Results 1 to 3 of 3

Thread: Dollar Ki Ghulami

  1. #1
    *jamshed*'s Avatar
    *jamshed* is offline کچھ یادیں ،کچھ باتیں
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    every heart
    Posts
    14,586
    Mentioned
    138 Post(s)
    Tagged
    8346 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474858

    Default Dollar Ki Ghulami


    ڈالرکی غلامی
    (سید عاصم محمود)

    ایک بچہ جب شعور سنبھالے تو اپنی نئی زندگی میں اسے عموماً روپیہ پیسہ ہی سب سے زیادہ اہم نظر آتا ہے کیونکہ اسی سے من پسند اشیا خریدنا ممکن ہے۔حالانکہ کرنسی کی اپنی کوئی اہمیت نہیں… یہ صرف اسی لیے اہم ہے کہ روپے سے اشیاء اور خدمات (سروسیز) خریدی جا سکتی ہیں ۔ گویا بنیادی اہمیت کرنسی نہیں اشیاء کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ خدانخواستہ غیر آباد جزیرے میں مقید ہوجائیں، تو وہاں شدید بھوک پیاس کے عالم میں معمولی ناریل کا پانی اور پھل ایک کھرب روپے بھی سے زیادہ قیمتی درجہ حاصل کر لے گا ۔ ممکن ہے تب انسان کو سونا اور ہیرے جواہرات بھی مٹی لگیں جنہیں پانے کی خاطر وہ عام زندگی میں ہر جائز و ناجائز کام کرتا پھرتا ہے۔ قدرت نے ارضِ پاک کو ہمہ اقسام کی اشیاء، نعمتوں اور وسائل سے نوازا ہے۔ مثلاً یہاں کپاس، گندم، چاول، پھل، سبزیاں، دالیں وغیرہ بڑی تعداد میں پیدا ہوتی ہیں۔ دریائوں و سمندروں میں لذیذ مچھلی ملتی ہے۔ یہی اشیاء ہماری کرنسی (روپے) کی قدرو قیمت بڑھاتی ہیں۔ ہمارا ملک جتنی زیادہ اشیا اور خدمات پیدا کرے، روپے کی قیمت بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستانی اشیا روپے ہی میں عالمی منڈیوں میں فروخت کی جائیں۔ یوں بین الاقوامی تجارت میں پاکستانی روپے کی مانگ بڑھے گی۔ لیکن پاکستانی حکومت سٹیٹ پاکستان کے توسط سے تمام ملکی اشیا ڈالر میں فروخت کرتی اور بیرونی مال بھی اسی کرنسی میں خریدتی ہے۔ فروخت و خرید کا یہ نظام معاشی اصطلاح میں ’’ادائیگیوں کا توازن‘‘(Balance of payments) کہلاتا ہے۔ چنانچہ کوئی ملک یا غیر ملکی کمپنی پاکستانی اشیاء خریدنا چاہتی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ عالمی کرنسی بازار سے روپے حاصل کرے اور پھر پاکستانی مال خریدے۔ بس اس کے پاس ڈالر ہونے چاہئیں۔ گویا یہ ممکن ہے کہ عالمی تجارت میں کوئی پاکستانی شے نایاب اور قیمتی بن جائے ،لیکن پاکستانی روپیہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اس وقت عالمی معیشت میں ڈالر کو ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت حاصل ہے۔ بینک دولت پاکستان ڈالر اور یورو (یورپی یونین کی کرنسی) کے ذریعے اپنا ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھتا ہے۔ اور یہ واضح رہے کہ ڈالر یا یورو کی قدر جامد و ساکت نہیں بلکہ مختلف عوامل کی بنا پر بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔ مثلاً 2008ء میں امریکہ و یورپ معاشی بحران کا شکار ہوئے تو وہاں کے سٹیٹ بینک دھڑا دھڑ نوٹ چھاپنے لگے۔ مدعا یہی تھا کہ اپنی معیشتوں خصوصاً بینکاری و رئیل سٹیٹ سیکٹروں کو سہارا دیا جائے۔ لیکن زیادہ نوٹ چھاپنے سے افراط زر (مہنگائی) جنم لیتا ہے۔ گویا عالمی تجارت میں غیر ملکی کرنسی (ڈالر و یورو) استعمال کرنے سے حکومت پاکستان نہ صرف افراط زر درآمد کرتی ہے بلکہ ہمارے روپے کی قدر بھی مزید گھٹ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈالر کو بے پناہ اہمیت کیوں ملی؟ دراصل دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ سپر پاور بن کر سامنے آیا۔ تب تباہ حال یورپی ممالک بھی اس کی امداد کے منتظر تھے۔ چنانچہ امریکی ترغیب و دھونس کے ذریعے 1944ء میں نیا مالیاتی نظام وضع کرنے میں کامیاب رہے جس میں ڈالر عالمی کرنسی بن گیا۔ یہ نظام ’’بریٹن ووڈز معاہدے‘‘(Bretton Woods Agreement ) کے ذریعے وجود میں آیا جس پہ 44 ممالک نے دستخط کیے تھے۔یوں بقیہ ممالک کو بھی نہ چاہنے کے باوجود ڈالر کو بہ حیثیت عالمی کرنسی قبول کرنا پڑا۔ لیکن بریٹن ووڈز معاہدے کی اہم ترین شق یہ تھی کہ امریکی سٹیٹ بینک (دی فیڈرل ریزرو) کے پاس جتنا سونا ہوگا ،وہ اتنے ہی ڈالر چھاپ سکے گا ۔ تاہم1971ء میں جب نیا مالیاتی عالمی نظام راسخ ہو گیا تو امریکی حکومت نے قلابازی کھائی اور فیصلہ کیا کہ وہ حسب منشا ڈالر چھاپے گی۔ یوں بریٹن ووڈز معاہدہ اپنے انجام کو پہنچا۔ لیکن عالمی تجارت میں ڈالر کی اہمیت کم نہ ہوسکی کیونکہ امریکہ ابھی تک معاشی طور سب سے طاقتور ملک چلا آرہا ہے۔ مگر عالمی تجارت میں ایک کرنسی کی اجارہ داری دراصل استعمار پسندی اور غلامی ہی کا ایک روپ ہے۔ مثلاً امریکہ جب چاہے اپنی کرنسی کی قدو قیمت بڑھا یا گھٹا دیتا ہے۔ لیکن ہم پاکستانی مجبور ہیں کہ عالمی تجارت میں ڈالر ہی کو استعمال کریں۔حتی کہ ہم اپنا’ادائیگیوں کا توازن پو را کرنے کی خاطر عالمی مالیاتی اداروں سے ڈالر ہی میں قرضہ لیتے ہیں۔چناں چہ آج وطن عزیز اربوں ڈالر کا مقروض ہو چکا۔حکومت ہر سال ’’318 ارب روپے‘‘ کی خطیر رقم صرف قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرتی ہے۔ ڈالر پہ مبنی عالمی تجارت کا نظام سراسر ہماری آزادی و خود مختاری کے خلاف ہے۔ مگر پاکستان ہی نہیں دنیا کے کئی ممالک کو بھی یہی مجبوری درپیش ہے۔ یورپی ممالک یورو کرنسی سامنے لائے تاکہ ڈالر کی اجارہ داری ختم ہوسکے لیکن انھیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ بھی مل جل کر اپنی کرنسی مثلاً درہم یا دینار سامنے لائیں۔ یوں انہیں ڈالر کے پھندے سے نکلنے میں مدد ملے گی جو دنیا بھر میں مہنگائی پیدا کرنے کا اہم سبب بن چکاہے
    Last edited by *jamshed*; 10-02-2013 at 12:07 AM.

  2. #2
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default re: Dollar Ki Ghulami

    very nice sharing

  3. #3
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Dollar Ki Ghulami

    hmmmmm





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •