ کی رضا میں گزرے وہی سے انسان کی راہ نجات شروع ہوتی ہے ۔ اللہ غفور رحیم ہے اب بھی وقت ہے انسان اپنی آخرت سوار سکتا ہے ۔ افسوس کہ لوگ دنیاوی مصروفیات میں خود کو اس قدر کھویا رکھتے ہے ،کہ انھیں نماز کہ لئے بھی وقت نہیں ملتا ۔ اللہ کی عبادت کو بھولا بیٹھے ہیں ، جوایمان کی راہ سے ہٹ جاتے ہے ، اور دنیا کی مصنوعی رونقیں ان کہ ایمان کی روشنی بجھا دیتی ہے ۔اور بروز قیامت جب فناء کا نظارہ ہوگا تب ہوش آئے گا ،جب سب مٹ جائے گا۔ جب مہلت بھی نہیں ملے گی ،کہ ہم اپنے رب سے معافی مانگ لیں اور صراط مسقیم کا درب اپنا لیں ۔ صرف حساب ہوگا ، اسی لئے قیامت کو یومِ حساب بھی کہا گیا ہے ۔ تب سوچو دوزخ کی آگ سے کون بچائے گا ۔۔؟آج تواسی شان وشوکت کو اپنی زندگی کی راہ سمجھ رہے ہے ۔ خوفِ خدا نہیں ہے ۔بھول گیئں ہیں، جو دین اور ایمان کی راہ بھول گئےان کی راہ نجات پھر کیسی ہوگی ؟ مال و متاع میں کھونے والوں کے لئے صرف دوزخ ہے ۔موت کی گھڑی کب آجائے کس کو پتہ ،قرآن پاک میں صاف لکھا ہے کل نفس ذائقة الموت ہر نفس کو ایک دن موت آنی ہے ۔ تب سوچنے سمجھنے کی فرصت بھی نہیں ملے گی ۔ یہ دنیا خسارہ کا گھر ہے ،انسان گر غور کرے تو تو اس معلوم ہوگا کہ اصل سرمایہ اللہ اور اس کہ رسول ﷺ کی اطاعت کرنا ہی ہے ۔جو غفلت میں کھوئے ہے ان کہ لئے حقیقت کو سمجھنے کی مہلت کم ہے ۔ خود کو غلط کاموں میں ضائع نا کرے دوزخ کہ عذاب سے بچنے کے لئے،شیطان ملعون سے پناہ مانگے ، اپنے نفس کہ لئے دائمی خسارہ نا لے یہ نفس تو فانی ہے، انسان کہ خود کے ہاتھ میں ہے نفس پر قابو کرنا ، وہ چاہےاپنے لئے زندگی کو رحمت بنائے یا لعنت بنائے ۔ انسان کا اپنا عمل اسے نجات دے گا ، اس کے سوا کوئی نہیں بچا سکے گا اسے ،اور جو وقت گزر گیا وہ لوٹ کر نہیں آئےگا ۔ ہر چیز کا اللہ عزوجل حسا ب لے گا ،کہ میں نے تمہیں آگاہ کیا قرآن کہ زریعہ ہدایت نازل کی ،لیکن تم نے اللہ کے کلام کو سمجھنے کی کبھی کوشش کی ۔۔؟ اس پر عمل کیا ۔۔؟ میں نے تمہیں زندگی دی تو تم نے اسے کہاں اور کیسے صرف کی ؟ میں نے تمہارے لے فرائض دئے تو تم نے اسلام کا کونسا فرض ادا کئے ۔ میں نے گناہ اور برائی سے منع کیا تھا تو کیا تم اپنی نفس کو روکے تھے ۔؟ زندگی کی اصل قدر و قیمت کا بیان میں نے قرآن کے زریعہ تم تک پہنچایا کیا تم عمل کر سکے ؟
    ہر عمل کا حساب ہوگا اور ہر عذاب سے بچنے کا راستہ آج بھی ہمیں راہ نجات سے مل سکتا ہے تو سوچنے سمجھنے کی مہلت کم ہے اور زندگی کا کوئی ضامن نہیں ،تو مہلت ِحیات کو ماضی کی طرح ضائع نا کریں، توبہ کہ دروازے آج بھی کھولے ہیں ،اور نجات خود ہمارے اختیار میں ہمارے اپنے عمل سے ہے ۔ اورجب حقیقی ایمان پیدا ہو گا ،تو وہ لازماً زندگی کے باطنی گوشوں کی طرح اس کے ظاہری اعمال کو بھی منور کرے گا۔دعا ہے اللہ تعالی سے کہ اللہ ہمارے ایمان صبر و استقامت وعمل صالح سے وہ روشن رکھے اور ہماری آخرت سوار دے آمین

    اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ
    رائٹر :۔ ریشم



  2. #2
    Join Date
    Jan 2013
    Location
    Islamabad
    Posts
    1,031
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    4328 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    251262

    Default Re: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    Jazak Allah
    Maa Shaa Allah
    Resham
    Aap to bhot achy nasar bhi lkhti..ho
    or phir islami mozo per itni mudalil guftagu..
    bhot hi shandar sharing..
    Allah Karim ham sab amal ki tofeeq de..
    Congrats for such a great sharing..
    Thnx Dear
    آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو.حضرت علی
    Visit my blog
    http://www.homeopathypakistan.blogspot.com

    MY PAGE ON FB
    www.facebook.comhomeo

  3. #3
    Join Date
    Feb 2009
    Posts
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    Sum ameen

  4. #4
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    Subhan ALLAH Ma sha ALLAH bohat acha likha hai shaitan to kehta rehta hai banday ko khud amal karna chahiye acha likha hai ap ne Ma sha ALLAH

    eq2hdk - راہِ نجات ۔۔۔۔۔

  5. #5
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    Jazzzak Allah





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  6. #6
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Re: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    Jazak Allah

  7. #7
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    aap sab ka bhut bhut shokeriya...
    sab hamesha khush rahein....

  8. #8
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Desert
    Posts
    1,138
    Mentioned
    42 Post(s)
    Tagged
    1957 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    6

    Default Re: راہِ نجات ۔۔۔۔۔

    inshort agar insaan Qanat Pasand ho jay to kabhi bhi kum uz kum dunyavi mushkilaat ka shikar kabhi nah ho ....

    MashaAllah intihai khoubsuat aur mudalal tahreer ....

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •